<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 15:17:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 15:17:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈ کی سخت پالیسی سے روپے پر دباؤ، بڑھتی تیل قیمتیں پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہیں، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291364/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے سے پاکستان پر فوری طور پر کوئی بڑا اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے، تاہم اس سے روپے پر دباؤ، ڈالر میں قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں اضافہ اور مستقبل میں بیرونی قرضے مزید مہنگے ہوسکتے ہیں۔ یہ بات مارکیٹ ماہرین نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود میں ایک چوتھائی فیصد اضافہ کرتے ہوئے بینچ مارک اوور نائٹ شرح کو 3.75 سے 4.00 فیصد کی حد تک پہنچا دیا۔ یہ نئے فیڈ چیئرمین کیون وارش کے دور میں پہلا پالیسی اقدام ہے، جنہوں نے مئی کے آخر میں عہدہ سنبھالا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ تخمینوں کے مطابق 18 میں سے 16 پالیسی سازوں کو رواں سال کے اختتام تک کم از کم مزید 25 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ فیڈ کی شرحِ سود میں اضافہ  روپے پر کچھ دباؤ ڈال سکتا ہے اور عالمی مالیاتی حالات سخت کرسکتا ہے، جبکہ مستقبل میں بیرونی قرض لینا مہنگا ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مگر پاکستان کی قلیل مدتی فنانسنگ نسبتاً محفوظ ہے کیونکہ ستمبر میں جاری کیا گیا 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ پہلے ہی طے ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقاص غنی کے مطابق فوری طور پر بڑا خطرہ بلند تیل قیمتیں ہیں کیونکہ ان کا پاکستان کے درآمدی بل اور بیرونی کھاتے پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے کہا کہ فیڈ کی جانب سے 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ اور مزید سخت پالیسی کے اشارے اپنے طور پر پاکستان کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہونے کا امکان ظاہر نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، مقامی قرض مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت نسبتاً محدود ہے، جبکہ حالیہ 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ بھی شرحِ سود میں اضافے سے قبل جاری کیا جاچکا تھا، اس لیے روپے اور سرمایہ کے بہاؤ پر براہِ راست دباؤ محدود رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد حنیف نے کہا کہ  زیادہ اہم ذریعہ مانیٹری پالیسی ہے۔ ان کے مطابق اگست میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی 11.1 فیصد ہونے کے باعث موجودہ مہنگائی کی بنیاد پر پاکستان کی حقیقی پالیسی شرح تقریباً 0.4 فیصد ہے۔ اس لیے فیڈ کی سخت پالیسی قلیل مدت میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات محدود کرسکتی ہے اور اگر روپے یا مہنگائی کی توقعات پر دباؤ بڑھا تو اسٹیٹ بینک بھی سخت پالیسی اختیار کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایس او ایف آر سے منسلک کمرشل قرضوں سمیت متغیر شرحِ سود والے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی لاگت بھی بڑھنے کا امکان ہے۔تاہم سعد حنیف نے خبردار کیا کہ فیڈ بڑی حد تک توانائی کے جھٹکے پر ردعمل دے رہا ہے اور پاکستان کے لیے تیل اب بھی بڑا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  اگر خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہے، جو اسٹیٹ بینک کی جولائی کی پیش گوئی میں شامل 80 ڈالر فی بیرل سے کہیں زیادہ ہے تو مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ پر اس کا دباؤ واشنگٹن میں شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نجی عالمی مشاورتی کمپنی کے سینئر نائب صدر سعد خان نے کہا کہ فیڈ کی شرحِ سود میں اضافہ  روپے پر دباؤ بڑھائے گا اور ڈالر میں قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں اضافہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس سے درآمدات، خصوصاً ایندھن اور کھاد بھی مہنگی ہوسکتی ہیں، جس سے مہنگائی اور تجارتی توازن مزید متاثر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد خان نے مزید کہا کہ اگرچہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے لیکن  پاکستان کو مالی سال 2027 میں تقریباً 21.5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان مضبوط برآمدی نمو کے بجائے قرضوں، درآمدات اور ترسیلاتِ زر پر انحصار کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے کہا کہ فیڈ کے فیصلے کا  کوئی بڑا اثر نہیں پڑا اور اسے معمولی اضافہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کے مطابق اس شرحِ سود میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ امریکی ڈالر مزید مضبوط ہوگا کیونکہ بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثنا توفیق نے کہا کہ  عالمی سطح پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ معیشتیں سخت مالیاتی پالیسی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  ہمارے معاشی اشاریے اب بھی موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں مگر مستقبل میں یہ دیکھنا ہوگا کہ عالمی دباؤ برقرار رہتا ہے یا نہیں اور اس صورت میں ہماری مانیٹری پالیسی کس سمت جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے مالی سال 2026-27 کے دوسرے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے سے پاکستان پر فوری طور پر کوئی بڑا اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے، تاہم اس سے روپے پر دباؤ، ڈالر میں قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں اضافہ اور مستقبل میں بیرونی قرضے مزید مہنگے ہوسکتے ہیں۔ یہ بات مارکیٹ ماہرین نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔</strong></p>
<p>فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود میں ایک چوتھائی فیصد اضافہ کرتے ہوئے بینچ مارک اوور نائٹ شرح کو 3.75 سے 4.00 فیصد کی حد تک پہنچا دیا۔ یہ نئے فیڈ چیئرمین کیون وارش کے دور میں پہلا پالیسی اقدام ہے، جنہوں نے مئی کے آخر میں عہدہ سنبھالا تھا۔</p>
<p>تازہ تخمینوں کے مطابق 18 میں سے 16 پالیسی سازوں کو رواں سال کے اختتام تک کم از کم مزید 25 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ہے۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ فیڈ کی شرحِ سود میں اضافہ  روپے پر کچھ دباؤ ڈال سکتا ہے اور عالمی مالیاتی حالات سخت کرسکتا ہے، جبکہ مستقبل میں بیرونی قرض لینا مہنگا ہوجائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مگر پاکستان کی قلیل مدتی فنانسنگ نسبتاً محفوظ ہے کیونکہ ستمبر میں جاری کیا گیا 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ پہلے ہی طے ہوچکا ہے۔</p>
<p>وقاص غنی کے مطابق فوری طور پر بڑا خطرہ بلند تیل قیمتیں ہیں کیونکہ ان کا پاکستان کے درآمدی بل اور بیرونی کھاتے پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔</p>
<p>اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے کہا کہ فیڈ کی جانب سے 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ اور مزید سخت پالیسی کے اشارے اپنے طور پر پاکستان کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہونے کا امکان ظاہر نہیں کرتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، مقامی قرض مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت نسبتاً محدود ہے، جبکہ حالیہ 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ بھی شرحِ سود میں اضافے سے قبل جاری کیا جاچکا تھا، اس لیے روپے اور سرمایہ کے بہاؤ پر براہِ راست دباؤ محدود رہنا چاہیے۔</p>
<p>سعد حنیف نے کہا کہ  زیادہ اہم ذریعہ مانیٹری پالیسی ہے۔ ان کے مطابق اگست میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی 11.1 فیصد ہونے کے باعث موجودہ مہنگائی کی بنیاد پر پاکستان کی حقیقی پالیسی شرح تقریباً 0.4 فیصد ہے۔ اس لیے فیڈ کی سخت پالیسی قلیل مدت میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات محدود کرسکتی ہے اور اگر روپے یا مہنگائی کی توقعات پر دباؤ بڑھا تو اسٹیٹ بینک بھی سخت پالیسی اختیار کرسکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایس او ایف آر سے منسلک کمرشل قرضوں سمیت متغیر شرحِ سود والے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی لاگت بھی بڑھنے کا امکان ہے۔تاہم سعد حنیف نے خبردار کیا کہ فیڈ بڑی حد تک توانائی کے جھٹکے پر ردعمل دے رہا ہے اور پاکستان کے لیے تیل اب بھی بڑا خطرہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  اگر خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہے، جو اسٹیٹ بینک کی جولائی کی پیش گوئی میں شامل 80 ڈالر فی بیرل سے کہیں زیادہ ہے تو مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ پر اس کا دباؤ واشنگٹن میں شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔</p>
<p>ایک نجی عالمی مشاورتی کمپنی کے سینئر نائب صدر سعد خان نے کہا کہ فیڈ کی شرحِ سود میں اضافہ  روپے پر دباؤ بڑھائے گا اور ڈالر میں قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں اضافہ کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس سے درآمدات، خصوصاً ایندھن اور کھاد بھی مہنگی ہوسکتی ہیں، جس سے مہنگائی اور تجارتی توازن مزید متاثر ہوگا۔</p>
<p>سعد خان نے مزید کہا کہ اگرچہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے لیکن  پاکستان کو مالی سال 2027 میں تقریباً 21.5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔</p>
<p>ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان مضبوط برآمدی نمو کے بجائے قرضوں، درآمدات اور ترسیلاتِ زر پر انحصار کررہا ہے۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے کہا کہ فیڈ کے فیصلے کا  کوئی بڑا اثر نہیں پڑا اور اسے معمولی اضافہ قرار دیا۔</p>
<p>تاہم ان کے مطابق اس شرحِ سود میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ امریکی ڈالر مزید مضبوط ہوگا کیونکہ بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>ثنا توفیق نے کہا کہ  عالمی سطح پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ معیشتیں سخت مالیاتی پالیسی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  ہمارے معاشی اشاریے اب بھی موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں مگر مستقبل میں یہ دیکھنا ہوگا کہ عالمی دباؤ برقرار رہتا ہے یا نہیں اور اس صورت میں ہماری مانیٹری پالیسی کس سمت جاتی ہے۔</p>
<p>چند روز قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے مالی سال 2026-27 کے دوسرے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291364</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Sep 2026 17:03:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/17164542153bd82.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/17164542153bd82.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
