<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 20:30:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 20:30:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں کافی کا بڑھتا رجحان، کیا یہ ببل پھوٹنے کے قریب ہے؟ دیکھیں لوپ کافی کے بانی کی رائے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291383/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بزنس ریکارڈر کے ’مائنڈنگ یور بزنس‘ کے تازہ ترین پروگرام میں لوپ کافی کے بانی انس زواری نے اپنے کاروباری سفر کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کئی سال کے خسارے کے بعد ’ہیپی ڈونٹس‘ بند کرنے سے لے کر ایسا کافی برانڈ قائم کرنے تک کے سفر پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد پاکستان کے متوسط طبقے کے لیے کافی کو زیادہ قابلِ رسائی بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انس زواری نے بتایا کہ ان کے خیال میں کافی کس طرح ایک محدود طبقے کی پسند کی مصنوعات سے بڑھ کر روزمرہ کی بڑھتی ہوئی ضرورت بن گئی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کراچی میں رجسٹرڈ کافی کے استعمال میں نمایاں اضافے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے لوپ کی اس حکمت عملی کی بھی وضاحت کی جس کے تحت سپلائی چین کو مربوط کرکے قیمتیں کم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس عمل میں کافی کے بیج درآمد کرنے اور انہیں روسٹ کرنے سے لے کر اپنی برانچز کو فراہم کرنے تک کے مراحل شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غیر متوقع طور پر سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والی مقبولیت نے برانڈ کے آغاز میں کس طرح مدد فراہم کی۔ انس زواری نے ناکامی سے حاصل ہونے والے اسباق، کاروبار کو وسعت دینے سے پہلے اپنے مالی اعداد و شمار کو سمجھنے کی اہمیت اور اس بات پر بھی گفتگو کی کہ کاروباری افراد کو صرف پیسے کے حصول کے بجائے ایسا کام اختیار کرنا چاہیے جس سے وہ حقیقی طور پر لطف اندوز ہوتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بزنس ریکارڈر کے ’مائنڈنگ یور بزنس‘ کے تازہ ترین پروگرام میں لوپ کافی کے بانی انس زواری نے اپنے کاروباری سفر کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کئی سال کے خسارے کے بعد ’ہیپی ڈونٹس‘ بند کرنے سے لے کر ایسا کافی برانڈ قائم کرنے تک کے سفر پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد پاکستان کے متوسط طبقے کے لیے کافی کو زیادہ قابلِ رسائی بنانا ہے۔</strong></p>
<p>انس زواری نے بتایا کہ ان کے خیال میں کافی کس طرح ایک محدود طبقے کی پسند کی مصنوعات سے بڑھ کر روزمرہ کی بڑھتی ہوئی ضرورت بن گئی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کراچی میں رجسٹرڈ کافی کے استعمال میں نمایاں اضافے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے لوپ کی اس حکمت عملی کی بھی وضاحت کی جس کے تحت سپلائی چین کو مربوط کرکے قیمتیں کم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس عمل میں کافی کے بیج درآمد کرنے اور انہیں روسٹ کرنے سے لے کر اپنی برانچز کو فراہم کرنے تک کے مراحل شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غیر متوقع طور پر سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والی مقبولیت نے برانڈ کے آغاز میں کس طرح مدد فراہم کی۔ انس زواری نے ناکامی سے حاصل ہونے والے اسباق، کاروبار کو وسعت دینے سے پہلے اپنے مالی اعداد و شمار کو سمجھنے کی اہمیت اور اس بات پر بھی گفتگو کی کہ کاروباری افراد کو صرف پیسے کے حصول کے بجائے ایسا کام اختیار کرنا چاہیے جس سے وہ حقیقی طور پر لطف اندوز ہوتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291383</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Sep 2026 10:55:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملٹی میڈیا ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/z93MPgo984w/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/z93MPgo984w/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=z93MPgo984w"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
