<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 19:55:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 19:55:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہڑتالوں، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے یومیہ 120 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوسکتا ہے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291463/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ ہڑتالوں، دھرنوں، لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش کے باعث تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے ملکی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ متوقع یومیہ نقصان میں خدمات کے شعبے کا 86 ارب روپے، صنعت کا 25 ارب روپے جبکہ زراعت کا 9 ارب روپے کا نقصان شامل ہے۔ معاشی سرگرمیوں میں خلل سے تعمیرات، تیار اشیا، خام مال اور سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ زراعت کے شعبے کو نقل و حمل، جلد خراب ہونے والی اشیا، ڈیری سپلائی چین اور زرعی تجارت میں رکاوٹ سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں خلل کا فوری بوجھ عام شہریوں، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد، چھوٹے دکانداروں اور چھوٹے کاروباروں پر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کی 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس میں آیا اور یہ رجحان رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں بھی برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں بہتری جاری ہے جبکہ آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ گزشتہ مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ رواں سال یہ 4 فیصد سے تجاوز کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال اشیا کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ یومیہ اوسط برآمدات تقریباً 90 ملین ڈالر ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال پہلے ہی برآمد کنندگان اور کاروباری برادری پر دباؤ ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ انٹرنیٹ یا رابطوں میں کسی بھی خلل سے آئی ٹی برآمدات شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔ اگست میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 311 ملین ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے مسائل مذاکرات اور اتفاقِ رائے سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام اور ترقی کی رفتار کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ ہڑتالوں، دھرنوں، لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش کے باعث تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے ملکی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ متوقع یومیہ نقصان میں خدمات کے شعبے کا 86 ارب روپے، صنعت کا 25 ارب روپے جبکہ زراعت کا 9 ارب روپے کا نقصان شامل ہے۔ معاشی سرگرمیوں میں خلل سے تعمیرات، تیار اشیا، خام مال اور سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ زراعت کے شعبے کو نقل و حمل، جلد خراب ہونے والی اشیا، ڈیری سپلائی چین اور زرعی تجارت میں رکاوٹ سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں خلل کا فوری بوجھ عام شہریوں، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد، چھوٹے دکانداروں اور چھوٹے کاروباروں پر پڑے گا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کی 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس میں آیا اور یہ رجحان رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں بھی برقرار رہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں بہتری جاری ہے جبکہ آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ گزشتہ مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ رواں سال یہ 4 فیصد سے تجاوز کرسکتی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال اشیا کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ یومیہ اوسط برآمدات تقریباً 90 ملین ڈالر ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال پہلے ہی برآمد کنندگان اور کاروباری برادری پر دباؤ ڈال رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ انٹرنیٹ یا رابطوں میں کسی بھی خلل سے آئی ٹی برآمدات شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔ اگست میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 311 ملین ڈالر رہی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے مسائل مذاکرات اور اتفاقِ رائے سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام اور ترقی کی رفتار کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291463</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 09:41:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2109405626a235b.webp" type="image/webp" medium="image" height="590" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2109405626a235b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
