<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 10:03:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 10:03:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>7 سابق آسڑیلوی کپتانوں کا اپنی حکومت سے عمران خان کی قید پر تشویش کا اظہار کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291279/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ سے 7 سابق آسٹریلوی کرکٹ کپتانوں نے سابق پاکستانی کپتان عمران خان کی قید پر انسانی بنیادوں پر تشویش کا اظہار کرنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ سے متعلق خبریں اور تجزیے فراہم کرنے والے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم  ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وزیر خارجہ کو لکھے گئے خط پر ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کِم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو وا کے دستخط ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ خط  سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کی حیثیت سے نہیں بلکہ سابق کپتانوں کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں، جو اپنی آواز اٹھانے پر مجبور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا ہے کہ گروپ نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف قانونی یا سیاسی مقدمے کے حوالے سے اس کا کوئی مؤقف نہیں اور اس معاملے کا فیصلہ صرف پاکستان کو کرنا چاہیے۔ سابق کپتانوں نے اسے سیاست سے قطع نظر بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ جیل میں موجود کسی بھی شخص کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیا خط 21 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھے جانے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے۔ ان سابق کپتانوں میں مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، سنیل گواسکر، ایڈم گلکرسٹ، کپل دیو اور اسٹیو وا سمیت دیگر شامل تھے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل مکمل کیا جائے اور ان کے خاندان سے ملاقات کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 اگست کو لکھے گئے خط میں سابق کپتانوں نے کہا تھا کہ وہ عمران خان کے طبی علاج اور فلاح و بہبود کے معاملے پر دوسری مرتبہ خط لکھ رہے ہیں۔ اس سے چھ ماہ قبل 14 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے بھی اس حوالے سے اپیل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط پر دستخط کرنے والوں نے کہا کہ عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق حالیہ پیش رفت کے بعد مزید سات سابق کپتان بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زیر حراست سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو حالیہ طبی معائنے کے دوران ان کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کے خاندان، سیاسی جماعت اور سابق کرکٹ ساتھی مسلسل جیل میں ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ سے 7 سابق آسٹریلوی کرکٹ کپتانوں نے سابق پاکستانی کپتان عمران خان کی قید پر انسانی بنیادوں پر تشویش کا اظہار کرنے کی اپیل کی ہے۔</strong></p>
<p>کرکٹ سے متعلق خبریں اور تجزیے فراہم کرنے والے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم  ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وزیر خارجہ کو لکھے گئے خط پر ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کِم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو وا کے دستخط ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ خط  سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کی حیثیت سے نہیں بلکہ سابق کپتانوں کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں، جو اپنی آواز اٹھانے پر مجبور ہوئے۔</p>
<p>خط میں کہا گیا ہے کہ گروپ نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف قانونی یا سیاسی مقدمے کے حوالے سے اس کا کوئی مؤقف نہیں اور اس معاملے کا فیصلہ صرف پاکستان کو کرنا چاہیے۔ سابق کپتانوں نے اسے سیاست سے قطع نظر بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ جیل میں موجود کسی بھی شخص کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ نیا خط 21 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھے جانے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے۔ ان سابق کپتانوں میں مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، سنیل گواسکر، ایڈم گلکرسٹ، کپل دیو اور اسٹیو وا سمیت دیگر شامل تھے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل مکمل کیا جائے اور ان کے خاندان سے ملاقات کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>23 اگست کو لکھے گئے خط میں سابق کپتانوں نے کہا تھا کہ وہ عمران خان کے طبی علاج اور فلاح و بہبود کے معاملے پر دوسری مرتبہ خط لکھ رہے ہیں۔ اس سے چھ ماہ قبل 14 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے بھی اس حوالے سے اپیل کی تھی۔</p>
<p>خط پر دستخط کرنے والوں نے کہا کہ عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق حالیہ پیش رفت کے بعد مزید سات سابق کپتان بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زیر حراست سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا۔</p>
<p>پارٹی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو حالیہ طبی معائنے کے دوران ان کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>دریں اثنا پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کے خاندان، سیاسی جماعت اور سابق کرکٹ ساتھی مسلسل جیل میں ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291279</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 17:03:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/151645101eb27ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/151645101eb27ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
