<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:57:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:57:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او آئی سی ممالک میں مضبوط اقتصادی انضمام ضروری ہے، ایف پی سی سی آئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291138/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ہفتے کو کہا ہے کہ 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کی مجموعی جی ڈی پی تقریباً 10.77 ٹریلین ڈالر ہونے کے باوجود باہمی تجارت ان کی مجموعی بیرونی تجارت کا صرف 20.36 فیصد ہے جو گہری اقتصادی انضمام کی وسیع اور غیر استعمال شدہ صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان کے مطابق یہ اعدادوشمار ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کے ذریعے اسلامی اقتصادی انضمام کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنے پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ 57 رکنی او آئی سی چار براعظموں میں پھیلی ہوئی ایک وسیع اقتصادی منڈی کی نمائندگی کرتی ہے جس کی 2025 میں مجموعی جی ڈی پی تقریباً 10.77 ٹریلین ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی ممالک نے سال کے دوران تقریباً 1.7 ٹریلین ڈالر کی برآمدات اور 1.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کیں جو اس منڈی کے وسیع حجم اور مزید اقتصادی انضمام کے لیے دستیاب بے پناہ مواقع کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی ممالک نے سال کے دوران تقریباً 1.7 ٹریلین ڈالر کی برآمدات اور 1.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کیں جو اس منڈی کے وسیع حجم اور مزید اقتصادی انضمام کے لیے دستیاب بے پناہ مواقع کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو رکن ممالک کی مجموعی بیرونی تجارت کا 20.36 فیصد ہے۔ تاہم یہ اعدادوشمار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بہتر تجارتی سہولت کاری، رابطوں کے فروغ، مالی روابط اور نجی شعبے کے تعاون کے ذریعے او آئی سی ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کی خاطر خواہ گنجائش موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان کے پاس او آئی سی کی منڈیوں کے ساتھ اسلامی اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات، زراعت و فوڈ پروسیسنگ، دواسازی، انجینئرنگ مصنوعات، معدنیات و کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، حلال مصنوعات، سیاحت، لاجسٹکس اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں۔ انہوں نے زور دیا کہ توجہ صرف روایتی تجارت تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی شراکت داری، سرمایہ کاری اور علاقائی ویلیو چینز کو بھی زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع، وسیع صارفین کی منڈی، نوجوان آبادی، صنعتی بنیاد اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع او آئی سی ممالک سے سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی دنیا میں چیمبرز اور کاروباری تنظیموں کے درمیان کاروبار سے کاروبار روابط، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور ادارہ جاتی روابط بڑھانے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا کے پاس بے پناہ اقتصادی وسائل اور وسیع منڈیاں موجود ہیں۔ ہمارا مقصد اس صلاحیت کو زیادہ تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور پائیدار کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ہفتے کو کہا ہے کہ 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کی مجموعی جی ڈی پی تقریباً 10.77 ٹریلین ڈالر ہونے کے باوجود باہمی تجارت ان کی مجموعی بیرونی تجارت کا صرف 20.36 فیصد ہے جو گہری اقتصادی انضمام کی وسیع اور غیر استعمال شدہ صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان کے مطابق یہ اعدادوشمار ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کے ذریعے اسلامی اقتصادی انضمام کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جاری کیے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنے پر بھی زور دیا۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ 57 رکنی او آئی سی چار براعظموں میں پھیلی ہوئی ایک وسیع اقتصادی منڈی کی نمائندگی کرتی ہے جس کی 2025 میں مجموعی جی ڈی پی تقریباً 10.77 ٹریلین ڈالر رہی۔</p>
<p>او آئی سی ممالک نے سال کے دوران تقریباً 1.7 ٹریلین ڈالر کی برآمدات اور 1.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کیں جو اس منڈی کے وسیع حجم اور مزید اقتصادی انضمام کے لیے دستیاب بے پناہ مواقع کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>او آئی سی ممالک نے سال کے دوران تقریباً 1.7 ٹریلین ڈالر کی برآمدات اور 1.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کیں جو اس منڈی کے وسیع حجم اور مزید اقتصادی انضمام کے لیے دستیاب بے پناہ مواقع کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو رکن ممالک کی مجموعی بیرونی تجارت کا 20.36 فیصد ہے۔ تاہم یہ اعدادوشمار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بہتر تجارتی سہولت کاری، رابطوں کے فروغ، مالی روابط اور نجی شعبے کے تعاون کے ذریعے او آئی سی ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کی خاطر خواہ گنجائش موجود ہے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان کے پاس او آئی سی کی منڈیوں کے ساتھ اسلامی اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات، زراعت و فوڈ پروسیسنگ، دواسازی، انجینئرنگ مصنوعات، معدنیات و کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، حلال مصنوعات، سیاحت، لاجسٹکس اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں۔ انہوں نے زور دیا کہ توجہ صرف روایتی تجارت تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی شراکت داری، سرمایہ کاری اور علاقائی ویلیو چینز کو بھی زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع، وسیع صارفین کی منڈی، نوجوان آبادی، صنعتی بنیاد اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع او آئی سی ممالک سے سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی دنیا میں چیمبرز اور کاروباری تنظیموں کے درمیان کاروبار سے کاروبار روابط، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور ادارہ جاتی روابط بڑھانے پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا کے پاس بے پناہ اقتصادی وسائل اور وسیع منڈیاں موجود ہیں۔ ہمارا مقصد اس صلاحیت کو زیادہ تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور پائیدار کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291138</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Sep 2026 13:33:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/12132818dad0fad.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/12132818dad0fad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
