<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 20:31:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 20:31:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت 10 روزہ اوسط سے کم پر برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291393/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیج میں آبنائے ہرمز سے جمعرات کو چار تجارتی جہاز گزرے، جو ایک روز قبل کے چھ جہازوں کے مقابلے میں کم اور گزشتہ 10 روز کی اوسط تقریباً 16 جہازوں سے بھی نمایاں طور پر کم ہیں۔ ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے مطابق چار میں سے تین جہاز خلیج میں داخل ہوئے جبکہ ایک باہر نکلا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شپ ٹریکر کیلپر کے مطابق ان جہازوں میں دو پینامیکس ٹینکرز، ایک سپرا میکس اور ایک کامسار میکس جہاز شامل تھا۔ تنازع سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جمعرات کو یمن کے جنوب مغربی سرے پر واقع آبنائے باب المندب سے 23 تجارتی جہاز گزرے، جو گزشتہ 10 روز کی تقریباً 26 جہازوں کی اوسط سے کم ہیں۔ ان میں 13 جہاز بحیرہ احمر اور 10 خلیج عدن کی جانب گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے یمن کے پورے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے پر قبضے کے بعد سعودی فضائی حملوں نے خطے میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیج میں آبنائے ہرمز سے جمعرات کو چار تجارتی جہاز گزرے، جو ایک روز قبل کے چھ جہازوں کے مقابلے میں کم اور گزشتہ 10 روز کی اوسط تقریباً 16 جہازوں سے بھی نمایاں طور پر کم ہیں۔ ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے مطابق چار میں سے تین جہاز خلیج میں داخل ہوئے جبکہ ایک باہر نکلا۔</strong></p>
<p>شپ ٹریکر کیلپر کے مطابق ان جہازوں میں دو پینامیکس ٹینکرز، ایک سپرا میکس اور ایک کامسار میکس جہاز شامل تھا۔ تنازع سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب جمعرات کو یمن کے جنوب مغربی سرے پر واقع آبنائے باب المندب سے 23 تجارتی جہاز گزرے، جو گزشتہ 10 روز کی تقریباً 26 جہازوں کی اوسط سے کم ہیں۔ ان میں 13 جہاز بحیرہ احمر اور 10 خلیج عدن کی جانب گئے۔</p>
<p>ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے یمن کے پورے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے پر قبضے کے بعد سعودی فضائی حملوں نے خطے میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291393</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Sep 2026 13:54:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/18135304b496ff7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/18135304b496ff7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
