<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرعی ماہرین کا حکومت سے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291453/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زرعی ماہرین نے پاکستان میں کاشتکاروں اور شوگر انڈسٹری کو کسی بھی بحرانی صورتحال سے بچانے کے لیے وفاقی حکومت سے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا  مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خیالات کا اظہار زرعی ماہرین نے  نیشنل پریس کلب میں منعقدہ ایک سیمینار کے دوران کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر ماہرین کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے زرعی ماہر خان فراز نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن  کی رپورٹس کا حوالہ دیا، جن میں ملک میں چینی کے وافر ذخائر کی وجہ سے گنے کی آنے والی کرشنگ کا سیزن تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹس میں بحران سے بچنے کے لیے 10 لاکھ ٹن چینی کی فوری برآمد کی اجازت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں شوگر مل مالکان 2026-27ء کی فصل کی کرشنگ شروع کرنے سے پہلے پچھلے سیزن کی اضافی چینی فروخت کرنا چاہتے ہیں، بصورت دیگر ان کا کہنا ہے کہ وہ کسانوں کو بروقت ادائیگی نہیں کر سکیں گے، جس سے مالی نقصان بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایم اے کے صدر کے مطابق اس وقت ملک میں 15 لاکھ 20 ہزار (1.52 ملین) ٹن کا اضافی اسٹاک موجود ہے، جبکہ رواں سال گنے کی فصل بھی بہترین ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زرعی ماہرین نے پاکستان میں کاشتکاروں اور شوگر انڈسٹری کو کسی بھی بحرانی صورتحال سے بچانے کے لیے وفاقی حکومت سے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا  مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>ان خیالات کا اظہار زرعی ماہرین نے  نیشنل پریس کلب میں منعقدہ ایک سیمینار کے دوران کیا۔</p>
<p>دیگر ماہرین کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے زرعی ماہر خان فراز نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن  کی رپورٹس کا حوالہ دیا، جن میں ملک میں چینی کے وافر ذخائر کی وجہ سے گنے کی آنے والی کرشنگ کا سیزن تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹس میں بحران سے بچنے کے لیے 10 لاکھ ٹن چینی کی فوری برآمد کی اجازت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں شوگر مل مالکان 2026-27ء کی فصل کی کرشنگ شروع کرنے سے پہلے پچھلے سیزن کی اضافی چینی فروخت کرنا چاہتے ہیں، بصورت دیگر ان کا کہنا ہے کہ وہ کسانوں کو بروقت ادائیگی نہیں کر سکیں گے، جس سے مالی نقصان بھی ہوگا۔</p>
<p>پی ایس ایم اے کے صدر کے مطابق اس وقت ملک میں 15 لاکھ 20 ہزار (1.52 ملین) ٹن کا اضافی اسٹاک موجود ہے، جبکہ رواں سال گنے کی فصل بھی بہترین ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291453</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Sep 2026 12:15:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/201208370443f51.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/201208370443f51.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
