<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:29:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:29:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک گفتگو، حوثی حملوں کی مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291191/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی انفرااسٹرکچر پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے اقدامات علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کا باعث بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بحران کے دوران سعودی ولی عہد کی دانشمندانہ اور دوراندیش قیادت کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات اور احترام کا پیغام پہنچایا۔ اس موقع پر ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت اور علاقائی امن و استحکام کے لیے کوششوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت یمن کے حوثیوں کی جانب سے امریکا کے اتحادی سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات اور شہروں پر حملوں کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جن میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ان حملوں نے ایران کے تنازع کے وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرے کو نمایاں کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں جاری چھ ماہ سے جاری تنازع میں وقفوں کے بعد وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو حوثیوں کے حملے ایران کی اس وارننگ کے بعد ہوئے تھے کہ خلیج بھر میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، بشمول امریکی تیل اور گیس کے مفادات، گزشتہ ہفتے خلیج اور اس کے اطراف بحری جہازوں پر حملوں کے جوابی سلسلے کے بعد خطرے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حملوں کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں چھ ہفتے کی بلند ترین سطح سے بھی تجاوز کرگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزارت توانائی کے مطابق بعض توانائی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور آگ بجھانے والے عملے سمیت ہنگامی امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال کے بیشتر عرصے کے دوران پاکستان نے سعودی عرب کے دفاعی شراکت دار اور واشنگٹن و تہران کے درمیان پس پردہ رابطہ کار کا دہرا کردار ادا کیا ہے، تاہم یمن کی حوثی تحریک اور سعودی فورسز کے درمیان تازہ لڑائی سے یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے کہ اسلام آباد بیک وقت دونوں کردار کب تک برقرار رکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لڑائی گزشتہ ماہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی اتحاد کا پہلا بڑا امتحان بھی ہے، جو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی معاہدے میں مزید وسعت کا باعث بنا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ حوثیوں کا خطرہ اسلام آباد کو جنگ میں اس سے زیادہ براہ راست ملوث کرسکتا ہے جتنا رواں سال کے آغاز میں سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایرانی میزائل حملوں نے کیا تھا۔ دو پاکستانی حکام نے جولائی میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ پاکستانی فوجی یمن کی سرحد کے قریب سعودی علاقے میں تعینات ہیں، جس سے ان کے براہ راست زد میں آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے پاکستان کی بحران کا شکار معیشت کو سہارا دینے کے منصوبوں کا اہم حصہ رہے ہیں اور ان کے ساتھ اکثر خلیجی سرمایہ کاری سے متعلق متوازی یا بعد ازاں مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل پر بھی انحصار کرتا ہے، جبکہ ایران اور حوثی ان راستوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ یہی صورتحال اسلام آباد کو تہران سے تعلقات خراب کرنے سے گریز کرنے کی ایک اہم وجہ فراہم کرتی ہے، جبکہ وہ خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی انفرااسٹرکچر پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔</strong></p>
<p>وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے اقدامات علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کا باعث بن سکتے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بحران کے دوران سعودی ولی عہد کی دانشمندانہ اور دوراندیش قیادت کو بھی سراہا۔</p>
<p>وزیراعظم نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات اور احترام کا پیغام پہنچایا۔ اس موقع پر ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت اور علاقائی امن و استحکام کے لیے کوششوں کو سراہا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔</p>
<p>یہ پیش رفت یمن کے حوثیوں کی جانب سے امریکا کے اتحادی سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات اور شہروں پر حملوں کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جن میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ان حملوں نے ایران کے تنازع کے وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرے کو نمایاں کردیا ہے۔</p>
<p>ایران میں جاری چھ ماہ سے جاری تنازع میں وقفوں کے بعد وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ہے۔</p>
<p>منگل کو حوثیوں کے حملے ایران کی اس وارننگ کے بعد ہوئے تھے کہ خلیج بھر میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، بشمول امریکی تیل اور گیس کے مفادات، گزشتہ ہفتے خلیج اور اس کے اطراف بحری جہازوں پر حملوں کے جوابی سلسلے کے بعد خطرے میں ہے۔</p>
<p>ان حملوں کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں چھ ہفتے کی بلند ترین سطح سے بھی تجاوز کرگئیں۔</p>
<p>سعودی وزارت توانائی کے مطابق بعض توانائی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور آگ بجھانے والے عملے سمیت ہنگامی امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششیں کیں۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال کے بیشتر عرصے کے دوران پاکستان نے سعودی عرب کے دفاعی شراکت دار اور واشنگٹن و تہران کے درمیان پس پردہ رابطہ کار کا دہرا کردار ادا کیا ہے، تاہم یمن کی حوثی تحریک اور سعودی فورسز کے درمیان تازہ لڑائی سے یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے کہ اسلام آباد بیک وقت دونوں کردار کب تک برقرار رکھ سکتا ہے۔</p>
<p>یہ لڑائی گزشتہ ماہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی اتحاد کا پہلا بڑا امتحان بھی ہے، جو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی معاہدے میں مزید وسعت کا باعث بنا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ حوثیوں کا خطرہ اسلام آباد کو جنگ میں اس سے زیادہ براہ راست ملوث کرسکتا ہے جتنا رواں سال کے آغاز میں سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایرانی میزائل حملوں نے کیا تھا۔ دو پاکستانی حکام نے جولائی میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ پاکستانی فوجی یمن کی سرحد کے قریب سعودی علاقے میں تعینات ہیں، جس سے ان کے براہ راست زد میں آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے پاکستان کی بحران کا شکار معیشت کو سہارا دینے کے منصوبوں کا اہم حصہ رہے ہیں اور ان کے ساتھ اکثر خلیجی سرمایہ کاری سے متعلق متوازی یا بعد ازاں مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم پاکستان آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل پر بھی انحصار کرتا ہے، جبکہ ایران اور حوثی ان راستوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ یہی صورتحال اسلام آباد کو تہران سے تعلقات خراب کرنے سے گریز کرنے کی ایک اہم وجہ فراہم کرتی ہے، جبکہ وہ خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291191</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Sep 2026 09:26:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/14092531c5a2dde.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/14092531c5a2dde.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
