<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:44:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:44:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی تیل برآمدات معطل، لیبیا میں رسد متاثر؛ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً 3 ڈالر بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291245/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں منگل کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 ڈالر کا اضافہ ہوا، جب ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی ہے، جبکہ لیبیا نے 3 آئل فیلڈز میں کام روک دیا ہے۔ اس سے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ تیل کی اہم رسد گاہوں میں خلل کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.81 ڈالر، یعنی 2.66 فیصد اضافے کے بعد 108.49 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے فیوچرز 3.29 ڈالر اضافے کے بعد 104.68 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر قیمتوں میں یہ اضافہ برقرار رہا تو دونوں معاہدے تقریباً 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہونے کی راہ پر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسد سے متعلق خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب یمن میں حوثی فورسز نے پیر کو سعودی عرب پر تازہ حملے کیے، جبکہ خلیجی عرب ریاستوں نے ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات مؤخر کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ حملے جمعہ کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حوثیوں کے حملے کے بعد کیے گئے، جس کے نتیجے میں دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کو تیل برآمد کرنے کا اہم راستہ بند کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسد کو درپیش خطرات میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی برآمدی ٹرمینل ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی جب ذرائع نے بتایا کہ ریاض نے یورپی خریداروں کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر کے آخر میں روانہ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ایران کے ساتھ جاری تنازع سے الگ لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن نے بتایا کہ 3 آئل فیلڈز میں کام معطل کردیا گیا ہے۔ پٹرولیم فیسلٹیز گارڈ کے احتجاج کرنے والے ارکان نے حمادہ۔زاویہ خام تیل برآمدی پائپ لائن کا ایک والو بند کردیا تھا، جس کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گارڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو بندش کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔ نیشنل آئل کارپوریشن نے کہا کہ اگر والو بند رہا یا مزید آئل فیلڈز کو پیداوار روکنے پر مجبور کیا گیا تو وہ ہنگامی حالات کا اعلان کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق لیبیا 2023 میں اوپیک کا خام تیل پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، روس اور یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں کے باعث امریکی ڈیزل کے فیوچرز میں 5.9 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ بلند ترین سطح پر بند ہونے کی راہ پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ موسمیات و اجناس حماد حسین نے کہا، ’’سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے تازہ حملے ممکنہ طور پر تنازع کی شدت اور دورانیے سے متعلق تیل مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی توقعات کو متاثر کر رہے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے پیر کو کہا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جن میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملے جمعہ کو سعودی عرب پر کیے گئے ان حملوں کے بعد ہوئے جن کا ذمہ دار ریاض نے عراق میں موجود حوثیوں کو قرار دیا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ملک کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن متاثر ہوئی، جو تیل کی برآمدات کو بند آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل راستے سے جاری رکھنے کی سہولت دیتی ہے۔ امریکا۔ایران جنگ سے قبل عالمی تیل رسد کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریداروں اور تاجروں کے مطابق اگر ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی کارروائیاں بحال نہ ہوئیں تو سعودی عرب کے پاس برآمد کے لیے دستیاب خام تیل چند ہی روز میں ختم ہوسکتا ہے۔ پائپ لائن پر حملے سے عالمی تیل رسد کے 4 فیصد تک متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے ایک نوٹ میں کہا، ’’حالیہ حملہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے اور اس سے حالیہ عرصے میں ینبع سے ہونے والی باقی ماندہ 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی برآمدات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جبکہ تازہ ترین مرمتی جائزوں کے مطابق بحالی کا وقت ’بہت جلد‘ سے لے کر 8 ہفتوں تک ہوسکتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تیل-کی-رسد-کے-خطرات-بڑھ-گئے" href="#تیل-کی-رسد-کے-خطرات-بڑھ-گئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تیل کی رسد کے خطرات بڑھ گئے&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس کے مطابق تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے تنازع میں نمایاں شدت آئی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ بینک نے یہ تخمینہ اس منظرنامے کی بنیاد پر پیش کیا ہے جس میں 2027 کے دوران خلیجی ممالک کی اوسط تیل پیداوار جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں روزانہ 40 لاکھ بیرل کم رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےپلر کے منگل کو جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے اجناس بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کم ہو کر 4 رہ گئی، جو ایک روز قبل 10 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسین نے کہا، ’’اگر طلب میں کوئی ردوبدل نہ ہوا یا آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی رسد میں اضافہ نہ ہوا تو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی کئی ہفتوں تک بندش برینٹ خام تیل کی قیمت کو 130 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچا سکتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے باوجود کہ روس اور یوکرین نے حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے، دونوں متحارب فریقوں نے ایک دوسرے کے توانائی کے اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ منگل کو روس نے کیف میں پیٹرول اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا جبکہ یوکرین نے روس کی ایک آئل ریفائنری پر حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے حسابات کے مطابق روس کی ڈیزل پیدا کرنے والی 6 بڑی ریفائنریوں میں سے نصف کو ستمبر میں ڈرون حملوں سے پہنچنے والے نقصانات کے باعث پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑی یا پیداوار مکمل طور پر روکنا پڑی۔ یہ حسابات ایندھن کی مارکیٹ سے وابستہ فریقوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں منگل کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 ڈالر کا اضافہ ہوا، جب ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی ہے، جبکہ لیبیا نے 3 آئل فیلڈز میں کام روک دیا ہے۔ اس سے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ تیل کی اہم رسد گاہوں میں خلل کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.81 ڈالر، یعنی 2.66 فیصد اضافے کے بعد 108.49 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے فیوچرز 3.29 ڈالر اضافے کے بعد 104.68 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔</p>
<p>اگر قیمتوں میں یہ اضافہ برقرار رہا تو دونوں معاہدے تقریباً 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہونے کی راہ پر ہوں گے۔</p>
<p>رسد سے متعلق خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب یمن میں حوثی فورسز نے پیر کو سعودی عرب پر تازہ حملے کیے، جبکہ خلیجی عرب ریاستوں نے ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات مؤخر کردیے۔</p>
<p>تازہ حملے جمعہ کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حوثیوں کے حملے کے بعد کیے گئے، جس کے نتیجے میں دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کو تیل برآمد کرنے کا اہم راستہ بند کرنا پڑا۔</p>
<p>رسد کو درپیش خطرات میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی برآمدی ٹرمینل ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی جب ذرائع نے بتایا کہ ریاض نے یورپی خریداروں کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر کے آخر میں روانہ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کیے جائیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب، ایران کے ساتھ جاری تنازع سے الگ لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن نے بتایا کہ 3 آئل فیلڈز میں کام معطل کردیا گیا ہے۔ پٹرولیم فیسلٹیز گارڈ کے احتجاج کرنے والے ارکان نے حمادہ۔زاویہ خام تیل برآمدی پائپ لائن کا ایک والو بند کردیا تھا، جس کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔</p>
<p>گارڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو بندش کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔ نیشنل آئل کارپوریشن نے کہا کہ اگر والو بند رہا یا مزید آئل فیلڈز کو پیداوار روکنے پر مجبور کیا گیا تو وہ ہنگامی حالات کا اعلان کرسکتی ہے۔</p>
<p>امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق لیبیا 2023 میں اوپیک کا خام تیل پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک تھا۔</p>
<p>دریں اثنا، روس اور یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں کے باعث امریکی ڈیزل کے فیوچرز میں 5.9 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ بلند ترین سطح پر بند ہونے کی راہ پر ہیں۔</p>
<p>کیپٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ موسمیات و اجناس حماد حسین نے کہا، ’’سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے تازہ حملے ممکنہ طور پر تنازع کی شدت اور دورانیے سے متعلق تیل مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی توقعات کو متاثر کر رہے ہیں۔‘‘</p>
<p>حوثیوں نے پیر کو کہا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جن میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔</p>
<p>یہ حملے جمعہ کو سعودی عرب پر کیے گئے ان حملوں کے بعد ہوئے جن کا ذمہ دار ریاض نے عراق میں موجود حوثیوں کو قرار دیا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ملک کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن متاثر ہوئی، جو تیل کی برآمدات کو بند آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل راستے سے جاری رکھنے کی سہولت دیتی ہے۔ امریکا۔ایران جنگ سے قبل عالمی تیل رسد کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔</p>
<p>خریداروں اور تاجروں کے مطابق اگر ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی کارروائیاں بحال نہ ہوئیں تو سعودی عرب کے پاس برآمد کے لیے دستیاب خام تیل چند ہی روز میں ختم ہوسکتا ہے۔ پائپ لائن پر حملے سے عالمی تیل رسد کے 4 فیصد تک متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے ایک نوٹ میں کہا، ’’حالیہ حملہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے اور اس سے حالیہ عرصے میں ینبع سے ہونے والی باقی ماندہ 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی برآمدات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جبکہ تازہ ترین مرمتی جائزوں کے مطابق بحالی کا وقت ’بہت جلد‘ سے لے کر 8 ہفتوں تک ہوسکتا ہے۔‘‘</p>
<h3><a id="تیل-کی-رسد-کے-خطرات-بڑھ-گئے" href="#تیل-کی-رسد-کے-خطرات-بڑھ-گئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تیل کی رسد کے خطرات بڑھ گئے</h3>
<p>گولڈمین ساکس کے مطابق تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے تنازع میں نمایاں شدت آئی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ بینک نے یہ تخمینہ اس منظرنامے کی بنیاد پر پیش کیا ہے جس میں 2027 کے دوران خلیجی ممالک کی اوسط تیل پیداوار جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں روزانہ 40 لاکھ بیرل کم رہتی ہے۔</p>
<p>کےپلر کے منگل کو جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے اجناس بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کم ہو کر 4 رہ گئی، جو ایک روز قبل 10 تھی۔</p>
<p>حسین نے کہا، ’’اگر طلب میں کوئی ردوبدل نہ ہوا یا آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی رسد میں اضافہ نہ ہوا تو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی کئی ہفتوں تک بندش برینٹ خام تیل کی قیمت کو 130 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچا سکتی ہے۔‘‘</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے باوجود کہ روس اور یوکرین نے حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے، دونوں متحارب فریقوں نے ایک دوسرے کے توانائی کے اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ منگل کو روس نے کیف میں پیٹرول اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا جبکہ یوکرین نے روس کی ایک آئل ریفائنری پر حملہ کیا۔</p>
<p>رائٹرز کے حسابات کے مطابق روس کی ڈیزل پیدا کرنے والی 6 بڑی ریفائنریوں میں سے نصف کو ستمبر میں ڈرون حملوں سے پہنچنے والے نقصانات کے باعث پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑی یا پیداوار مکمل طور پر روکنا پڑی۔ یہ حسابات ایندھن کی مارکیٹ سے وابستہ فریقوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291245</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 21:41:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/15213621a3fabe4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/15213621a3fabe4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
