<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:58:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 20:58:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایندھن کی قیمتوں کا تعین—II</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رواں ماہ کی 11 تاریخ کو برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 107.86 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو مئی 2026 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں غیرمعمولی طور پر 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا، جس کی تفصیلات اوگرا کے روزانہ قیمتوں کے نظام میں رپورٹ کی گئی ہیں۔ اسی تناظر میں جدول نمبر ایک میں حالیہ قیمتوں کے رجحان کو ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدول نمبر ایک مہنگائی کی شرح میں فرق کو واضح کرتا ہے۔ 21 جولائی سے 29 اگست تک 39 روز کے عرصے میں عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت مجموعی طور پر 7.6 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513512115b59.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513512115b59.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم 29 اگست سے 11 ستمبر کے درمیان صرف 13 روز کے عرصے میں پٹرول کی قیمت میں 13.7 فیصد اضافہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح کا فرق اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔ پہلے عرصے کے دوران اس میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس کے بعد کے نسبتاً مختصر عرصے میں قیمت 11.9 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں جنگ کی بگڑتی صورتحال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار تیز ہونے کی بنیادی وجہ ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ اب تنازع کی مدت اور شدت دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کرنے لگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر میں ٹینکرز کی آمدورفت پر حملوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ موخا پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بدستور محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نئی پیش رفت تیل بردار بحری جہازوں کی تباہی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کی صلاحیت متاثر ہوگی۔ امریکا اور ایران کے درمیان محاذ آرائی میں تعطل کے آثار بھی نمایاں ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک جاری رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اوگرا کی جانب سے اختیار کیے گئے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں کا تخمینہ لگایا جائے۔ امکان ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت تیزی سے بڑھے گی اور 29 اپریل 2026 کو ریکارڈ کی گئی 118.26 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو عبور کرجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ اندازوں کے مطابق اگر جنگ میں تعطل برقرار رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم برینٹ خام تیل کی اب تک کی بلند ترین قیمت 11 جولائی 2008 کو 147.02 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11 ستمبر کی سطح کو بنیاد بناتے ہوئے عالمی منڈی میں پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بالترتیب 10، 20 اور 30 فیصد اضافے کی صورت میں ممکنہ خوردہ قیمتوں کے بھی مختلف تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار وہی ہے جو اوگرا اپنی روزانہ قیمتوں کے اعلانات میں اختیار کرتا ہے۔ توقع ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ فریٹ لاگت بھی بڑھے گی۔ یہ فرض کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اپنی کم و بیش مستحکم شرحِ مبادلہ کی پالیسی برقرار رکھے گا، تاہم بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باعث روپے پر کچھ دباؤ آسکتا ہے۔ مزید برآں مختلف مارجنز کی مطلق مالیت میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کا مفروضہ اختیار کیا گیا ہے۔ ان تخمینوں میں پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو ملا کر 85 روپے فی لیٹر کی موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی متوقع قیمتیں جدول نمبر 2 میں دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513541313671.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513541313671.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آنے والے مہینوں میں پٹرول کی قیمت میں 6.6 فیصد سے 19.8 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ پٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بھی کہیں زیادہ تک پہنچ سکتی ہے اور اس صورتحال کے نتیجے میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا خدشہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیزل کی قیمت میں 7.2 فیصد سے 21.5 فیصد تک اضافے کا تخمینہ ہے اور اس کے نتیجے میں قیمت تقریباً 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے اشیا خصوصاً غذائی اجناس کی نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں کے تعین کی پالیسی پر توجہ دے۔ بالخصوص 85 روپے فی لیٹر کی بلند پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔ اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں بھی کمی کرنا پڑسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی مہنگائی کی شرح پر ایندھن کی بلند قیمتوں کے ممکنہ اثرات کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اندازے کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 1.5 سے 4.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی شدت کے لحاظ سے مہنگائی کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 12.5 فیصد سے 15.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ 7 ستمبر تک پاکستان میں پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی خوردہ قیمتیں کئی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھیں۔ مثال کے طور پر 7 ستمبر کو پاکستان میں ڈیزل کی قیمت بنگلہ دیش کے مقابلے میں 48 فیصد جبکہ بھارت کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ تھی۔ اس صورتحال سے پاکستان کی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہونا یقینی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ہنگامی اقدامات کے طور پر پٹرولیم لیوی کو موجودہ سطح کے نصف سے بھی کم کیا جانا چاہیے۔ وفاقی بجٹ میں ہنگامی ضروریات کے لیے مختص 430 ارب روپے اس سے ہونے والے محصولات کے نقصان کے ایک حصے کو پورا کرسکتے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات کو ممکنہ حد تک کم کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رواں ماہ کی 11 تاریخ کو برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 107.86 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو مئی 2026 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں غیرمعمولی طور پر 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>حالیہ ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا، جس کی تفصیلات اوگرا کے روزانہ قیمتوں کے نظام میں رپورٹ کی گئی ہیں۔ اسی تناظر میں جدول نمبر ایک میں حالیہ قیمتوں کے رجحان کو ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>جدول نمبر ایک مہنگائی کی شرح میں فرق کو واضح کرتا ہے۔ 21 جولائی سے 29 اگست تک 39 روز کے عرصے میں عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت مجموعی طور پر 7.6 فیصد بڑھ گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513512115b59.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513512115b59.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم 29 اگست سے 11 ستمبر کے درمیان صرف 13 روز کے عرصے میں پٹرول کی قیمت میں 13.7 فیصد اضافہ ہوگیا۔</p>
<p>ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح کا فرق اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔ پہلے عرصے کے دوران اس میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس کے بعد کے نسبتاً مختصر عرصے میں قیمت 11.9 فیصد بڑھ گئی۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ میں جنگ کی بگڑتی صورتحال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار تیز ہونے کی بنیادی وجہ ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ اب تنازع کی مدت اور شدت دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کرنے لگی ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر میں ٹینکرز کی آمدورفت پر حملوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ موخا پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بدستور محدود ہے۔</p>
<p>ایک نئی پیش رفت تیل بردار بحری جہازوں کی تباہی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کی صلاحیت متاثر ہوگی۔ امریکا اور ایران کے درمیان محاذ آرائی میں تعطل کے آثار بھی نمایاں ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک جاری رہ سکتی ہے۔</p>
<p>اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اوگرا کی جانب سے اختیار کیے گئے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں کا تخمینہ لگایا جائے۔ امکان ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت تیزی سے بڑھے گی اور 29 اپریل 2026 کو ریکارڈ کی گئی 118.26 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو عبور کرجائے گی۔</p>
<p>کچھ اندازوں کے مطابق اگر جنگ میں تعطل برقرار رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم برینٹ خام تیل کی اب تک کی بلند ترین قیمت 11 جولائی 2008 کو 147.02 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>11 ستمبر کی سطح کو بنیاد بناتے ہوئے عالمی منڈی میں پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بالترتیب 10، 20 اور 30 فیصد اضافے کی صورت میں ممکنہ خوردہ قیمتوں کے بھی مختلف تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔</p>
<p>قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار وہی ہے جو اوگرا اپنی روزانہ قیمتوں کے اعلانات میں اختیار کرتا ہے۔ توقع ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ فریٹ لاگت بھی بڑھے گی۔ یہ فرض کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اپنی کم و بیش مستحکم شرحِ مبادلہ کی پالیسی برقرار رکھے گا، تاہم بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باعث روپے پر کچھ دباؤ آسکتا ہے۔ مزید برآں مختلف مارجنز کی مطلق مالیت میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کا مفروضہ اختیار کیا گیا ہے۔ ان تخمینوں میں پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو ملا کر 85 روپے فی لیٹر کی موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔</p>
<p>پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی متوقع قیمتیں جدول نمبر 2 میں دی گئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513541313671.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513541313671.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>آنے والے مہینوں میں پٹرول کی قیمت میں 6.6 فیصد سے 19.8 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ پٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بھی کہیں زیادہ تک پہنچ سکتی ہے اور اس صورتحال کے نتیجے میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا خدشہ موجود ہے۔</p>
<p>ڈیزل کی قیمت میں 7.2 فیصد سے 21.5 فیصد تک اضافے کا تخمینہ ہے اور اس کے نتیجے میں قیمت تقریباً 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے اشیا خصوصاً غذائی اجناس کی نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں کے تعین کی پالیسی پر توجہ دے۔ بالخصوص 85 روپے فی لیٹر کی بلند پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔ اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں بھی کمی کرنا پڑسکتی ہے۔</p>
<p>ملک میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی مہنگائی کی شرح پر ایندھن کی بلند قیمتوں کے ممکنہ اثرات کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اندازے کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 1.5 سے 4.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی شدت کے لحاظ سے مہنگائی کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 12.5 فیصد سے 15.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ 7 ستمبر تک پاکستان میں پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی خوردہ قیمتیں کئی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھیں۔ مثال کے طور پر 7 ستمبر کو پاکستان میں ڈیزل کی قیمت بنگلہ دیش کے مقابلے میں 48 فیصد جبکہ بھارت کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ تھی۔ اس صورتحال سے پاکستان کی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہونا یقینی ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر ہنگامی اقدامات کے طور پر پٹرولیم لیوی کو موجودہ سطح کے نصف سے بھی کم کیا جانا چاہیے۔ وفاقی بجٹ میں ہنگامی ضروریات کے لیے مختص 430 ارب روپے اس سے ہونے والے محصولات کے نقصان کے ایک حصے کو پورا کرسکتے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات کو ممکنہ حد تک کم کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291269</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 14:04:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/151348152f8a1c4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/151348152f8a1c4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
