<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 10:03:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 10:03:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 26 کی پہلی ششماہی، سرکاری اداروں کو 342.8 ارب روپے کا خسارہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291250/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خسارے میں چلنے والے سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران مجموعی طور پر 342.8 ارب روپے کے خسارے کا سامنا رہا، جبکہ حکومت نے ان اداروں کو 804 ارب روپے کی معاونت فراہم کی، جس سے کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری اداروں پر مالی بوجھ واضح ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انکشاف وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کے اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے لیے وفاقی سرکاری ملکیتی اداروں کی ششماہی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے مالی و آپریشنل کارکردگی، منافع و خسارے، مالیاتی بہاؤ، منظور شدہ کاروباری منصوبوں پر عملدرآمد، گورننس، مالیاتی رپورٹنگ اور اہم کارکردگی اہداف پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ جولائی تا دسمبر 2025 منافع کمانے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے منافع حاصل کیا، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کا مجموعی خسارہ 342.8 ارب روپے رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی معاونت 804 ارب روپے رہی، جبکہ سرکاری اداروں نے حکومت کو 839 ارب روپے فراہم کیے، جس کے نتیجے میں حکومت کے حق میں 35 ارب روپے کا مثبت خالص مالی بہاؤ ریکارڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے گردشی قرضے، مالیاتی خطرات، بجلی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں آپریشنل کمزوریوں، کارپوریٹ گورننس کے نقائص اور بورڈز کی مؤثر کارکردگی و جوابدہی بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں سرکاری اداروں کے لیے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے ڈیجیٹل رپورٹنگ اور تجزیاتی پلیٹ فارم کا مظاہرہ بھی کیا گیا، جس کے ذریعے اداروں کے مالی اور آپریشنل اعداد و شمار، ڈیش بورڈز اور کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری اور انڈیجینس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ایجنسی کے چیئرمین کے تقرر کی منظوری دی۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی کے بورڈ آف مینجمنٹ کے لیے آزاد ڈائریکٹرز کی نامزدگیاں بھی منظور کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ایس او ایز پالیسی 2023 میں آئی ایف آر ایس کے نفاذ کی نگرانی سے متعلق ترمیم کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹرز کے انتخاب، بورڈ تقرریوں میں تاخیر ختم کرنے اور امیدواروں کی مہارت کو متعلقہ اداروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خسارے میں چلنے والے سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران مجموعی طور پر 342.8 ارب روپے کے خسارے کا سامنا رہا، جبکہ حکومت نے ان اداروں کو 804 ارب روپے کی معاونت فراہم کی، جس سے کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری اداروں پر مالی بوجھ واضح ہوتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ انکشاف وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کے اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بھی شرکت کی۔</p>
<p>کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے لیے وفاقی سرکاری ملکیتی اداروں کی ششماہی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے مالی و آپریشنل کارکردگی، منافع و خسارے، مالیاتی بہاؤ، منظور شدہ کاروباری منصوبوں پر عملدرآمد، گورننس، مالیاتی رپورٹنگ اور اہم کارکردگی اہداف پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ جولائی تا دسمبر 2025 منافع کمانے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے منافع حاصل کیا، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کا مجموعی خسارہ 342.8 ارب روپے رہا۔</p>
<p>حکومتی معاونت 804 ارب روپے رہی، جبکہ سرکاری اداروں نے حکومت کو 839 ارب روپے فراہم کیے، جس کے نتیجے میں حکومت کے حق میں 35 ارب روپے کا مثبت خالص مالی بہاؤ ریکارڈ ہوا۔</p>
<p>کمیٹی نے گردشی قرضے، مالیاتی خطرات، بجلی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں آپریشنل کمزوریوں، کارپوریٹ گورننس کے نقائص اور بورڈز کی مؤثر کارکردگی و جوابدہی بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی غور کیا۔</p>
<p>اجلاس میں سرکاری اداروں کے لیے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے ڈیجیٹل رپورٹنگ اور تجزیاتی پلیٹ فارم کا مظاہرہ بھی کیا گیا، جس کے ذریعے اداروں کے مالی اور آپریشنل اعداد و شمار، ڈیش بورڈز اور کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے گا۔</p>
<p>کمیٹی نے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری اور انڈیجینس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ایجنسی کے چیئرمین کے تقرر کی منظوری دی۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی کے بورڈ آف مینجمنٹ کے لیے آزاد ڈائریکٹرز کی نامزدگیاں بھی منظور کی گئیں۔</p>
<p>کمیٹی نے ایس او ایز پالیسی 2023 میں آئی ایف آر ایس کے نفاذ کی نگرانی سے متعلق ترمیم کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹرز کے انتخاب، بورڈ تقرریوں میں تاخیر ختم کرنے اور امیدواروں کی مہارت کو متعلقہ اداروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291250</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 09:56:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/15095401b552679.webp" type="image/webp" medium="image" height="841" width="1601">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/15095401b552679.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
