<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 23:24:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 23:24:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر پائیدار فیصلہ سازی، کراچی کی صنعتیں خطرے میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291469/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک شہر پر اس وقت ایک خاص قسم کی تھکن طاری ہو جاتی ہے جب اسے ایک بار نہیں بلکہ بار بار جھوٹے وعدوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ کسی ایک دھوکے کے بعد اٹھنے والا شدید غصہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ خاموش کیفیت ہوتی ہے۔ یہ کورنگی کی وہ ماں ہے جو برسوں سے ہر ماہ اپنے گھریلو بجٹ میں وہی حساب کتاب کرتی آ رہی ہے، مگر اعداد کم ہونے کا نام نہیں لیتے، خواہ وہ پنکھے کے استعمال میں کتنی ہی احتیاط کرے، فریج کو محدود وقت کے لیے چلائے یا اندھیرا ہونے کے بعد صرف ایک بلب جلتا چھوڑے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کراچی کا وہ فیکٹری مالک ہے جو اپنے بجلی کے بل میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی اس مد کو دیکھ رہا ہے جسے نہ اس نے پیدا کیا اور نہ ہی وہ اسے چیلنج کر سکتا ہے۔ وہ سوویں مرتبہ سوچتا ہے کہ کیا یہی وہ سال ہے جب مشینیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گی۔ کراچی کو ان اداروں کی جانب سے جن کا کام اسے تحفظ فراہم کرنا ہے، ایک کے بعد ایک مایوسی برداشت کرنا پڑی ہے اور اکتوبر 2025ء میں اسے ایک اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے انتہائی نرم زبان میں پیش کیا گیا : بجلی کے نرخ میں 7.6 روپے فی یونٹ کمی، جسے ایک مہربانی کے طور پر ظاہر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو ماہ گزرنے کے بعد یہ مہربانی اس حساب کتاب کی صورت میں سامنے آئی ہے جو ریگولیٹر کے حق میں کیا گیا، جبکہ حسبِ معمول اس فرق کا بوجھ کراچی کے عوام کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کراچی حقیقت میں کیا حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک شہر کو اس کے حق سے محروم کیا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ جس شہر کے ساتھ یہ ناانصافی ہو رہی ہے وہی ملک کو سنبھالنے والے اہم ستونوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پاکستان کے ٹیکس محصولات کا سب سے بڑا حصہ پیدا کرتا ہے۔ اس کی بندرگاہیں وہ برآمدات منتقل کرتی ہیں جو ملک کے لیے زرمبادلہ کماتی ہیں، جس پر پورا ملک ایندھن، گندم اور ادویات خریدنے کے لیے انحصار کرتا ہے۔ کراچی کی ٹیکسٹائل ملیں، پیکیجنگ پلانٹس اور تجارتی ادارے لاکھوں خاندانوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں، جن کے پاس اس وقت کسی دوسرے شہر کا سہارا نہیں اگر مشینیں خاموش ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کراچی میں توانائی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے تو یہ محض مقامی مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ عین اس مقام پر لگنے والا زخم ہے جہاں ملک اس وقت خون بہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں کسی فیکٹری کے توانائی کے بل میں شامل ہونے والا ہر اضافی روپیہ ایسا روپیہ ہے جو کارکن کی اجرت میں شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایسا روپیہ ہے جو کراچی میں تیار ہونے والی قمیض کو اسی یورپی اسٹور میں بنگلہ دیش میں تیار ہونے والی قمیض کے مقابلے میں زیادہ مہنگا بنا دیتا ہے اور یہ ایسا روپیہ ہے جو خاموشی سے بغیر کسی شور کے ایسے شہر میں ایک کم روزگار میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں پہلے ہی بہت زیادہ لوگ بہت کم ملازمتوں کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صرف کوئی خیالی یا کتابی بات نہیں ہے، بلکہ یہ اس باپ کی حقیقت ہے جو کبھی کورنگی میں رات کی شفٹ میں کام کرتا تھا، مگر اب نہیں کرتا، کیونکہ مل نئی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا زخم وہ 28 ارب روپے ہیں جن کا ذکر ٹیرف میں کمی کے اعلان کے وقت نہیں کیا گیا تھا۔ نیپرا کے اکتوبر کے فیصلے نے صرف بجلی کی شرح میں کمی نہیں کی۔ اسی فیصلے میں دو سال کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے حسابات دوبارہ کھول دیے گئے، حالانکہ یہ حسابات پہلے ہی طے کیے جا چکے تھے اور بجلی صارفین کو ان کی رقم واپس بھی دی جا چکی تھی۔ ان صارفین نے شاید پہلی مرتبہ یہ سمجھا تھا کہ کوئی فیصلہ ان کے حق میں ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ان حسابات میں دوبارہ اضافہ کیا گیا اور تقریباً 28 ارب روپے ان لوگوں سے واپس لینے کی راہ ہموار کی گئی جنہوں نے یہ ریلیف پہلے ہی کرائے، بچوں کی اسکول فیس اور ان چھوٹی چھوٹی سہولتوں پر خرچ کر دیا تھا جو نسبتاً کم بجلی کے بل کی وجہ سے ایک گھرانہ اپنے بجٹ میں شامل کرنے کی امید کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سابقہ مدت کے چارج کا مطلب پورے ایک سال کے لیے مزید تقریباً 2.5 سے 3.5 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ ہے۔ یہ رقم مکمل طور پر اس یکساں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے نظام سے باہر ہے، جس کے موجود ہونے کے بارے میں زیادہ تر بجلی صارفین کو نہ کبھی بتایا گیا ہے اور نہ ہی وہ اسے سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے صنعتی بجلی صارفین واضح طور پر اس قدر پریشان تھے کہ انہیں اس معاملے کو سندھ ہائی کورٹ تک لے جانا پڑا۔ اس وقت ایک حکمِ امتناع ان 28 ارب روپے کی وصولی کو روکے ہوئے ہے، جبکہ معاملہ ایسے فیصلے کا منتظر ہے جس کی تاریخ کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن حکمِ امتناع کامیابی نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک رکی ہوئی سانس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جاری رہنے کا ہر مہینہ ایک ایسا مزید مہینہ ہے جس میں کوئی فیکٹری کسی غیر ملکی خریدار کو حتمی قیمت دینے سے قاصر رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا مزید مہینہ ہے جس میں ایک گھرانہ ایسے عدد کو سامنے رکھ کر اپنا بجٹ بناتا ہے جو کسی بھی وقت اچانک اس کے خلاف تبدیل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتِ حال میں ایک خاموش مگر انتہائی تکلیف دہ حقیقت پوشیدہ ہے : پہلے آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کو کچھ دیا گیا ہے اور کئی ماہ بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ ریلیف اس طرح ناپ تول کر دیا گیا تھا کہ اسے دوبارہ واپس لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا زخم کسی ایک عدد سے کہیں زیادہ گہرا ہے، کیونکہ معاملہ اس بات کا ہے کہ یہاں آخر کسی چیز پر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کی اکتوبر میں کی گئی تبدیلی نے صرف ایک عدد میں نظرثانی نہیں کی بلکہ اسی سال مئی میں کیے گئے اپنے ہی فیصلے کو ختم کر دیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو دو سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی سماعتوں، تجاویز اور عوامی مشاورت کے بعد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ہی ماہ میں اس فیصلے کو ختم کر دینا ہر سرمایہ کار، ہر قرض دینے والے ادارے اور ہر اس عام بجلی صارف کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے جو ایک سال آگے کی منصوبہ بندی کرنا چاہتا ہے کہ یہاں کاغذ پر درج کوئی بھی فیصلہ حقیقت میں حتمی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ نے اس صورتحال کو فوراً سمجھ لیا اور خوف کی صورتحال میں مارکیٹ عموماً جس طرح ردعمل دیتی ہے، ویسا ہی ہوا۔ کراچی کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے حصص کی قیمت گر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص یافتگان نے کھلے عام بین الاقوامی ثالثی کی بات شروع کر دی۔ جبکہ شنگھائی الیکٹرک پاور نے کئی سال تک کے الیکٹرک کو 1.77 ارب ڈالر میں خریدنے کی کوشش کے بعد بالآخر پیچھے ہٹتے ہوئے اس کی وجہ ریگولیٹری نظام میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مالیاتی تجزیہ کار اب اندازہ لگا رہے ہیں کہ مالی سال 2024ء میں کے الیکٹرک کا تقریباً 4 ارب روپے کا منافع 70 سے 80 ارب روپے کے نقصان میں تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو مجموعی سالانہ نقصان تقریباً 100 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعداد و شمار کے پیچھے اس سے بھی زیادہ اہم حقیقت موجود ہے۔اگر بجلی کی کمپنی کے سرمایہ کار اپنے ہی ریگولیٹر کے فیصلوں پر اعتماد نہیں کر سکتے تو ان کے پاس کراچی کے بجلی کے نظام میں سرمایہ کاری کرنے کی کیا وجہ رہ جاتی ہے؟ اور پھر ہر مستقبل کے اضافی مالی بوجھ کو ان لوگوں تک منتقل کرنے کی ترغیب بڑھ جاتی ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی واحد نجی بجلی کمپنی اور حکومت کی جانب سے پورے ملک میں بجلی کے شعبے کی نجکاری کی امیدیں، دونوں کا عملی طور پر امتحان ہو رہا ہے۔ اس امتحان میں ناکامی کراچی کی نہیں بلکہ اس وعدے کی ہے کہ ایک مرتبہ قواعد طے کر دیے جائیں تو وہ برقرار رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا زخم وہ ہے جو نہ کوئی سوال پوچھتا ہے اور نہ کسی سماعت کا انتظار کرتا ہے، کیونکہ اس کا جواب برسوں سے نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی صنعتوں کو اب بھی کووڈ کے دور میں دی جانے والی 33 ارب روپے کی ریلیف سبسڈی وصول نہیں ہوئی۔ یہ رقم خاص طور پر صنعتی شعبے کے لیے مختص کی گئی تھی، اس کا اعلان بھی بڑے زور و شور سے کیا گیا تھا، مگر یہ رقم کبھی ادا نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی ایسا متنازع دعویٰ نہیں جو کسی عدالت یا ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہو۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو کیا گیا، پھر خاموشی سے اسے بھلا دیا گیا، جبکہ یہی صنعتیں مسلسل اپنے ٹیکس ادا کرتی رہیں اور ان بحری جہازوں کو مال فراہم کرتی رہیں جو ملک کی برآمدات بیرونِ ملک لے کر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کو 28 ارب روپے کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی واپسی کے معاملے کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک انتہائی ناخوشگوار حقیقت سامنے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی سے جو رقم ریگولیٹر کو وصول کرنی ہوتی ہے، وہ حیرت انگیز رفتار سے آگے بڑھتی ہے، جس کے پیچھے احکامات، مقررہ تاریخیں اور وصولی کے طریقہ کار موجود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جو رقم کراچی کو ادا کی جانی ہے، وہ کہیں فائلوں میں پڑی رہتی ہے، نہ اس کا ذکر ہوتا ہے، نہ اس میں مہنگائی یا وقت کے حساب سے کوئی اضافہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے فوری معاملہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق محض دفتری سست روی کا اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا طرزِ عمل بن چکا ہے جو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کس کے دعوے کو حقیقی سمجھا جاتا ہے اور کس کی آواز کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام مسائل سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بدانتظامی سے ہونے والا نقصان اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔جب توقع سے زیادہ بجلی کا بل آتا ہے تو اب کوئی حیران نہیں ہوتا۔ کسی کو یہ توقع بھی نہیں رہتی کہ اعلان کردہ سبسڈی واقعی مل جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر نے بحث یا دلیل سے نہیں بلکہ بار بار کے تجربے سے یہ سیکھ لیا ہے کہ بجلی کا سوئچ دوبارہ اس کے حق میں نہیں ہو گا اور جب کوئی شہر اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری بھی کم کر دیتا ہے، جس کے اثرات کو بعد میں واپس پلٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔فیکٹریاں توسیع کے منصوبے مؤخر کر دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندان اپنے بچوں کو اس کاروبار یا ہنر میں رہنے سے روکتے ہیں جسے ان کے والد نے کئی دہائیوں میں قائم کیا تھا۔غیر ملکی شراکت دار معاہدہ طے ہونے سے پہلے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ان میں سے کوئی بھی چیز کسی ایک ٹیرف نوٹیفکیشن میں نظر نہیں آتی، لیکن یہ سب ایک ہی مسئلے سے جڑی ہوئی ہیں : ایسا ریگولیٹری تعلق جو اعتماد کے بجائے ماضی کے فیصلوں کی بنیاد پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے اور وعدوں کی عدم ادائیگی پر قائم ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کو سخاوت کے نام پر پیش کیا جانے والا ایک اور اعلان نہیں چاہیے۔ اسے ایک پائیدار اور مستقل پالیسی چاہیے، جس کا آغاز ایسے بجلی کے ٹیرف سے ہو جو اس حجم کی بجلی کی کمپنی کے لیے مناسب ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف طے ہونے کے بعد اسے مستحکم رہنا چاہیے تاکہ کوئی فیکٹری پورے سال کی منصوبہ بندی اس خوف کے بغیر کر سکے کہ 18 ماہ بعد اچانک پچھلے عرصے کا اضافی بل اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کو یہ بھی ضرورت ہے کہ 28 ارب روپے کی ایف سی اے کی واپسی کے معاملے کا حتمی فیصلہ کیا جائے اور اسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے، نہ کہ صرف حکمِ امتناع کے پیچھے روک دیا جائے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے اور اسے چار سال پرانی وہ سبسڈی بھی آخرکار ادا کی جائے جو شروع سے ہی ان صنعتوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ایسا نہیں ہوتا کراچی کی روشنیاں اس انداز میں ٹمٹماتی رہیں گی جسے کوئی انجینئر درست نہیں کر سکتا، کیونکہ اصل خرابی بجلی کی تاروں میں نہیں ہے۔اصل خرابی اس نظام میں ہے جو بار بار اس شہر سے جو پورے ملک کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، مزید بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے اور اسے ریلیف کا نام دے دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک شہر پر اس وقت ایک خاص قسم کی تھکن طاری ہو جاتی ہے جب اسے ایک بار نہیں بلکہ بار بار جھوٹے وعدوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ کسی ایک دھوکے کے بعد اٹھنے والا شدید غصہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ خاموش کیفیت ہوتی ہے۔ یہ کورنگی کی وہ ماں ہے جو برسوں سے ہر ماہ اپنے گھریلو بجٹ میں وہی حساب کتاب کرتی آ رہی ہے، مگر اعداد کم ہونے کا نام نہیں لیتے، خواہ وہ پنکھے کے استعمال میں کتنی ہی احتیاط کرے، فریج کو محدود وقت کے لیے چلائے یا اندھیرا ہونے کے بعد صرف ایک بلب جلتا چھوڑے۔</strong></p>
<p>یہ کراچی کا وہ فیکٹری مالک ہے جو اپنے بجلی کے بل میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی اس مد کو دیکھ رہا ہے جسے نہ اس نے پیدا کیا اور نہ ہی وہ اسے چیلنج کر سکتا ہے۔ وہ سوویں مرتبہ سوچتا ہے کہ کیا یہی وہ سال ہے جب مشینیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گی۔ کراچی کو ان اداروں کی جانب سے جن کا کام اسے تحفظ فراہم کرنا ہے، ایک کے بعد ایک مایوسی برداشت کرنا پڑی ہے اور اکتوبر 2025ء میں اسے ایک اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے انتہائی نرم زبان میں پیش کیا گیا : بجلی کے نرخ میں 7.6 روپے فی یونٹ کمی، جسے ایک مہربانی کے طور پر ظاہر کیا گیا۔</p>
<p>نو ماہ گزرنے کے بعد یہ مہربانی اس حساب کتاب کی صورت میں سامنے آئی ہے جو ریگولیٹر کے حق میں کیا گیا، جبکہ حسبِ معمول اس فرق کا بوجھ کراچی کے عوام کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔</p>
<p>سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کراچی حقیقت میں کیا حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک شہر کو اس کے حق سے محروم کیا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ جس شہر کے ساتھ یہ ناانصافی ہو رہی ہے وہی ملک کو سنبھالنے والے اہم ستونوں میں شامل ہے۔</p>
<p>کراچی پاکستان کے ٹیکس محصولات کا سب سے بڑا حصہ پیدا کرتا ہے۔ اس کی بندرگاہیں وہ برآمدات منتقل کرتی ہیں جو ملک کے لیے زرمبادلہ کماتی ہیں، جس پر پورا ملک ایندھن، گندم اور ادویات خریدنے کے لیے انحصار کرتا ہے۔ کراچی کی ٹیکسٹائل ملیں، پیکیجنگ پلانٹس اور تجارتی ادارے لاکھوں خاندانوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں، جن کے پاس اس وقت کسی دوسرے شہر کا سہارا نہیں اگر مشینیں خاموش ہو جائیں۔</p>
<p>جب کراچی میں توانائی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے تو یہ محض مقامی مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ عین اس مقام پر لگنے والا زخم ہے جہاں ملک اس وقت خون بہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>یہاں کسی فیکٹری کے توانائی کے بل میں شامل ہونے والا ہر اضافی روپیہ ایسا روپیہ ہے جو کارکن کی اجرت میں شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایسا روپیہ ہے جو کراچی میں تیار ہونے والی قمیض کو اسی یورپی اسٹور میں بنگلہ دیش میں تیار ہونے والی قمیض کے مقابلے میں زیادہ مہنگا بنا دیتا ہے اور یہ ایسا روپیہ ہے جو خاموشی سے بغیر کسی شور کے ایسے شہر میں ایک کم روزگار میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں پہلے ہی بہت زیادہ لوگ بہت کم ملازمتوں کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ صرف کوئی خیالی یا کتابی بات نہیں ہے، بلکہ یہ اس باپ کی حقیقت ہے جو کبھی کورنگی میں رات کی شفٹ میں کام کرتا تھا، مگر اب نہیں کرتا، کیونکہ مل نئی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔</p>
<p>پہلا زخم وہ 28 ارب روپے ہیں جن کا ذکر ٹیرف میں کمی کے اعلان کے وقت نہیں کیا گیا تھا۔ نیپرا کے اکتوبر کے فیصلے نے صرف بجلی کی شرح میں کمی نہیں کی۔ اسی فیصلے میں دو سال کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے حسابات دوبارہ کھول دیے گئے، حالانکہ یہ حسابات پہلے ہی طے کیے جا چکے تھے اور بجلی صارفین کو ان کی رقم واپس بھی دی جا چکی تھی۔ ان صارفین نے شاید پہلی مرتبہ یہ سمجھا تھا کہ کوئی فیصلہ ان کے حق میں ہوا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں ان حسابات میں دوبارہ اضافہ کیا گیا اور تقریباً 28 ارب روپے ان لوگوں سے واپس لینے کی راہ ہموار کی گئی جنہوں نے یہ ریلیف پہلے ہی کرائے، بچوں کی اسکول فیس اور ان چھوٹی چھوٹی سہولتوں پر خرچ کر دیا تھا جو نسبتاً کم بجلی کے بل کی وجہ سے ایک گھرانہ اپنے بجٹ میں شامل کرنے کی امید کرتا ہے۔</p>
<p>اس سابقہ مدت کے چارج کا مطلب پورے ایک سال کے لیے مزید تقریباً 2.5 سے 3.5 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ ہے۔ یہ رقم مکمل طور پر اس یکساں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے نظام سے باہر ہے، جس کے موجود ہونے کے بارے میں زیادہ تر بجلی صارفین کو نہ کبھی بتایا گیا ہے اور نہ ہی وہ اسے سمجھتے ہیں۔</p>
<p>کراچی کے صنعتی بجلی صارفین واضح طور پر اس قدر پریشان تھے کہ انہیں اس معاملے کو سندھ ہائی کورٹ تک لے جانا پڑا۔ اس وقت ایک حکمِ امتناع ان 28 ارب روپے کی وصولی کو روکے ہوئے ہے، جبکہ معاملہ ایسے فیصلے کا منتظر ہے جس کی تاریخ کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن حکمِ امتناع کامیابی نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک رکی ہوئی سانس ہے۔</p>
<p>اس کے جاری رہنے کا ہر مہینہ ایک ایسا مزید مہینہ ہے جس میں کوئی فیکٹری کسی غیر ملکی خریدار کو حتمی قیمت دینے سے قاصر رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا مزید مہینہ ہے جس میں ایک گھرانہ ایسے عدد کو سامنے رکھ کر اپنا بجٹ بناتا ہے جو کسی بھی وقت اچانک اس کے خلاف تبدیل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس صورتِ حال میں ایک خاموش مگر انتہائی تکلیف دہ حقیقت پوشیدہ ہے : پہلے آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کو کچھ دیا گیا ہے اور کئی ماہ بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ ریلیف اس طرح ناپ تول کر دیا گیا تھا کہ اسے دوبارہ واپس لیا جا سکے۔</p>
<p>دوسرا زخم کسی ایک عدد سے کہیں زیادہ گہرا ہے، کیونکہ معاملہ اس بات کا ہے کہ یہاں آخر کسی چیز پر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>نیپرا کی اکتوبر میں کی گئی تبدیلی نے صرف ایک عدد میں نظرثانی نہیں کی بلکہ اسی سال مئی میں کیے گئے اپنے ہی فیصلے کو ختم کر دیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو دو سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی سماعتوں، تجاویز اور عوامی مشاورت کے بعد کیا گیا تھا۔</p>
<p>چند ہی ماہ میں اس فیصلے کو ختم کر دینا ہر سرمایہ کار، ہر قرض دینے والے ادارے اور ہر اس عام بجلی صارف کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے جو ایک سال آگے کی منصوبہ بندی کرنا چاہتا ہے کہ یہاں کاغذ پر درج کوئی بھی فیصلہ حقیقت میں حتمی نہیں ہے۔</p>
<p>مارکیٹ نے اس صورتحال کو فوراً سمجھ لیا اور خوف کی صورتحال میں مارکیٹ عموماً جس طرح ردعمل دیتی ہے، ویسا ہی ہوا۔ کراچی کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے حصص کی قیمت گر گئی۔</p>
<p>حصص یافتگان نے کھلے عام بین الاقوامی ثالثی کی بات شروع کر دی۔ جبکہ شنگھائی الیکٹرک پاور نے کئی سال تک کے الیکٹرک کو 1.77 ارب ڈالر میں خریدنے کی کوشش کے بعد بالآخر پیچھے ہٹتے ہوئے اس کی وجہ ریگولیٹری نظام میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مالیاتی تجزیہ کار اب اندازہ لگا رہے ہیں کہ مالی سال 2024ء میں کے الیکٹرک کا تقریباً 4 ارب روپے کا منافع 70 سے 80 ارب روپے کے نقصان میں تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو مجموعی سالانہ نقصان تقریباً 100 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ان اعداد و شمار کے پیچھے اس سے بھی زیادہ اہم حقیقت موجود ہے۔اگر بجلی کی کمپنی کے سرمایہ کار اپنے ہی ریگولیٹر کے فیصلوں پر اعتماد نہیں کر سکتے تو ان کے پاس کراچی کے بجلی کے نظام میں سرمایہ کاری کرنے کی کیا وجہ رہ جاتی ہے؟ اور پھر ہر مستقبل کے اضافی مالی بوجھ کو ان لوگوں تک منتقل کرنے کی ترغیب بڑھ جاتی ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>ملک کی واحد نجی بجلی کمپنی اور حکومت کی جانب سے پورے ملک میں بجلی کے شعبے کی نجکاری کی امیدیں، دونوں کا عملی طور پر امتحان ہو رہا ہے۔ اس امتحان میں ناکامی کراچی کی نہیں بلکہ اس وعدے کی ہے کہ ایک مرتبہ قواعد طے کر دیے جائیں تو وہ برقرار رہیں گے۔</p>
<p>تیسرا زخم وہ ہے جو نہ کوئی سوال پوچھتا ہے اور نہ کسی سماعت کا انتظار کرتا ہے، کیونکہ اس کا جواب برسوں سے نہیں دیا گیا۔</p>
<p>کراچی کی صنعتوں کو اب بھی کووڈ کے دور میں دی جانے والی 33 ارب روپے کی ریلیف سبسڈی وصول نہیں ہوئی۔ یہ رقم خاص طور پر صنعتی شعبے کے لیے مختص کی گئی تھی، اس کا اعلان بھی بڑے زور و شور سے کیا گیا تھا، مگر یہ رقم کبھی ادا نہیں کی گئی۔</p>
<p>یہ کوئی ایسا متنازع دعویٰ نہیں جو کسی عدالت یا ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہو۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو کیا گیا، پھر خاموشی سے اسے بھلا دیا گیا، جبکہ یہی صنعتیں مسلسل اپنے ٹیکس ادا کرتی رہیں اور ان بحری جہازوں کو مال فراہم کرتی رہیں جو ملک کی برآمدات بیرونِ ملک لے کر جاتے ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال کو 28 ارب روپے کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی واپسی کے معاملے کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک انتہائی ناخوشگوار حقیقت سامنے آتی ہے۔</p>
<p>کراچی سے جو رقم ریگولیٹر کو وصول کرنی ہوتی ہے، وہ حیرت انگیز رفتار سے آگے بڑھتی ہے، جس کے پیچھے احکامات، مقررہ تاریخیں اور وصولی کے طریقہ کار موجود ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن جو رقم کراچی کو ادا کی جانی ہے، وہ کہیں فائلوں میں پڑی رہتی ہے، نہ اس کا ذکر ہوتا ہے، نہ اس میں مہنگائی یا وقت کے حساب سے کوئی اضافہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے فوری معاملہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق محض دفتری سست روی کا اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا طرزِ عمل بن چکا ہے جو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کس کے دعوے کو حقیقی سمجھا جاتا ہے اور کس کی آواز کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p>ان تمام مسائل سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بدانتظامی سے ہونے والا نقصان اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔جب توقع سے زیادہ بجلی کا بل آتا ہے تو اب کوئی حیران نہیں ہوتا۔ کسی کو یہ توقع بھی نہیں رہتی کہ اعلان کردہ سبسڈی واقعی مل جائے گی۔</p>
<p>شہر نے بحث یا دلیل سے نہیں بلکہ بار بار کے تجربے سے یہ سیکھ لیا ہے کہ بجلی کا سوئچ دوبارہ اس کے حق میں نہیں ہو گا اور جب کوئی شہر اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری بھی کم کر دیتا ہے، جس کے اثرات کو بعد میں واپس پلٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔فیکٹریاں توسیع کے منصوبے مؤخر کر دیتی ہیں۔</p>
<p>خاندان اپنے بچوں کو اس کاروبار یا ہنر میں رہنے سے روکتے ہیں جسے ان کے والد نے کئی دہائیوں میں قائم کیا تھا۔غیر ملکی شراکت دار معاہدہ طے ہونے سے پہلے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ان میں سے کوئی بھی چیز کسی ایک ٹیرف نوٹیفکیشن میں نظر نہیں آتی، لیکن یہ سب ایک ہی مسئلے سے جڑی ہوئی ہیں : ایسا ریگولیٹری تعلق جو اعتماد کے بجائے ماضی کے فیصلوں کی بنیاد پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے اور وعدوں کی عدم ادائیگی پر قائم ہو گیا ہے۔</p>
<p>کراچی کو سخاوت کے نام پر پیش کیا جانے والا ایک اور اعلان نہیں چاہیے۔ اسے ایک پائیدار اور مستقل پالیسی چاہیے، جس کا آغاز ایسے بجلی کے ٹیرف سے ہو جو اس حجم کی بجلی کی کمپنی کے لیے مناسب ہو۔</p>
<p>ٹیرف طے ہونے کے بعد اسے مستحکم رہنا چاہیے تاکہ کوئی فیکٹری پورے سال کی منصوبہ بندی اس خوف کے بغیر کر سکے کہ 18 ماہ بعد اچانک پچھلے عرصے کا اضافی بل اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔</p>
<p>کراچی کو یہ بھی ضرورت ہے کہ 28 ارب روپے کی ایف سی اے کی واپسی کے معاملے کا حتمی فیصلہ کیا جائے اور اسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے، نہ کہ صرف حکمِ امتناع کے پیچھے روک دیا جائے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے اور اسے چار سال پرانی وہ سبسڈی بھی آخرکار ادا کی جائے جو شروع سے ہی ان صنعتوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔</p>
<p>جب تک ایسا نہیں ہوتا کراچی کی روشنیاں اس انداز میں ٹمٹماتی رہیں گی جسے کوئی انجینئر درست نہیں کر سکتا، کیونکہ اصل خرابی بجلی کی تاروں میں نہیں ہے۔اصل خرابی اس نظام میں ہے جو بار بار اس شہر سے جو پورے ملک کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، مزید بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے اور اسے ریلیف کا نام دے دیتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291469</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 13:37:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اکرام راجپوت)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/20203000ee5ecdb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/20203000ee5ecdb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
