<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں کم پیداواری صلاحیت کے پیچھے ہنرمندی کا بحران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291278/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں نوجوان آبادی کو اکثر معاشی منافع کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک پرکشش تصور ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جس سے پاکستان کو وسیع ممکنہ افرادی قوت میسر ہے۔ تاہم محض نوجوان آبادی کسی ملک کے لیے معاشی فائدہ نہیں ہوتی۔ یہ اسی وقت فائدہ بن سکتی ہے جب نوجوان پیداواری کام کرنے، بہتر آمدنی کمانے اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوں۔ پاکستان کا اصل چیلنج بھی یہی ہے۔ مسئلہ افرادی قوت کی کمی نہیں بلکہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو زیادہ پیداواری بنانے کے لیے درکار مہارتوں کا فقدان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ کسی نوجوان کے لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے سے بہت پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2024-25 میں 10 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 63 فیصد رہی، جبکہ اس میں نمایاں صنفی فرق موجود ہے؛ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد رہی۔ پاکستان میں اے ایس ای آر کے 2025 کے سروے نے اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورتِ حال کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں 6 سے 16 سال عمر کے 94 فیصد بچے اسکولوں میں داخل تھے، تاہم تیسری جماعت کے صرف 18 فیصد بچے اردو میں دوسری جماعت کی سطح کی کہانی پڑھ سکتے تھے، جبکہ صرف 10 فیصد بچے دو ہندسوں کی تقسیم کا سوال حل کرسکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبق واضح ہے۔ فنی و پیشہ ورانہ تربیت میں اصلاحات کمزور بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کا ازالہ نہیں کرسکتیں۔ اگر بچے بنیادی خواندگی، حساب اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کے بغیر پرائمری اسکول سے نکلیں گے تو بعد کی تربیت کے فوائد ہمیشہ محدود رہیں گے۔ لہٰذا مہارتوں سے متعلق پالیسی کا آغاز تکنیکی ادارے سے نہیں بلکہ کلاس روم سے ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت کے لیے اس کے مضمرات بہت اہم ہیں۔ عالمی بینک کے تازہ ترین ہیومن کیپیٹل انڈیکس پلس میں پاکستان نے 325 میں سے 130 پوائنٹس حاصل کیے، جبکہ بنگلہ دیش کے 147 اور کم متوسط آمدنی والے ممالک کی اوسط 153 پوائنٹس رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہم پلہ ممالک کے ساتھ اس فرق کو ختم کیا جائے تو مستقبل میں آمدنی میں 68 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے مہارتوں میں اصلاحات کو محض تعلیمی شعبے کا معاملہ سمجھنے کے بجائے معاشی ترجیح قرار دینا چاہیے۔ پاکستان کے فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے نظام کو بھی مختلف زاویے سے جانچنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 میں فنی و پیشہ ورانہ تربیتی اداروں میں داخلوں کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 62 ہزار 500 رہنے کا تخمینہ ہے، جو دو سال قبل 4 لاکھ 53 ہزار 900 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔ تاہم زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ کتنی نشستیں موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ کیا فارغ التحصیل افراد کو ملازمتیں ملتی ہیں؟ کیا آجر ان کی مہارتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے؟ ایسا نظام جو صرف اسناد کی تعداد گنے لیکن ان نتائج کا ثبوت فراہم نہ کرسکے، دراصل سرگرمی کو ناپ رہا ہے، اثرات کو نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ بے روزگاری اور مہارتوں سے متعلق بحث میں بھی زیادہ باریک بینی کی ضرورت ہے۔ کسی فارغ التحصیل فرد کا بے روزگار ہونا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ غیر ہنرمند ہے؛ ممکن ہے مناسب ملازمتیں ہی بہت کم ہوں۔ دوسری جانب آجروں کو بھی مطلوبہ عملی صلاحیتوں کے حامل افراد بھرتی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ان دونوں پہلوؤں کے درمیان رابطہ قائم کرنے کے لیے لیبر مارکیٹ سے متعلق بہتر معلومات درکار ہیں۔ طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سے پیشے تیزی سے فروغ پارہے ہیں، تربیتی اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آجروں کو کن مہارتوں کی ضرورت ہے اور پالیسی سازوں کو یہ دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے کہ کہاں مہارتوں کی قلت پیدا ہورہی ہے۔ ڈیجیٹل مہارتوں کے معاملے میں بھی یہی عملی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ہر کارکن کو آئی ٹی ماہر بنانے کی ضرورت نہیں۔ دکاندار، مشین آپریٹر، اکاؤنٹس اسسٹنٹ اور فیکٹری سپروائزر، سب کو مختلف نوعیت کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقصد وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل خواندگی پیدا کرنا ہونا چاہیے، جس کے ساتھ ان شعبوں میں خصوصی تربیت دی جائے جہاں صنعتوں کو واقعی اس کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونِ ملک روزگار اس موقع کی ایک مثال ہے۔ بیورو آف ایمیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں تقریباً 7 لاکھ 62 ہزار 500 کارکنوں نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کرائی۔ ان میں تقریباً 61 فیصد غیر ہنرمند، 29 فیصد ہنرمند اور 5.5 فیصد نیم ہنرمند تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ہنر رکھنے والے کارکنوں کا مجموعی حصہ صرف 4.2 فیصد تھا۔ تاہم یہ اعداد و شمار متعلقہ ممالک میں طلب، ویزا پابندیوں اور دیگر عوامل کی بھی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے انہیں پاکستان میں مہارتوں کے خلا کا خالص پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے باوجود مجموعی سمت واضح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتر طور پر تسلیم شدہ اسناد، زبان کی مہارت اور عملی تربیت پاکستانی کارکنوں کو زیادہ معاوضے والے مواقع کے لیے مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مقصد محض بیرونِ ملک جانے والے کارکنوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ بیرونِ ملک روزگار سے حاصل ہونے والی قدر میں اضافہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی منطق ملک کے اندر بھی لاگو ہوتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار صرف سستی مزدوری کی وجہ سے پاکستان نہیں آتے۔ انہیں ایسے ٹیکنیشنز، سپروائزرز، مینیجرز اور مقامی سپلائرز درکار ہوتے ہیں جو معیار، قابلِ اعتماد کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کے تقاضے پورے کرسکیں۔ اگر پاکستان کم قدر والی برآمدات سے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے ایسی افرادی قوت درکار ہوگی جو زیادہ قدر والی اشیا اور خدمات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس لیے مہارتوں سے متعلق پالیسی صنعتی پالیسی کا بھی حصہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تربیتی پروگراموں کو ترجیحی شعبوں، صنعتی کلسٹرز اور برآمدی منڈیوں میں درکار صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات سے بھی مفید اسباق حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ویتنام کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مضبوط بنیادی خواندگی اور حساب کی صلاحیتیں کارکنوں کو زراعت سے زیادہ پیداواری روزگار کی جانب منتقل ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا کا پینانگ اسکلز ڈیولپمنٹ سینٹر اس حوالے سے خاص طور پر قابلِ توجہ ماڈل پیش کرتا ہے، جہاں صنعت، حکومت اور تعلیمی ادارے مل کر کام کرتے ہیں اور کمپنیاں تربیتی بنیادی ڈھانچے، آلات اور مہارتوں میں اشتراک کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ نے فنی نصاب اور اسناد کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے زیادہ قریب سے منسلک کیا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کے مائسٹر اسکولز میں تعلیم و تربیت کو صنعتی طلب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش نے بھی صنعت سے منسلک تربیتی پروگراموں اور اپرنٹس شپ کے تجربات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ان میں سے کسی بھی ماڈل کی مکمل نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنی معیشت کے تقاضوں کے مطابق نظام تشکیل دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کی قیادت میں قائم مہارتوں کی کونسلیں مہارتوں کی قلت کی نشاندہی، نصاب کو جدید بنانے اور تربیت حاصل کرنے والوں کی صلاحیتوں کے جائزے میں مدد دے سکتی ہیں۔ نئے اداروں کے اعلانات سے پہلے موجودہ فنی اداروں کو جدید بنانے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سرکاری فنڈنگ کو بتدریج تربیت کی تکمیل، روزگار کے حصول اور آمدنی میں اضافے جیسے نتائج سے منسلک کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاوضے کے ساتھ اپرنٹس شپ پروگراموں کو وسعت دی جانی چاہیے، جبکہ ایسی چھوٹی کمپنیوں کے لیے ہدفی سرکاری معاونت فراہم کی جائے جو اکیلے کارکنوں کو تربیت دینے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتیں۔ تاہم مہارتوں میں اصلاحات اسی وقت کامیاب ہوں گی جب ان کے ساتھ ایسی پالیسیاں بھی ہوں جو کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری، توسیع اور بھرتیوں کی ترغیب دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ملازمتوں کے لیے لوگوں کو تربیت دینا جو موجود ہی نہیں، ترقی کی حکمتِ عملی نہیں؛ اسی طرح ایسی ملازمتیں پیدا کرنا بھی کارآمد نہیں جنہیں انجام دینے کے لیے پاکستانی افرادی قوت تیار نہ ہو۔ حقیقی موقع ان دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی نوجوان آبادی محض اس لیے آبادیاتی منافع میں تبدیل نہیں ہوگی کہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ اسی وقت معاشی فائدہ بنے گی جب اسکول مضبوط بنیادی تعلیمی صلاحیتیں فراہم کریں، آجر تربیت کے عمل میں بامعنی کردار ادا کریں، نوجوانوں کو تعلیم سے روزگار تک واضح راستہ دکھائی دے اور کاروباری ادارے زیادہ پیداواری سرگرمیوں کی جانب منتقل ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصلاحات کے ایجنڈے کو کامیابی کا پیمانہ صرف بھرے ہوئے کلاس رومز یا جاری کی گئی اسناد کی تعداد کو نہیں بنانا چاہیے۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ حاصل شدہ مہارتوں، حاصل کی گئی ملازمتوں، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور آمدنی میں بہتری کی صورت میں آخرکار کیا نتائج سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں نوجوان آبادی کو اکثر معاشی منافع کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک پرکشش تصور ہے۔</strong></p>
<p>ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جس سے پاکستان کو وسیع ممکنہ افرادی قوت میسر ہے۔ تاہم محض نوجوان آبادی کسی ملک کے لیے معاشی فائدہ نہیں ہوتی۔ یہ اسی وقت فائدہ بن سکتی ہے جب نوجوان پیداواری کام کرنے، بہتر آمدنی کمانے اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوں۔ پاکستان کا اصل چیلنج بھی یہی ہے۔ مسئلہ افرادی قوت کی کمی نہیں بلکہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو زیادہ پیداواری بنانے کے لیے درکار مہارتوں کا فقدان ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ کسی نوجوان کے لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے سے بہت پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2024-25 میں 10 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 63 فیصد رہی، جبکہ اس میں نمایاں صنفی فرق موجود ہے؛ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد رہی۔ پاکستان میں اے ایس ای آر کے 2025 کے سروے نے اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورتِ حال کی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p>پنجاب میں 6 سے 16 سال عمر کے 94 فیصد بچے اسکولوں میں داخل تھے، تاہم تیسری جماعت کے صرف 18 فیصد بچے اردو میں دوسری جماعت کی سطح کی کہانی پڑھ سکتے تھے، جبکہ صرف 10 فیصد بچے دو ہندسوں کی تقسیم کا سوال حل کرسکتے تھے۔</p>
<p>سبق واضح ہے۔ فنی و پیشہ ورانہ تربیت میں اصلاحات کمزور بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کا ازالہ نہیں کرسکتیں۔ اگر بچے بنیادی خواندگی، حساب اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کے بغیر پرائمری اسکول سے نکلیں گے تو بعد کی تربیت کے فوائد ہمیشہ محدود رہیں گے۔ لہٰذا مہارتوں سے متعلق پالیسی کا آغاز تکنیکی ادارے سے نہیں بلکہ کلاس روم سے ہونا چاہیے۔</p>
<p>معیشت کے لیے اس کے مضمرات بہت اہم ہیں۔ عالمی بینک کے تازہ ترین ہیومن کیپیٹل انڈیکس پلس میں پاکستان نے 325 میں سے 130 پوائنٹس حاصل کیے، جبکہ بنگلہ دیش کے 147 اور کم متوسط آمدنی والے ممالک کی اوسط 153 پوائنٹس رہی۔</p>
<p>عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہم پلہ ممالک کے ساتھ اس فرق کو ختم کیا جائے تو مستقبل میں آمدنی میں 68 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے مہارتوں میں اصلاحات کو محض تعلیمی شعبے کا معاملہ سمجھنے کے بجائے معاشی ترجیح قرار دینا چاہیے۔ پاکستان کے فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے نظام کو بھی مختلف زاویے سے جانچنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 میں فنی و پیشہ ورانہ تربیتی اداروں میں داخلوں کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 62 ہزار 500 رہنے کا تخمینہ ہے، جو دو سال قبل 4 لاکھ 53 ہزار 900 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔ تاہم زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ کتنی نشستیں موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ کیا فارغ التحصیل افراد کو ملازمتیں ملتی ہیں؟ کیا آجر ان کی مہارتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے؟ ایسا نظام جو صرف اسناد کی تعداد گنے لیکن ان نتائج کا ثبوت فراہم نہ کرسکے، دراصل سرگرمی کو ناپ رہا ہے، اثرات کو نہیں۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ بے روزگاری اور مہارتوں سے متعلق بحث میں بھی زیادہ باریک بینی کی ضرورت ہے۔ کسی فارغ التحصیل فرد کا بے روزگار ہونا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ غیر ہنرمند ہے؛ ممکن ہے مناسب ملازمتیں ہی بہت کم ہوں۔ دوسری جانب آجروں کو بھی مطلوبہ عملی صلاحیتوں کے حامل افراد بھرتی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو ان دونوں پہلوؤں کے درمیان رابطہ قائم کرنے کے لیے لیبر مارکیٹ سے متعلق بہتر معلومات درکار ہیں۔ طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سے پیشے تیزی سے فروغ پارہے ہیں، تربیتی اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آجروں کو کن مہارتوں کی ضرورت ہے اور پالیسی سازوں کو یہ دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے کہ کہاں مہارتوں کی قلت پیدا ہورہی ہے۔ ڈیجیٹل مہارتوں کے معاملے میں بھی یہی عملی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>پاکستان کو ہر کارکن کو آئی ٹی ماہر بنانے کی ضرورت نہیں۔ دکاندار، مشین آپریٹر، اکاؤنٹس اسسٹنٹ اور فیکٹری سپروائزر، سب کو مختلف نوعیت کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقصد وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل خواندگی پیدا کرنا ہونا چاہیے، جس کے ساتھ ان شعبوں میں خصوصی تربیت دی جائے جہاں صنعتوں کو واقعی اس کی ضرورت ہے۔</p>
<p>بیرونِ ملک روزگار اس موقع کی ایک مثال ہے۔ بیورو آف ایمیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں تقریباً 7 لاکھ 62 ہزار 500 کارکنوں نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کرائی۔ ان میں تقریباً 61 فیصد غیر ہنرمند، 29 فیصد ہنرمند اور 5.5 فیصد نیم ہنرمند تھے۔</p>
<p>اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ہنر رکھنے والے کارکنوں کا مجموعی حصہ صرف 4.2 فیصد تھا۔ تاہم یہ اعداد و شمار متعلقہ ممالک میں طلب، ویزا پابندیوں اور دیگر عوامل کی بھی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے انہیں پاکستان میں مہارتوں کے خلا کا خالص پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے باوجود مجموعی سمت واضح ہے۔</p>
<p>بہتر طور پر تسلیم شدہ اسناد، زبان کی مہارت اور عملی تربیت پاکستانی کارکنوں کو زیادہ معاوضے والے مواقع کے لیے مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مقصد محض بیرونِ ملک جانے والے کارکنوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ بیرونِ ملک روزگار سے حاصل ہونے والی قدر میں اضافہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہی منطق ملک کے اندر بھی لاگو ہوتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار صرف سستی مزدوری کی وجہ سے پاکستان نہیں آتے۔ انہیں ایسے ٹیکنیشنز، سپروائزرز، مینیجرز اور مقامی سپلائرز درکار ہوتے ہیں جو معیار، قابلِ اعتماد کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کے تقاضے پورے کرسکیں۔ اگر پاکستان کم قدر والی برآمدات سے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے ایسی افرادی قوت درکار ہوگی جو زیادہ قدر والی اشیا اور خدمات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس لیے مہارتوں سے متعلق پالیسی صنعتی پالیسی کا بھی حصہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>تربیتی پروگراموں کو ترجیحی شعبوں، صنعتی کلسٹرز اور برآمدی منڈیوں میں درکار صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات سے بھی مفید اسباق حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ویتنام کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مضبوط بنیادی خواندگی اور حساب کی صلاحیتیں کارکنوں کو زراعت سے زیادہ پیداواری روزگار کی جانب منتقل ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<p>ملائیشیا کا پینانگ اسکلز ڈیولپمنٹ سینٹر اس حوالے سے خاص طور پر قابلِ توجہ ماڈل پیش کرتا ہے، جہاں صنعت، حکومت اور تعلیمی ادارے مل کر کام کرتے ہیں اور کمپنیاں تربیتی بنیادی ڈھانچے، آلات اور مہارتوں میں اشتراک کرتی ہیں۔</p>
<p>ترکیہ نے فنی نصاب اور اسناد کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے زیادہ قریب سے منسلک کیا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کے مائسٹر اسکولز میں تعلیم و تربیت کو صنعتی طلب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش نے بھی صنعت سے منسلک تربیتی پروگراموں اور اپرنٹس شپ کے تجربات کیے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو ان میں سے کسی بھی ماڈل کی مکمل نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنی معیشت کے تقاضوں کے مطابق نظام تشکیل دینا ہوگا۔</p>
<p>صنعت کی قیادت میں قائم مہارتوں کی کونسلیں مہارتوں کی قلت کی نشاندہی، نصاب کو جدید بنانے اور تربیت حاصل کرنے والوں کی صلاحیتوں کے جائزے میں مدد دے سکتی ہیں۔ نئے اداروں کے اعلانات سے پہلے موجودہ فنی اداروں کو جدید بنانے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سرکاری فنڈنگ کو بتدریج تربیت کی تکمیل، روزگار کے حصول اور آمدنی میں اضافے جیسے نتائج سے منسلک کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>معاوضے کے ساتھ اپرنٹس شپ پروگراموں کو وسعت دی جانی چاہیے، جبکہ ایسی چھوٹی کمپنیوں کے لیے ہدفی سرکاری معاونت فراہم کی جائے جو اکیلے کارکنوں کو تربیت دینے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتیں۔ تاہم مہارتوں میں اصلاحات اسی وقت کامیاب ہوں گی جب ان کے ساتھ ایسی پالیسیاں بھی ہوں جو کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری، توسیع اور بھرتیوں کی ترغیب دیں۔</p>
<p>ایسی ملازمتوں کے لیے لوگوں کو تربیت دینا جو موجود ہی نہیں، ترقی کی حکمتِ عملی نہیں؛ اسی طرح ایسی ملازمتیں پیدا کرنا بھی کارآمد نہیں جنہیں انجام دینے کے لیے پاکستانی افرادی قوت تیار نہ ہو۔ حقیقی موقع ان دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں ہے۔</p>
<p>پاکستان کی نوجوان آبادی محض اس لیے آبادیاتی منافع میں تبدیل نہیں ہوگی کہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ اسی وقت معاشی فائدہ بنے گی جب اسکول مضبوط بنیادی تعلیمی صلاحیتیں فراہم کریں، آجر تربیت کے عمل میں بامعنی کردار ادا کریں، نوجوانوں کو تعلیم سے روزگار تک واضح راستہ دکھائی دے اور کاروباری ادارے زیادہ پیداواری سرگرمیوں کی جانب منتقل ہوسکیں۔</p>
<p>لہٰذا اصلاحات کے ایجنڈے کو کامیابی کا پیمانہ صرف بھرے ہوئے کلاس رومز یا جاری کی گئی اسناد کی تعداد کو نہیں بنانا چاہیے۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ حاصل شدہ مہارتوں، حاصل کی گئی ملازمتوں، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور آمدنی میں بہتری کی صورت میں آخرکار کیا نتائج سامنے آئے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291278</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 17:25:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ایم عبدالعلیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/15170150c08f43d.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/15170150c08f43d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
