<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 13:07:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 13:07:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر، حکومت کا سرمایہ کاری اور آپریٹنگ ماحول بہتر بنانے کے اقدامات پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291249/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے پاکستان کے بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری فریم ورک میں اصلاحات کا عمل شروع کردیا ہے تاکہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور، کارکردگی بہتر اور نجی شعبے کی شمولیت کے لیے زیادہ قابل پیش گوئی ماحول پیدا کیا جاسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ ’’پاور سیکٹر ریگولیٹری رجیم، امپروومنٹ اینڈ ریفارمز‘‘ اسٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے اور کارکردگی، سرمایہ کاری اور مسابقت کے فروغ کے لیے اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے موجودہ ریگولیٹری نظام کا جائزہ لیا اور بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور آپریٹنگ ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے نجی شعبے کی شمولیت، طویل مدتی سرمایہ کاری کے حصول، کارکردگی اور مسابقت میں اضافے کے لیے واضح، قابل پیش گوئی اور مستقل ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاکستان کے ادارہ جاتی اور مارکیٹ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریگولیٹری اور پالیسی فریم ورک کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے زور دیا کہ اصلاحات کو شفافیت، مناسب حفاظتی اقدامات اور ریگولیٹری یقین دہانی یقینی بناتے ہوئے سرمایہ کاری اور شعبے کی کارکردگی میں بہتری لانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے بجلی کے شعبے سے متعلق پالیسی اور ریگولیٹری مسائل کے حل کے لیے متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے شعبے کی کارکردگی اور سرمایہ کاری کے نتائج میں ٹھوس بہتری کے لیے عملی اور مقررہ مدت پر مبنی اصلاحاتی عمل کی اہمیت اجاگر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بجلی کے شعبے میں کارکردگی بہتر بنانے، مسابقت کو فروغ دینے اور ترقی میں معاونت کے لیے نجی شعبے کی شمولیت اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح ٹائم لائنز اور ذمہ داریوں کے ساتھ جامع اور مرحلہ وار لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے تکنیکی ورکنگ گروپ کے کردار کا بھی جائزہ لیا، جو تفصیلی تجزیہ اور اسٹیئرنگ کمیٹی کے غور کے لیے مخصوص تجاویز تیار کرے گا۔ سرمایہ کاروں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ منظم مشاورت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا تاکہ ان کی آرا حاصل کی جاسکیں اور ریگولیٹری بہتری کے لیے درکار شعبوں کی نشاندہی کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اتفاق کیا کہ تکنیکی ورکنگ گروپ نشاندہی کیے گئے شعبوں پر مزید کام کرے گا اور اپنی تجاویز اور سفارشات اسٹیئرنگ کمیٹی کے غور کے لیے پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیئرنگ کمیٹی بجلی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحات سے متعلق تکنیکی ورکنگ گروپ کی تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لے کر ان کی منظوری دے گی، تجاویز پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی اور بروقت عملدرآمد کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ضروری پالیسی ہدایات جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی، نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے نیشنل کوآرڈینیٹر، وزیراعظم کے نجکاری سے متعلق مشیر، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات، چیئرمین نیپرا اور متعلقہ ڈویژنز و وزارتوں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے پاکستان کے بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری فریم ورک میں اصلاحات کا عمل شروع کردیا ہے تاکہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور، کارکردگی بہتر اور نجی شعبے کی شمولیت کے لیے زیادہ قابل پیش گوئی ماحول پیدا کیا جاسکے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ ’’پاور سیکٹر ریگولیٹری رجیم، امپروومنٹ اینڈ ریفارمز‘‘ اسٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے اور کارکردگی، سرمایہ کاری اور مسابقت کے فروغ کے لیے اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>کمیٹی نے موجودہ ریگولیٹری نظام کا جائزہ لیا اور بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور آپریٹنگ ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے نجی شعبے کی شمولیت، طویل مدتی سرمایہ کاری کے حصول، کارکردگی اور مسابقت میں اضافے کے لیے واضح، قابل پیش گوئی اور مستقل ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>اجلاس میں پاکستان کے ادارہ جاتی اور مارکیٹ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریگولیٹری اور پالیسی فریم ورک کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے زور دیا کہ اصلاحات کو شفافیت، مناسب حفاظتی اقدامات اور ریگولیٹری یقین دہانی یقینی بناتے ہوئے سرمایہ کاری اور شعبے کی کارکردگی میں بہتری لانی چاہیے۔</p>
<p>کمیٹی نے بجلی کے شعبے سے متعلق پالیسی اور ریگولیٹری مسائل کے حل کے لیے متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے شعبے کی کارکردگی اور سرمایہ کاری کے نتائج میں ٹھوس بہتری کے لیے عملی اور مقررہ مدت پر مبنی اصلاحاتی عمل کی اہمیت اجاگر کی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے بجلی کے شعبے میں کارکردگی بہتر بنانے، مسابقت کو فروغ دینے اور ترقی میں معاونت کے لیے نجی شعبے کی شمولیت اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح ٹائم لائنز اور ذمہ داریوں کے ساتھ جامع اور مرحلہ وار لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>کمیٹی نے تکنیکی ورکنگ گروپ کے کردار کا بھی جائزہ لیا، جو تفصیلی تجزیہ اور اسٹیئرنگ کمیٹی کے غور کے لیے مخصوص تجاویز تیار کرے گا۔ سرمایہ کاروں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ منظم مشاورت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا تاکہ ان کی آرا حاصل کی جاسکیں اور ریگولیٹری بہتری کے لیے درکار شعبوں کی نشاندہی کی جاسکے۔</p>
<p>کمیٹی نے اتفاق کیا کہ تکنیکی ورکنگ گروپ نشاندہی کیے گئے شعبوں پر مزید کام کرے گا اور اپنی تجاویز اور سفارشات اسٹیئرنگ کمیٹی کے غور کے لیے پیش کرے گا۔</p>
<p>اسٹیئرنگ کمیٹی بجلی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحات سے متعلق تکنیکی ورکنگ گروپ کی تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لے کر ان کی منظوری دے گی، تجاویز پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی اور بروقت عملدرآمد کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ضروری پالیسی ہدایات جاری کرے گی۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی، نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے نیشنل کوآرڈینیٹر، وزیراعظم کے نجکاری سے متعلق مشیر، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات، چیئرمین نیپرا اور متعلقہ ڈویژنز و وزارتوں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291249</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 09:46:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/15094442faaf1ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/15094442faaf1ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
