<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 01:30:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 01:30:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت خزانہ نے سرکاری اداروں کی مالی بدحالی کے دعوے مسترد کردیے، 35.8 ارب روپے کے خالص منافع کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291322/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ نے ان میڈیا رپورٹس اور تشریحات کو مسترد کردیا جن میں خالص مالیاتی بہاؤ میں کمی کو سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی مالی صحت میں خرابی سے جوڑا گیا تھا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ دونوں الگ نوعیت کے پیمانے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پریس ریلیز میں وزارت خزانہ نے کہا کہ مالیاتی بہاؤ حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان ہونے والے لین دین کی عکاسی کرتا ہے، جس میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت اور ٹیکس، منافع، لیویز اور دیگر ادائیگیوں کی مد میں حاصل ہونے والی رقوم شامل ہیں۔ اس کے برعکس سرکاری اداروں کی مالی کارکردگی کا جائزہ منافع اور دیگر مالی و عملیاتی اشاریوں کے ذریعے الگ سے لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران منافع کمانے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے کا منافع حاصل کیا، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کے نقصانات کو 342.8 ارب روپے تک محدود رکھا گیا۔ وزارتِ خزانہ نے نقصانات پر قابو پانے کو جاری سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نگرانی کے فریم ورک میں پیش رفت کا اہم اشارہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران سرکاری ادارے حکومت کے لیے مجموعی طور پر خالص مالی معاون ثابت ہوئے۔ ان سے حکومت کو 839.8 ارب روپے کی آمدن ہوئی جبکہ حکومت کی جانب سے 804 ارب روپے خرچ کیے گئے، جس کے نتیجے میں 35.8 ارب روپے کا مثبت خالص مالیاتی بہاؤ ریکارڈ ہوا۔ وزارت کے مطابق حکومتی اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ ایکویٹی کی فراہمی اور تنظیم نو اور گردشی قرضے کے انتظام سے متعلق فنانسنگ تھی، جبکہ منافع کی وصولیوں میں 26 فیصد اور سرکاری اداروں کی جانب سے ٹیکس ادائیگیوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ خالص مالیاتی بہاؤ میں تبدیلیوں کو حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان لین دین کے وقت اور نوعیت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور اسے سرکاری اداروں کے منافع یا مالی کارکردگی کا واحد پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اصلاحات کے عمل کا حوالہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے کہا کہ صرف چھ ماہ کے مالیاتی بہاؤ کے تقابلی جائزے کی بنیاد پر سرکاری اداروں کی اصلاحات کا اندازہ لگانا ان بنیادی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جو پہلے ہی جاری ہیں۔ وزارت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش، پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن کے جاری اختتامی عمل اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی مکمل ہونے والی نجکاری کا حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے شعبے میں نو تقسیم کار کمپنیاں، جن میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی  شامل ہیں، نجکاری پروگرام کا حصہ ہیں اور لین دین کے مختلف مراحل میں ہیں۔ وزارت نے کہا کہ وسیع تر تنظیم نو اور نجکاری کے عمل کے پہلے مرحلے کے لیے مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے پہلے ہی مضبوط دلچسپی ظاہر کی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں کے انتظامی ڈھانچے میں بھی اصلاحات جاری ہیں، جن کا مقصد خودمختار اور پیشہ ور بورڈز کو مضبوط بنانا، کاروباری منصوبوں کے حوالے سے جوابدہی، کارکردگی کی نگرانی اور سرکاری اداروں کے پورے شعبے میں شفاف اور اعداد و شمار پر مبنی نگرانی کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کہا کہ اصلاحات کی سمت واضح ہے، جس کے تحت سرکاری اداروں کا دائرہ کار محدود، انتظامی نظام اور جوابدہی مضبوط، شفافیت میں اضافہ، تجارتی نظم و ضبط بہتر اور مالیاتی خطرات میں بتدریج کمی لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید کہا کہ وہ سرکاری اداروں کے بعض شعبوں میں موجود مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور ہر ادارے کے حالات کے مطابق تنظیم نو، بندش، نجکاری اور بہتر کارکردگی کے انتظام کے ذریعے ان مسائل سے نمٹا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ نے ان میڈیا رپورٹس اور تشریحات کو مسترد کردیا جن میں خالص مالیاتی بہاؤ میں کمی کو سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی مالی صحت میں خرابی سے جوڑا گیا تھا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ دونوں الگ نوعیت کے پیمانے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔</strong></p>
<p>ایک پریس ریلیز میں وزارت خزانہ نے کہا کہ مالیاتی بہاؤ حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان ہونے والے لین دین کی عکاسی کرتا ہے، جس میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت اور ٹیکس، منافع، لیویز اور دیگر ادائیگیوں کی مد میں حاصل ہونے والی رقوم شامل ہیں۔ اس کے برعکس سرکاری اداروں کی مالی کارکردگی کا جائزہ منافع اور دیگر مالی و عملیاتی اشاریوں کے ذریعے الگ سے لیا جاتا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران منافع کمانے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے کا منافع حاصل کیا، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کے نقصانات کو 342.8 ارب روپے تک محدود رکھا گیا۔ وزارتِ خزانہ نے نقصانات پر قابو پانے کو جاری سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نگرانی کے فریم ورک میں پیش رفت کا اہم اشارہ قرار دیا۔</p>
<p>اس عرصے کے دوران سرکاری ادارے حکومت کے لیے مجموعی طور پر خالص مالی معاون ثابت ہوئے۔ ان سے حکومت کو 839.8 ارب روپے کی آمدن ہوئی جبکہ حکومت کی جانب سے 804 ارب روپے خرچ کیے گئے، جس کے نتیجے میں 35.8 ارب روپے کا مثبت خالص مالیاتی بہاؤ ریکارڈ ہوا۔ وزارت کے مطابق حکومتی اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ ایکویٹی کی فراہمی اور تنظیم نو اور گردشی قرضے کے انتظام سے متعلق فنانسنگ تھی، جبکہ منافع کی وصولیوں میں 26 فیصد اور سرکاری اداروں کی جانب سے ٹیکس ادائیگیوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ خالص مالیاتی بہاؤ میں تبدیلیوں کو حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان لین دین کے وقت اور نوعیت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور اسے سرکاری اداروں کے منافع یا مالی کارکردگی کا واحد پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔</p>
<p><strong>اصلاحات کے عمل کا حوالہ</strong></p>
<p>وزارتِ خزانہ نے کہا کہ صرف چھ ماہ کے مالیاتی بہاؤ کے تقابلی جائزے کی بنیاد پر سرکاری اداروں کی اصلاحات کا اندازہ لگانا ان بنیادی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جو پہلے ہی جاری ہیں۔ وزارت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش، پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن کے جاری اختتامی عمل اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی مکمل ہونے والی نجکاری کا حوالہ دیا۔</p>
<p>بجلی کے شعبے میں نو تقسیم کار کمپنیاں، جن میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی  شامل ہیں، نجکاری پروگرام کا حصہ ہیں اور لین دین کے مختلف مراحل میں ہیں۔ وزارت نے کہا کہ وسیع تر تنظیم نو اور نجکاری کے عمل کے پہلے مرحلے کے لیے مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے پہلے ہی مضبوط دلچسپی ظاہر کی جاچکی ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں کے انتظامی ڈھانچے میں بھی اصلاحات جاری ہیں، جن کا مقصد خودمختار اور پیشہ ور بورڈز کو مضبوط بنانا، کاروباری منصوبوں کے حوالے سے جوابدہی، کارکردگی کی نگرانی اور سرکاری اداروں کے پورے شعبے میں شفاف اور اعداد و شمار پر مبنی نگرانی کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>وزارت نے کہا کہ اصلاحات کی سمت واضح ہے، جس کے تحت سرکاری اداروں کا دائرہ کار محدود، انتظامی نظام اور جوابدہی مضبوط، شفافیت میں اضافہ، تجارتی نظم و ضبط بہتر اور مالیاتی خطرات میں بتدریج کمی لائی جائے گی۔</p>
<p>وزارت نے مزید کہا کہ وہ سرکاری اداروں کے بعض شعبوں میں موجود مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور ہر ادارے کے حالات کے مطابق تنظیم نو، بندش، نجکاری اور بہتر کارکردگی کے انتظام کے ذریعے ان مسائل سے نمٹا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291322</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Sep 2026 18:32:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/161758133d76c5e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/161758133d76c5e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
