<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 02:22:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 02:22:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں قیمتوں میں اضافے کے باعث خوردنی تیل کی درآمد پر ٹیکس میں کمی پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291325/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا میں خوردنی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بھارت اشیاء کی درآمد پر عائد ٹیکس کم کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ غذائی مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کی جاسکے۔ دو سرکاری اور دو صنعتی ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ ملک میں تہواروں کے عروج کا موسم شروع ہوچکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں خوردنی تیل کی قیمتیں گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 20 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ قیمتوں میں کمی لانے والے کسی بھی اقدام سے کھپت میں اضافے کا امکان ہے، کیونکہ گھرانے ستمبر سے نومبر تک جاری رہنے والے تہواروں کے دوران مٹھائیاں، نمکین اور تلی ہوئی اشیا تیار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر بھارت کی طلب میں اضافے سے ملائیشیا میں پام آئل اور امریکا میں سویا آئل کے بینچ مارک فیوچرز کو بھی سہارا ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اپنی خوردنی تیل کی طلب کا تقریباً دو تہائی حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، جن میں زیادہ تر پام آئل، سویا آئل اور سورج مکھی کا تیل شامل ہیں، جبکہ یہ درآمدات بنیادی طور پر ملائیشیا، انڈونیشیا، ارجنٹائن، روس اور یوکرین سے کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں اضافہ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رسد میں رکاوٹوں اور ایل نینو اور عالمی حدت سے منسلک شدید موسمی حالات کے باعث ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ حکومت صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ کسانوں کے مفادات کا بھی تحفظ کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے ترجمان نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں اگست کے دوران سالانہ بنیادوں پر خوردہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ درآمدی ڈیوٹی میں نمایاں کمی کرنے کے بجائے حکومت بنیادی درآمدی ڈیوٹی میں 5 فیصد کمی کرسکتی ہے، جس سے مقامی سویا بین کی قیمتیں حکومت کی مقرر کردہ امدادی قیمتوں سے بلند رہیں گی اور تلہن کے کاشت کاروں کو بھی سہارا ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی عہدیدار نے اس خدشے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ بھارت کی جانب سے درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور ملکی طلب میں اضافے کے نتیجے میں برآمد کنندہ ممالک میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، کہا کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے درآمدی ڈیوٹی میں کمی مؤثر طریقہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2025 میں بھارت نے خام خوردنی تیل پر بنیادی درآمدی ٹیکس نصف کرکے 10 فیصد کردیا تھا۔ اس اقدام کے نتیجے میں خام پام آئل، خام سویا آئل اور خام سورج مکھی کے تیل پر مجموعی درآمدی ڈیوٹی مؤثر طور پر 16.5 فیصد ہوگئی تھی، کیونکہ ان تیلوں پر زرعی بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی سیس اور سماجی بہبود سرچارج بھی عائد ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے بعد عالمی سطح پر پام آئل اور سویا آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا میں خوردنی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بھارت اشیاء کی درآمد پر عائد ٹیکس کم کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ غذائی مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کی جاسکے۔ دو سرکاری اور دو صنعتی ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ ملک میں تہواروں کے عروج کا موسم شروع ہوچکا ہے۔</strong></p>
<p>بھارت میں خوردنی تیل کی قیمتیں گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 20 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ قیمتوں میں کمی لانے والے کسی بھی اقدام سے کھپت میں اضافے کا امکان ہے، کیونکہ گھرانے ستمبر سے نومبر تک جاری رہنے والے تہواروں کے دوران مٹھائیاں، نمکین اور تلی ہوئی اشیا تیار کرتے ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر بھارت کی طلب میں اضافے سے ملائیشیا میں پام آئل اور امریکا میں سویا آئل کے بینچ مارک فیوچرز کو بھی سہارا ملے گا۔</p>
<p>بھارت اپنی خوردنی تیل کی طلب کا تقریباً دو تہائی حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، جن میں زیادہ تر پام آئل، سویا آئل اور سورج مکھی کا تیل شامل ہیں، جبکہ یہ درآمدات بنیادی طور پر ملائیشیا، انڈونیشیا، ارجنٹائن، روس اور یوکرین سے کی جاتی ہیں۔</p>
<p>قیمتوں میں اضافہ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رسد میں رکاوٹوں اور ایل نینو اور عالمی حدت سے منسلک شدید موسمی حالات کے باعث ہوا ہے۔</p>
<p>سرکاری ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ حکومت صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ کسانوں کے مفادات کا بھی تحفظ کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p>حکومت کے ترجمان نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>بھارت میں اگست کے دوران سالانہ بنیادوں پر خوردہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔</p>
<p>صنعت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ درآمدی ڈیوٹی میں نمایاں کمی کرنے کے بجائے حکومت بنیادی درآمدی ڈیوٹی میں 5 فیصد کمی کرسکتی ہے، جس سے مقامی سویا بین کی قیمتیں حکومت کی مقرر کردہ امدادی قیمتوں سے بلند رہیں گی اور تلہن کے کاشت کاروں کو بھی سہارا ملے گا۔</p>
<p>صنعتی عہدیدار نے اس خدشے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ بھارت کی جانب سے درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور ملکی طلب میں اضافے کے نتیجے میں برآمد کنندہ ممالک میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، کہا کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے درآمدی ڈیوٹی میں کمی مؤثر طریقہ نہیں ہے۔</p>
<p>مئی 2025 میں بھارت نے خام خوردنی تیل پر بنیادی درآمدی ٹیکس نصف کرکے 10 فیصد کردیا تھا۔ اس اقدام کے نتیجے میں خام پام آئل، خام سویا آئل اور خام سورج مکھی کے تیل پر مجموعی درآمدی ڈیوٹی مؤثر طور پر 16.5 فیصد ہوگئی تھی، کیونکہ ان تیلوں پر زرعی بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی سیس اور سماجی بہبود سرچارج بھی عائد ہوتے ہیں۔</p>
<p>درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے بعد عالمی سطح پر پام آئل اور سویا آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291325</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Sep 2026 20:17:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/162007215d11091.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/162007215d11091.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
