<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>1.5 ٹریلین روپے ریونیو خلا، حکومت کی پٹرولیم لیوی کو نئے ٹیکس اقدامات سے بدلنے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291132/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت جماعت اسلامی کی اس تجویز پر غور کررہی ہے کہ پٹرولیم لیوی کو بتدریج کم کرکے 5 سے 10 روپے فی لٹر کردیا جائے اور سالانہ وفاقی ریونیو میں تقریباً 1.45 سے 1.50 ٹریلین روپے کے خلا کو نئے ٹیکسز، ٹیکس چھوٹ کے خاتمے، اخراجات میں بچت اور ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے ذریعے پورا کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ منصوبہ بندی نے اس تجویز کو متعلقہ تمام شراکت داروں، بشمول وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کو ان کی آرا اور جائزے کیلئے ارسال کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی وصولی 1,557 ارب روپے رہی جبکہ ہدف 1,468 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ مالی سال 2026-27 کیلئے پی ڈی ایل وصولی کا ہدف 1,576 ارب تخمینہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق 12 ماہ کی مدت کے دوران لیوی کو کم کرکے 5 سے 10 روپے فی لیٹر کی بنیادی شرح مقرر کرنے سے پی ڈی ایل سے حاصل ہونے والی باقی ماندہ آمدنی صرف تقریباً 96 سے 180 ارب روپے رہ جائے گی۔ چنانچہ موجودہ مالی گنجائش برقرار رکھنے کے لیے متبادل اقدامات کے ذریعے سالانہ تقریباً 1.5 سے 1.6 ٹریلین روپے حاصل کرنا ضروری ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تجویز میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) اور روایتی ٹیکسز کے درمیان مالی اعتبار سے ایک اہم فرق کو اجاگر کیا گیا۔ پی ڈی ایل کو نان ٹیکس ریونیو میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کی پوری رقم وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے جب کہ ایف بی آر کے ذریعے وصول کیے جانے والے زیادہ تر متبادل ٹیکس نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے ساتھ تقسیم کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً دستاویز میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کو اسی تناسب سے ریونیو نقصان سے بچانے کے لیے نان ٹیکس ذرائع، لیویز، سرچارجز یا این ایف سی سے متعلق کوئی انتظام نہ کیا گیا تو ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولیاں پی ڈی ایل سے حاصل ہونے والے ریونیو کے خلا سے تقریباً 2.3 گنا زیادہ ہونا ضروری ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرتعیش اشیا کے استعمال اور زیادہ آمدنی والے ٹیکس دہندگان کو ہدف بنانے کی تجویز: مجوزہ متبادل حکمتِ عملی کے تحت حکومت پرتعیش درآمدات اور مہنگی اشیا کے استعمال پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے کا جائزہ لے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز میں 2022 میں لگائی گئی پرتعیش درآمدات پر پابندیوں کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پرتعیش اشیا کے وسیع تر شعبے کو شامل کرنے کے ساتھ فرسٹ اور بزنس کلاس فضائی سفر اور پرتعیش گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرکے مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد حقیقت پسندانہ طور پر 200 سے 280 ارب روپے ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں بتایا گیا کہ موجودہ سپر ٹیکس، جو اس وقت زیادہ سے زیادہ 10 فیصد کی شرح سے عائد کیا جاتا ہے، تقریباً 150 سے 200 ارب روپے ریونیو فراہم کرتا ہے۔ سب سے بڑی 200 سے 300 کارپوریشنز اور انتہائی زیادہ آمدنی والے افراد پر مزید 5 سے 7.5 فیصد پوائنٹس کا سرچارج عائد کرنے سے محدود پیمانے پر منافع کی منتقلی فرض کرتے ہوئے مزید 180 سے 250 ارب روپے ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اضافی بوجھ کا نمایاں حصہ برداشت کرنے والے متوقع شعبوں میں بینکاری، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار، کھاد اور سیمنٹ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس چھوٹ کا جائزہ: تجویز میں ٹیکس چھوٹ کے خاتمے کو بھی اضافی ریونیو حاصل کرنے کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی ٹیکس اخراجات کا تخمینہ تقریباً 2.35 ٹریلین روپے لگایا گیا  جس میں تقریباً 1.27 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس، 580 ارب روپے انکم ٹیکس اور 500 ارب روپے کسٹمز سے متعلق ٹیکس چھوٹ کی مد میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوراک، صحت، تعلیم اور دفاع سے متعلق ٹیکس چھوٹ کو برقرار رکھنے کے بعد دستاویز کے تخمینے کے مطابق تقریباً 1.2 سے 1.4 ٹریلین روپے کا ایسا دائرہ موجود ہو سکتا ہے جس سے اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تخمینہ ہے کہ 24 ماہ کے دوران اس دائرے کے 35 سے 50 فیصد حصے سے ریونیو حاصل کیا جائے تو تقریباً 450 سے 650 ارب روپے کی اضافی وصولی ممکن ہے۔ دستاویز کے مطابق ٹیکس اخراجات میں اصلاحات کی مکمل استعداد تقریباً 800 ارب روپے سے 1.2 ٹریلین روپے تک ہے، تاہم ماضی میں حقیقی وصولیاں نظریاتی استعداد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ڈی ایل ریونیو کے متبادل کے طور پر شرح سود میں کمی کی تجویز: دلچسپ امر یہ ہے کہ تجویز میں براہِ راست ٹیکس ریونیو کے بجائے شرح سود میں کمی کو مالی گنجائش پیدا کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی زیرِ غور لایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران قرضوں کی ادائیگی پر تقریباً 6.9 ٹریلین روپے خرچ ہوئے جس میں تقریباً 6 ٹریلین روپے ملکی قرضوں کی مد میں تھے۔ چونکہ ملکی قرضوں کا ایک بڑا حصہ متغیر شرح سود پر مبنی ہے، اس لیے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی سے ٹریژری بلز اور دیگر متغیر شرح سود والے مالی آلات کی شرح میں ردوبدل کے بعد سالانہ تقریباً 350 سے 500 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ شرح سود میں 200 بیسس پوائنٹس کی کمی سے تقریباً 700 ارب روپے سے 1 ٹریلین روپے تک کی متوقع مالی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں تسلیم کیا گیا کہ یہ روایتی ریونیو وصولی کے بجائے اخراجات میں بچت ہے تاہم مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر افراطِ زر کی صورتحال ایسی مالی نرمی کی اجازت دے تو اسے پرائمری بیلنس میں پی ڈی ایل ریونیو کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی آمدن اور دولت پر ٹیکس: تجویز میں زیادہ مالیت کی حامل معاشی سرگرمیوں، بشمول زرعی آمدنی اور دولت پر مزید ٹیکس عائد کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی آمدنی پر ٹیکس سے 12 ماہ کے اندر 40 سے 80 ارب روپے جب کہ 24 ماہ کے دوران سالانہ بنیاد پر 120 سے 200 ارب روپے ریونیو حاصل ہونے کی گنجائش کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 100 ملین روپے سے زائد مالیت کے دستاویزی خالص منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں پر ایک فیصد ٹیکس کی بنیاد پر مؤثر ویلتھ ٹیکس جس کے ساتھ بیرونِ ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس بھی عائد ہو سے ابتدائی مدت کے دوران 50 سے 90 ارب روپے جبکہ 24 ماہ کے اندر سالانہ بنیاد پر 100 سے 160 ارب روپے ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، تجویز میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اثاثوں کی مالیت کے تعین سے متعلق تنازعات اور عدالتی مقدمات کے باعث ویلتھ ٹیکس سے پہلے سال میں حاصل ہونے والی وصولیاں محدود رہ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاربن لیوی سے 200 ارب روپے تک ریونیو متوقع: ماحولیاتی اور کاربن لیوی میں توسیع کی تجویز بھی دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق موجودہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی جو تقریباً 2.50 روپے فی لیٹر ہے اور اسے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر تک کیا جا سکتا ہے، سے تقریباً 45 سے 90 ارب روپے ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں کوئلے، سیمنٹ، کیپٹو پاور اور بڑے صنعتی کاربن اخراج کرنے والے اداروں تک کاربن پرائس مقرر کرنے کا دائرہ بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی شرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کے فی ٹن 3 سے 5 امریکی ڈالر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 200 ملین ٹن احاطہ شدہ کاربن اخراج کی بنیاد پر اس اقدام سے اندازاً 80 سے 120 ارب روپے ریونیو حاصل ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں 24ویں ماہ تک مجموعی سالانہ متوقع آمدنی تقریباً 130 سے 200 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی پر مبنی ٹیکس چوری کی نشاندہی کی تجویز: تجویز میں ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس نفاذ پر خاص زور دیا گیا ہے بالخصوص بینکوں، یوٹیلیٹی خدمات، سفری ریکارڈ، جائیداد اور پوائنٹس آف سیل کے ڈیٹا کی باہمی مطابقت کے ذریعے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایف بی آر کا کمپلائنس گیپ خاصا وسیع ہے، تاہم قانونی چارہ جوئی کے باعث ٹیکس نفاذ کے ذریعے ہونے والی وصولیوں میں وقت لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی تجربات کی روشنی میں تجویز میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ڈیٹا پر مبنی آڈٹ کے ذریعے دو سال کے اندر مجموعی ٹیکس وصولی کی بنیاد کے تقریباً 1.5 سے 2.5 فیصد حصے کی وصولی ممکن ہے جو سالانہ بنیاد پر 200 سے 350 ارب روپے کی اضافی وصولیوں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں ایف بی آر کی تنظیمِ نو کرتے ہوئے اسے نسبتاً مختصر ڈھانچے اور اندرونی احتساب کے زیادہ مؤثر نظام پر استوار کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ کسٹمز اور ری فنڈز میں ہونے والی رساؤ کو کم کرکے، متوقع رساؤ کا محتاط اندازے کے مطابق 10 سے 20 فیصد حصہ واپس حاصل کیا جائے تو 50 سے 100 ارب روپے ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے فوائد بڑی حد تک وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے اور اس سے ٹیکس نفاذ کے دیگر اقدامات کو بھی تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی آئی ایس/جی پی ایس پر مبنی پراپرٹی ٹیکس: ایک اور تجویز کردہ اقدام ٹیکس کے لیے زمین اور جائیداد کی نشاندہی اور درجہ بندی میں جی آئی ایس/جی پی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں نشاندہی کی گئی  کہ شہری غیر منقولہ جائیداد سے حاصل ہونے والا ٹیکس اس وقت جی ڈی پی کے 0.1 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ اس کی متوقع استعداد 0.5 سے 1.0 فیصد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز کے مطابق بڑے شہروں میں کمرشل اور صنعتی اراضی کی سیٹلائٹ کے ذریعے دوبارہ درجہ بندی اور کم ظاہر کی گئی جائیداد کی نشاندہی سے ابتدائی طور پر تقریباً 30 سے 60 ارب روپے جب کہ 24ویں ماہ تک سالانہ بنیاد پر 80 سے 150 ارب روپے ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دستاویز میں ایک بار پھر وفاق اور صوبوں کے درمیان ریونیو تقسیم کے مسئلے کی نشاندہی کی گئی کیونکہ زمین اور جائیداد پر ٹیکس عائد کرنا صوبائی دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز: حکمتِ عملی میں پورے ریٹیل شعبے کو بغیر کسی استثنیٰ کے نرم شرائط کی بنیاد پر ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز کے مطابق پاکستان میں تقریباً 35 سے 40 لاکھ تاجر ہیں، جبکہ اس وقت 15 فیصد سے بھی کم تاجر ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں دستاویزی معیشت کو فروغ دینے کی اسکیمیں خاطر خواہ ریونیو حاصل کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہیں، تاہم تجویز دی گئی ہے کہ بجلی کے میٹروں سے منسلک کم شرح کا مقررہ لیوی عائد کیا جائے، جس کا دائرہ تقریباً 25 لاکھ کمرشل کنکشنز تک ہو، جبکہ بڑے ریٹیلرز کے لیے پوائنٹ آف سیل سسٹم سے لازمی انضمام کی شرط عائد کی جائے۔ ان اقدامات سے 24ویں ماہ تک سالانہ بنیاد پر 150 سے 250 ارب روپے ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت جماعت اسلامی کی اس تجویز پر غور کررہی ہے کہ پٹرولیم لیوی کو بتدریج کم کرکے 5 سے 10 روپے فی لٹر کردیا جائے اور سالانہ وفاقی ریونیو میں تقریباً 1.45 سے 1.50 ٹریلین روپے کے خلا کو نئے ٹیکسز، ٹیکس چھوٹ کے خاتمے، اخراجات میں بچت اور ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے ذریعے پورا کیا جائے۔</strong></p>
<p>وزارتِ منصوبہ بندی نے اس تجویز کو متعلقہ تمام شراکت داروں، بشمول وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کو ان کی آرا اور جائزے کیلئے ارسال کردیا ہے۔</p>
<p>تجویز میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی وصولی 1,557 ارب روپے رہی جبکہ ہدف 1,468 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ مالی سال 2026-27 کیلئے پی ڈی ایل وصولی کا ہدف 1,576 ارب تخمینہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق 12 ماہ کی مدت کے دوران لیوی کو کم کرکے 5 سے 10 روپے فی لیٹر کی بنیادی شرح مقرر کرنے سے پی ڈی ایل سے حاصل ہونے والی باقی ماندہ آمدنی صرف تقریباً 96 سے 180 ارب روپے رہ جائے گی۔ چنانچہ موجودہ مالی گنجائش برقرار رکھنے کے لیے متبادل اقدامات کے ذریعے سالانہ تقریباً 1.5 سے 1.6 ٹریلین روپے حاصل کرنا ضروری ہوگا۔</p>
<p>تاہم تجویز میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) اور روایتی ٹیکسز کے درمیان مالی اعتبار سے ایک اہم فرق کو اجاگر کیا گیا۔ پی ڈی ایل کو نان ٹیکس ریونیو میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کی پوری رقم وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے جب کہ ایف بی آر کے ذریعے وصول کیے جانے والے زیادہ تر متبادل ٹیکس نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے ساتھ تقسیم کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>نتیجتاً دستاویز میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کو اسی تناسب سے ریونیو نقصان سے بچانے کے لیے نان ٹیکس ذرائع، لیویز، سرچارجز یا این ایف سی سے متعلق کوئی انتظام نہ کیا گیا تو ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولیاں پی ڈی ایل سے حاصل ہونے والے ریونیو کے خلا سے تقریباً 2.3 گنا زیادہ ہونا ضروری ہوں گی۔</p>
<p>پرتعیش اشیا کے استعمال اور زیادہ آمدنی والے ٹیکس دہندگان کو ہدف بنانے کی تجویز: مجوزہ متبادل حکمتِ عملی کے تحت حکومت پرتعیش درآمدات اور مہنگی اشیا کے استعمال پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے کا جائزہ لے رہی ہے۔</p>
<p>تجویز میں 2022 میں لگائی گئی پرتعیش درآمدات پر پابندیوں کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پرتعیش اشیا کے وسیع تر شعبے کو شامل کرنے کے ساتھ فرسٹ اور بزنس کلاس فضائی سفر اور پرتعیش گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرکے مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد حقیقت پسندانہ طور پر 200 سے 280 ارب روپے ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>دستاویز میں بتایا گیا کہ موجودہ سپر ٹیکس، جو اس وقت زیادہ سے زیادہ 10 فیصد کی شرح سے عائد کیا جاتا ہے، تقریباً 150 سے 200 ارب روپے ریونیو فراہم کرتا ہے۔ سب سے بڑی 200 سے 300 کارپوریشنز اور انتہائی زیادہ آمدنی والے افراد پر مزید 5 سے 7.5 فیصد پوائنٹس کا سرچارج عائد کرنے سے محدود پیمانے پر منافع کی منتقلی فرض کرتے ہوئے مزید 180 سے 250 ارب روپے ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>اس اضافی بوجھ کا نمایاں حصہ برداشت کرنے والے متوقع شعبوں میں بینکاری، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار، کھاد اور سیمنٹ شامل ہیں۔</p>
<p>ٹیکس چھوٹ کا جائزہ: تجویز میں ٹیکس چھوٹ کے خاتمے کو بھی اضافی ریونیو حاصل کرنے کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی ٹیکس اخراجات کا تخمینہ تقریباً 2.35 ٹریلین روپے لگایا گیا  جس میں تقریباً 1.27 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس، 580 ارب روپے انکم ٹیکس اور 500 ارب روپے کسٹمز سے متعلق ٹیکس چھوٹ کی مد میں شامل ہیں۔</p>
<p>خوراک، صحت، تعلیم اور دفاع سے متعلق ٹیکس چھوٹ کو برقرار رکھنے کے بعد دستاویز کے تخمینے کے مطابق تقریباً 1.2 سے 1.4 ٹریلین روپے کا ایسا دائرہ موجود ہو سکتا ہے جس سے اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p>تخمینہ ہے کہ 24 ماہ کے دوران اس دائرے کے 35 سے 50 فیصد حصے سے ریونیو حاصل کیا جائے تو تقریباً 450 سے 650 ارب روپے کی اضافی وصولی ممکن ہے۔ دستاویز کے مطابق ٹیکس اخراجات میں اصلاحات کی مکمل استعداد تقریباً 800 ارب روپے سے 1.2 ٹریلین روپے تک ہے، تاہم ماضی میں حقیقی وصولیاں نظریاتی استعداد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی ہیں۔</p>
<p>پی ڈی ایل ریونیو کے متبادل کے طور پر شرح سود میں کمی کی تجویز: دلچسپ امر یہ ہے کہ تجویز میں براہِ راست ٹیکس ریونیو کے بجائے شرح سود میں کمی کو مالی گنجائش پیدا کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی زیرِ غور لایا گیا ہے۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران قرضوں کی ادائیگی پر تقریباً 6.9 ٹریلین روپے خرچ ہوئے جس میں تقریباً 6 ٹریلین روپے ملکی قرضوں کی مد میں تھے۔ چونکہ ملکی قرضوں کا ایک بڑا حصہ متغیر شرح سود پر مبنی ہے، اس لیے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی سے ٹریژری بلز اور دیگر متغیر شرح سود والے مالی آلات کی شرح میں ردوبدل کے بعد سالانہ تقریباً 350 سے 500 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔</p>
<p>چنانچہ شرح سود میں 200 بیسس پوائنٹس کی کمی سے تقریباً 700 ارب روپے سے 1 ٹریلین روپے تک کی متوقع مالی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔</p>
<p>دستاویز میں تسلیم کیا گیا کہ یہ روایتی ریونیو وصولی کے بجائے اخراجات میں بچت ہے تاہم مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر افراطِ زر کی صورتحال ایسی مالی نرمی کی اجازت دے تو اسے پرائمری بیلنس میں پی ڈی ایل ریونیو کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>زرعی آمدن اور دولت پر ٹیکس: تجویز میں زیادہ مالیت کی حامل معاشی سرگرمیوں، بشمول زرعی آمدنی اور دولت پر مزید ٹیکس عائد کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>زرعی آمدنی پر ٹیکس سے 12 ماہ کے اندر 40 سے 80 ارب روپے جب کہ 24 ماہ کے دوران سالانہ بنیاد پر 120 سے 200 ارب روپے ریونیو حاصل ہونے کی گنجائش کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>اسی طرح 100 ملین روپے سے زائد مالیت کے دستاویزی خالص منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں پر ایک فیصد ٹیکس کی بنیاد پر مؤثر ویلتھ ٹیکس جس کے ساتھ بیرونِ ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس بھی عائد ہو سے ابتدائی مدت کے دوران 50 سے 90 ارب روپے جبکہ 24 ماہ کے اندر سالانہ بنیاد پر 100 سے 160 ارب روپے ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم، تجویز میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اثاثوں کی مالیت کے تعین سے متعلق تنازعات اور عدالتی مقدمات کے باعث ویلتھ ٹیکس سے پہلے سال میں حاصل ہونے والی وصولیاں محدود رہ سکتی ہیں۔</p>
<p>کاربن لیوی سے 200 ارب روپے تک ریونیو متوقع: ماحولیاتی اور کاربن لیوی میں توسیع کی تجویز بھی دی گئی ہے۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق موجودہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی جو تقریباً 2.50 روپے فی لیٹر ہے اور اسے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر تک کیا جا سکتا ہے، سے تقریباً 45 سے 90 ارب روپے ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں کوئلے، سیمنٹ، کیپٹو پاور اور بڑے صنعتی کاربن اخراج کرنے والے اداروں تک کاربن پرائس مقرر کرنے کا دائرہ بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی شرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کے فی ٹن 3 سے 5 امریکی ڈالر ہوگی۔</p>
<p>تقریباً 200 ملین ٹن احاطہ شدہ کاربن اخراج کی بنیاد پر اس اقدام سے اندازاً 80 سے 120 ارب روپے ریونیو حاصل ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں 24ویں ماہ تک مجموعی سالانہ متوقع آمدنی تقریباً 130 سے 200 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>اے آئی پر مبنی ٹیکس چوری کی نشاندہی کی تجویز: تجویز میں ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس نفاذ پر خاص زور دیا گیا ہے بالخصوص بینکوں، یوٹیلیٹی خدمات، سفری ریکارڈ، جائیداد اور پوائنٹس آف سیل کے ڈیٹا کی باہمی مطابقت کے ذریعے۔</p>
<p>دستاویز میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایف بی آر کا کمپلائنس گیپ خاصا وسیع ہے، تاہم قانونی چارہ جوئی کے باعث ٹیکس نفاذ کے ذریعے ہونے والی وصولیوں میں وقت لگتا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی تجربات کی روشنی میں تجویز میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ڈیٹا پر مبنی آڈٹ کے ذریعے دو سال کے اندر مجموعی ٹیکس وصولی کی بنیاد کے تقریباً 1.5 سے 2.5 فیصد حصے کی وصولی ممکن ہے جو سالانہ بنیاد پر 200 سے 350 ارب روپے کی اضافی وصولیوں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>دستاویز میں ایف بی آر کی تنظیمِ نو کرتے ہوئے اسے نسبتاً مختصر ڈھانچے اور اندرونی احتساب کے زیادہ مؤثر نظام پر استوار کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ کسٹمز اور ری فنڈز میں ہونے والی رساؤ کو کم کرکے، متوقع رساؤ کا محتاط اندازے کے مطابق 10 سے 20 فیصد حصہ واپس حاصل کیا جائے تو 50 سے 100 ارب روپے ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے فوائد بڑی حد تک وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے اور اس سے ٹیکس نفاذ کے دیگر اقدامات کو بھی تقویت ملے گی۔</p>
<p>جی آئی ایس/جی پی ایس پر مبنی پراپرٹی ٹیکس: ایک اور تجویز کردہ اقدام ٹیکس کے لیے زمین اور جائیداد کی نشاندہی اور درجہ بندی میں جی آئی ایس/جی پی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔</p>
<p>دستاویز میں نشاندہی کی گئی  کہ شہری غیر منقولہ جائیداد سے حاصل ہونے والا ٹیکس اس وقت جی ڈی پی کے 0.1 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ اس کی متوقع استعداد 0.5 سے 1.0 فیصد تک ہے۔</p>
<p>تجویز کے مطابق بڑے شہروں میں کمرشل اور صنعتی اراضی کی سیٹلائٹ کے ذریعے دوبارہ درجہ بندی اور کم ظاہر کی گئی جائیداد کی نشاندہی سے ابتدائی طور پر تقریباً 30 سے 60 ارب روپے جب کہ 24ویں ماہ تک سالانہ بنیاد پر 80 سے 150 ارب روپے ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم دستاویز میں ایک بار پھر وفاق اور صوبوں کے درمیان ریونیو تقسیم کے مسئلے کی نشاندہی کی گئی کیونکہ زمین اور جائیداد پر ٹیکس عائد کرنا صوبائی دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔</p>
<p>ریٹیل شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز: حکمتِ عملی میں پورے ریٹیل شعبے کو بغیر کسی استثنیٰ کے نرم شرائط کی بنیاد پر ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p>تجویز کے مطابق پاکستان میں تقریباً 35 سے 40 لاکھ تاجر ہیں، جبکہ اس وقت 15 فیصد سے بھی کم تاجر ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں۔</p>
<p>دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں دستاویزی معیشت کو فروغ دینے کی اسکیمیں خاطر خواہ ریونیو حاصل کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہیں، تاہم تجویز دی گئی ہے کہ بجلی کے میٹروں سے منسلک کم شرح کا مقررہ لیوی عائد کیا جائے، جس کا دائرہ تقریباً 25 لاکھ کمرشل کنکشنز تک ہو، جبکہ بڑے ریٹیلرز کے لیے پوائنٹ آف سیل سسٹم سے لازمی انضمام کی شرط عائد کی جائے۔ ان اقدامات سے 24ویں ماہ تک سالانہ بنیاد پر 150 سے 250 ارب روپے ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291132</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Sep 2026 15:55:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/121103169c351a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1023">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/121103169c351a5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
