<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 23:19:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 23:19:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 13 افراد شہید، کشیدگی بڑھنے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291237/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان کے ایک قصبے پر اسرائیلی حملوں میں پیر کو کم از کم 13 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی بمباری کے یہ مہلک ترین دنوں میں سے ایک تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں مسلسل اضافے کے بعد لبنان میں اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ جنگ بندی کا مقصد اسرائیلی فوج اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کا خاتمہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق ہونے والے کم از کم 3 افراد کی رشتہ دار ہونے کا دعویٰ کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ایک حملہ رہائشی عمارت پر اس وقت ہوا جب بچے اسکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے کفر رمان قصبے کے علاقے میں ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو ہتھیار منتقل کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ مقام پر رائٹرز کے رپورٹرز نے دیکھا کہ جہاں عمارت قائم تھی، وہاں ملبے کے درمیان بچوں کی اسکول کی کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ امدادی کارکن بھاری مشینری کی مدد سے صبح کے وقت ملبے تلے دبے افراد کی لاشیں نکالتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی افراد کے مطابق اس حملے میں 8 سالہ مصطفیٰ فرحت کے دادا، دادی اور والدہ شہید ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر کی صبح تک امدادی کارکن مصطفیٰ کے والد کی لاش تلاش کر رہے تھے، جبکہ وہ خود اسپتال میں زخمی حالت میں زیرِ علاج تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے ایک رشتہ دار مونا فرحت نے رائٹرز کو بتایا کہ اسکول جانے سے کچھ دیر قبل ان کا گھر نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرحت نے اسپتال میں کہا، ’’انہوں نے کس چیز کو نشانہ بنایا؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی زمین چھوڑ دیں؟ وہ غلطی پر ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کی وزارتِ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر جاری تازہ اعدادوشمار میں بتایا ہے کہ پیر کو رہائشی عمارت پر ہونے والے اس حملے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 6 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں۔ سرکاری میڈیا نے اس سے قبل بتایا تھا کہ حملہ نصف شب کے بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ صحت کے مطابق قصبے میں ایک شہری گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک طبی امدادی کارکن بھی جاں بحق ہوگیا، جبکہ 2 دیگر طبی امدادی کارکن زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کفر رمان میں یہ حملے اسرائیلی فوج کی جانب سے آن لائن انخلا کی کوئی پیشگی وارننگ جاری کیے بغیر کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اسرائیل-شہریوں-کے-زخمی-ہونے-کی-اطلاعات-کا-جائزہ-لے-رہا-ہے" href="#اسرائیل-شہریوں-کے-زخمی-ہونے-کی-اطلاعات-کا-جائزہ-لے-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’’غیر متعلقہ افراد‘‘ کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے، جن میں درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں اور فضائی نگرانی کا استعمال بھی شامل ہے۔ فوج نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے کہ حملوں کے نتیجے میں ’’غیر متعلقہ افراد‘‘ کو نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ نے رات کے وقت اسرائیلی فوجیوں کی جانب 2 دھماکا خیز ڈرون بھیجے، جو جنوب مشرقی لبنان میں واقع علی الطاہر پہاڑی سلسلے کے قریب تعینات تھے۔ یہ علاقہ اہم پہاڑیوں پر مشتمل ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ حزب اللہ نے وہاں زیرِ زمین فوجی کمپلیکس قائم کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس نے علی الطاہر پہاڑی سلسلے سے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نکال دیا ہے۔ حزب اللہ نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور رائٹرز بھی علی الطاہر میں فوجی صورتِ حال کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی سکیورٹی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ اس کے بعد کے دنوں میں اسرائیل نے پہاڑی سلسلے کے شمال اور مغرب میں واقع ان قصبوں پر مہلک حملے تیز کردیے ہیں، جہاں جون میں جنگ بندی کے بعد رہائشی واپس آ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے کہا کہ انہیں آئندہ چند ہفتوں کے دوران جنوبی لبنان میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اتوار کو پہاڑی سلسلے کے قریب 3 قصبوں پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق ہونے والوں میں 2 خواتین بھی شامل تھیں، جو عرب سلیم قصبے پر کیے گئے حملوں میں نشانہ بنیں۔ اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 4 منٹ پر آن لائن انخلا کی وارننگ جاری کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ صحت نے بتایا کہ اتوار کو اسرائیلی فوج کے الگ حملوں میں نباطیہ الفوقا قصبے کا غندور اسپتال بھی تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید بتایا کہ جمعہ کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 4 دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے، جن میں ایک خاتون شامل تھی۔ ان حملوں سے قبل بھی انخلا کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 4,300 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ یہ حملے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے 2 روز بعد شروع ہوئے تھے، جس کے بعد اسرائیل نے فضائی اور زمینی کارروائی کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ صحت کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 250 سے زائد بچے، تقریباً 400 خواتین اور 130 سے زائد طبی امدادی کارکن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے بعد تشدد میں ڈرامائی طور پر کمی آئی، تاہم جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قابض اسرائیلی فوج نے اپنے اعلان کردہ سکیورٹی زون میں دیہات مسمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج اس زون کے اندر اور اس کے شمال میں بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں زیادہ تر مواقع پر انخلا کی پیشگی وارننگ جاری نہیں کی جاتی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان کے ایک قصبے پر اسرائیلی حملوں میں پیر کو کم از کم 13 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی بمباری کے یہ مہلک ترین دنوں میں سے ایک تھا۔</strong></p>
<p>جون میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں مسلسل اضافے کے بعد لبنان میں اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ جنگ بندی کا مقصد اسرائیلی فوج اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کا خاتمہ تھا۔</p>
<p>جاں بحق ہونے والے کم از کم 3 افراد کی رشتہ دار ہونے کا دعویٰ کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ایک حملہ رہائشی عمارت پر اس وقت ہوا جب بچے اسکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے کفر رمان قصبے کے علاقے میں ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو ہتھیار منتقل کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔</p>
<p>متاثرہ مقام پر رائٹرز کے رپورٹرز نے دیکھا کہ جہاں عمارت قائم تھی، وہاں ملبے کے درمیان بچوں کی اسکول کی کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ امدادی کارکن بھاری مشینری کی مدد سے صبح کے وقت ملبے تلے دبے افراد کی لاشیں نکالتے رہے۔</p>
<p>مقامی افراد کے مطابق اس حملے میں 8 سالہ مصطفیٰ فرحت کے دادا، دادی اور والدہ شہید ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر کی صبح تک امدادی کارکن مصطفیٰ کے والد کی لاش تلاش کر رہے تھے، جبکہ وہ خود اسپتال میں زخمی حالت میں زیرِ علاج تھا۔</p>
<p>ان کے ایک رشتہ دار مونا فرحت نے رائٹرز کو بتایا کہ اسکول جانے سے کچھ دیر قبل ان کا گھر نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>فرحت نے اسپتال میں کہا، ’’انہوں نے کس چیز کو نشانہ بنایا؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی زمین چھوڑ دیں؟ وہ غلطی پر ہیں۔‘‘</p>
<p>لبنان کی وزارتِ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر جاری تازہ اعدادوشمار میں بتایا ہے کہ پیر کو رہائشی عمارت پر ہونے والے اس حملے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 6 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں۔ سرکاری میڈیا نے اس سے قبل بتایا تھا کہ حملہ نصف شب کے بعد کیا گیا۔</p>
<p>وزارتِ صحت کے مطابق قصبے میں ایک شہری گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک طبی امدادی کارکن بھی جاں بحق ہوگیا، جبکہ 2 دیگر طبی امدادی کارکن زخمی ہوئے۔</p>
<p>کفر رمان میں یہ حملے اسرائیلی فوج کی جانب سے آن لائن انخلا کی کوئی پیشگی وارننگ جاری کیے بغیر کیے گئے۔</p>
<h3><a id="اسرائیل-شہریوں-کے-زخمی-ہونے-کی-اطلاعات-کا-جائزہ-لے-رہا-ہے" href="#اسرائیل-شہریوں-کے-زخمی-ہونے-کی-اطلاعات-کا-جائزہ-لے-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اسرائیل شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے</strong></h3>
<p>اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’’غیر متعلقہ افراد‘‘ کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے، جن میں درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں اور فضائی نگرانی کا استعمال بھی شامل ہے۔ فوج نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے کہ حملوں کے نتیجے میں ’’غیر متعلقہ افراد‘‘ کو نقصان پہنچا۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ نے رات کے وقت اسرائیلی فوجیوں کی جانب 2 دھماکا خیز ڈرون بھیجے، جو جنوب مشرقی لبنان میں واقع علی الطاہر پہاڑی سلسلے کے قریب تعینات تھے۔ یہ علاقہ اہم پہاڑیوں پر مشتمل ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ حزب اللہ نے وہاں زیرِ زمین فوجی کمپلیکس قائم کر رکھا ہے۔</p>
<p>اسرائیل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس نے علی الطاہر پہاڑی سلسلے سے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نکال دیا ہے۔ حزب اللہ نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور رائٹرز بھی علی الطاہر میں فوجی صورتِ حال کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔</p>
<p>لبنانی سکیورٹی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ اس کے بعد کے دنوں میں اسرائیل نے پہاڑی سلسلے کے شمال اور مغرب میں واقع ان قصبوں پر مہلک حملے تیز کردیے ہیں، جہاں جون میں جنگ بندی کے بعد رہائشی واپس آ گئے تھے۔</p>
<p>حکام نے کہا کہ انہیں آئندہ چند ہفتوں کے دوران جنوبی لبنان میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اتوار کو پہاڑی سلسلے کے قریب 3 قصبوں پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے۔</p>
<p>جاں بحق ہونے والوں میں 2 خواتین بھی شامل تھیں، جو عرب سلیم قصبے پر کیے گئے حملوں میں نشانہ بنیں۔ اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 4 منٹ پر آن لائن انخلا کی وارننگ جاری کی تھی۔</p>
<p>وزارتِ صحت نے بتایا کہ اتوار کو اسرائیلی فوج کے الگ حملوں میں نباطیہ الفوقا قصبے کا غندور اسپتال بھی تباہ ہوگیا۔</p>
<p>وزارت نے مزید بتایا کہ جمعہ کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 4 دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے، جن میں ایک خاتون شامل تھی۔ ان حملوں سے قبل بھی انخلا کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی تھی۔</p>
<p>لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 4,300 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ یہ حملے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے 2 روز بعد شروع ہوئے تھے، جس کے بعد اسرائیل نے فضائی اور زمینی کارروائی کا آغاز کیا۔</p>
<p>وزارتِ صحت کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 250 سے زائد بچے، تقریباً 400 خواتین اور 130 سے زائد طبی امدادی کارکن شامل ہیں۔</p>
<p>جنگ بندی کے بعد تشدد میں ڈرامائی طور پر کمی آئی، تاہم جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قابض اسرائیلی فوج نے اپنے اعلان کردہ سکیورٹی زون میں دیہات مسمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج اس زون کے اندر اور اس کے شمال میں بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں زیادہ تر مواقع پر انخلا کی پیشگی وارننگ جاری نہیں کی جاتی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291237</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Sep 2026 20:14:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/1420001558c859a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/1420001558c859a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
