<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 17:46:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 17:46:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا ڈیجیٹل اثاثوں پر عالمی تعاون مضبوط بنانے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291169/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک کی تشکیل کے لیے عالمی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممالک کو مالیاتی نظام کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بصورت دیگر وہ اس سے متاثر ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں پائیدار ترقی کے لیے ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین کے موضوع پر اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اجلاس اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے یو این ڈی پی، یو این سی ٹی اے ڈی اور ٹیکنالوجی سے متعلق سیکریٹری جنرل کے نمائندہ دفتر کے اشتراک سے منعقد کیا، جس میں رکن ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، ٹوکنائزیشن اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجیز ترقی پذیر معیشتوں کو مالیاتی ڈھانچے میں شمولیت، کارکردگی اور رسائی کے حوالے سے نئے سرے سے سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب بالغ افراد اب بھی رسمی مالیاتی نظام سے باہر ہیں، جبکہ اربوں افراد مہنگی ترسیلات زر، سست تصفیے اور قرض تک محدود رسائی کا سامنا کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 200 ڈالر کی سرحد پار ترسیل کی اوسط لاگت پائیدار ترقی کے ہدف کے تحت مقررہ 3 فیصد کی سطح سے دگنی سے بھی زیادہ ہے، جس میں کمی سے خاندانوں کو سالانہ اربوں ڈالر اضافی حاصل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ڈیجیٹل مالیات کے فوائد ادائیگیوں اور ترسیلات زر تک محدود نہیں۔ ڈیجیٹل شناخت اور قابل تصدیق مالیاتی ریکارڈ چھوٹے کاروباروں، کسانوں اور خواتین کاروباریوں کو روایتی ضمانتوں کے بغیر اپنی معاشی سرگرمی ثابت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ ٹوکنائزیشن بنیادی ڈھانچے اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے سرمایہ متحرک کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بلال بن ثاقب نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی ترقی کے مسائل کا خودکار حل نہیں۔ انہوں نے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، غیر قانونی مالی سرگرمیوں، معاشی طاقت کے ارتکاز اور مختلف ممالک کے درمیان ریگولیٹری خلا کو اہم خطرات قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریگولیشن کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ترقی کرنا چاہیے، کیونکہ تاخیر صارفین اور مارکیٹوں کو خطرات سے دوچار کرسکتی ہے، جبکہ حد سے زیادہ سخت ضابطے ڈیجیٹل سرگرمیوں کو غیر شفاف ماحول میں دھکیل سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک کی تشکیل کے لیے عالمی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممالک کو مالیاتی نظام کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بصورت دیگر وہ اس سے متاثر ہوں گے۔</strong></p>
<p>وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں پائیدار ترقی کے لیے ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین کے موضوع پر اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔</p>
<p>یہ اجلاس اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے یو این ڈی پی، یو این سی ٹی اے ڈی اور ٹیکنالوجی سے متعلق سیکریٹری جنرل کے نمائندہ دفتر کے اشتراک سے منعقد کیا، جس میں رکن ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔</p>
<p>بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، ٹوکنائزیشن اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجیز ترقی پذیر معیشتوں کو مالیاتی ڈھانچے میں شمولیت، کارکردگی اور رسائی کے حوالے سے نئے سرے سے سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب بالغ افراد اب بھی رسمی مالیاتی نظام سے باہر ہیں، جبکہ اربوں افراد مہنگی ترسیلات زر، سست تصفیے اور قرض تک محدود رسائی کا سامنا کررہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 200 ڈالر کی سرحد پار ترسیل کی اوسط لاگت پائیدار ترقی کے ہدف کے تحت مقررہ 3 فیصد کی سطح سے دگنی سے بھی زیادہ ہے، جس میں کمی سے خاندانوں کو سالانہ اربوں ڈالر اضافی حاصل ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق ڈیجیٹل مالیات کے فوائد ادائیگیوں اور ترسیلات زر تک محدود نہیں۔ ڈیجیٹل شناخت اور قابل تصدیق مالیاتی ریکارڈ چھوٹے کاروباروں، کسانوں اور خواتین کاروباریوں کو روایتی ضمانتوں کے بغیر اپنی معاشی سرگرمی ثابت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ ٹوکنائزیشن بنیادی ڈھانچے اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے سرمایہ متحرک کرسکتی ہے۔</p>
<p>تاہم بلال بن ثاقب نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی ترقی کے مسائل کا خودکار حل نہیں۔ انہوں نے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، غیر قانونی مالی سرگرمیوں، معاشی طاقت کے ارتکاز اور مختلف ممالک کے درمیان ریگولیٹری خلا کو اہم خطرات قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریگولیشن کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ترقی کرنا چاہیے، کیونکہ تاخیر صارفین اور مارکیٹوں کو خطرات سے دوچار کرسکتی ہے، جبکہ حد سے زیادہ سخت ضابطے ڈیجیٹل سرگرمیوں کو غیر شفاف ماحول میں دھکیل سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291169</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Sep 2026 11:03:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/1311020500e98c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="676" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/1311020500e98c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
