<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی ایئرپورٹس پر رواں سال 7 کروڑ مسافروں کی آمدورفت کی متوقع ہے، سی ای او</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291092/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس نے جمعرات کو کہا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک سالانہ مسافروں کی آمدورفت تقریباً 7 کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو اس کے سابقہ ہدف سے کم ہے، تاہم اب اصل ہدف 2027 کے اختتام تک حاصل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں خلیجی فضائی حدود کی عارضی بندش کے باعث کمپنی کو اپنے سابقہ تخمینے سے دستبردار ہونا پڑا، جس کے تحت دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ڈی ایکس بی) پر رواں سال تقریباً 10 کروڑ مسافروں کی آمدورفت متوقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی سفری مراکز میں شمار ہونے والے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 2026 کی پہلی ششماہی میں 3 کروڑ 15 لاکھ مسافروں نے سفر کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 4 کروڑ 60 لاکھ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریفتھس نے بتایا کہ جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں ایئرپورٹ کی پروازوں کی گنجائش اب 84 فیصد تک بحال ہوچکی ہے، جبکہ مسافروں کی تعداد 78 فیصد تک واپس آگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث خطے کے لیے پروازیں معطل کرنے والی بعض یورپی ایئرلائنز کی اگلے ماہ سے واپسی نے نئے تخمینے کو تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’مجھے مکمل یقین ہے کہ سال کے اختتام تک ہم تقریباً مکمل طور پر معمول پر آچکے ہوں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’منتقلی اور براہِ راست سفری مارکیٹ دونوں انتہائی مضبوط ہیں اور میرے خیال میں آئندہ بھی ان کی یہی صورتحال برقرار رہے گی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بھارت، سعودی عرب اور برطانیہ دبئی سے آنے اور جانے والے مسافروں کے لیے بدستور سرفہرست مارکیٹیں ہیں، جبکہ کاروباری سفر بھی مجموعی طور پر مضبوط رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چھوٹے حجم کے زیادہ فاصلے تک پرواز کرنے والے طیاروں میں پیش رفت مزید ترقی میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق دبئی سے براہِ راست پروازوں کے ذریعے منسلک شہروں کی تعداد موجودہ 240 سے بڑھ کر 2027 کے وسط تک مزید زیادہ ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’ہم متعدد ایئرلائنز سے بات چیت کر رہے ہیں جو ایسے شہروں سے پروازیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں جہاں سے دبئی اور یورپ، بالخصوص افریقہ کے درمیان اس سے قبل فضائی سروسز نہیں چلائی گئیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریفتھس نے کہا کہ تنازع کے نتیجے میں نئے ایئرپورٹ کے ڈیزائن میں ممکنہ طور پر ’’کچھ تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں تاکہ اسے مزید مضبوط اور ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس نے جمعرات کو کہا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک سالانہ مسافروں کی آمدورفت تقریباً 7 کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو اس کے سابقہ ہدف سے کم ہے، تاہم اب اصل ہدف 2027 کے اختتام تک حاصل کیا جاسکتا ہے۔</strong></p>
<p>ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں خلیجی فضائی حدود کی عارضی بندش کے باعث کمپنی کو اپنے سابقہ تخمینے سے دستبردار ہونا پڑا، جس کے تحت دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ڈی ایکس بی) پر رواں سال تقریباً 10 کروڑ مسافروں کی آمدورفت متوقع تھی۔</p>
<p>دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی سفری مراکز میں شمار ہونے والے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 2026 کی پہلی ششماہی میں 3 کروڑ 15 لاکھ مسافروں نے سفر کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 4 کروڑ 60 لاکھ تھی۔</p>
<p>گریفتھس نے بتایا کہ جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں ایئرپورٹ کی پروازوں کی گنجائش اب 84 فیصد تک بحال ہوچکی ہے، جبکہ مسافروں کی تعداد 78 فیصد تک واپس آگئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث خطے کے لیے پروازیں معطل کرنے والی بعض یورپی ایئرلائنز کی اگلے ماہ سے واپسی نے نئے تخمینے کو تقویت دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’مجھے مکمل یقین ہے کہ سال کے اختتام تک ہم تقریباً مکمل طور پر معمول پر آچکے ہوں گے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’منتقلی اور براہِ راست سفری مارکیٹ دونوں انتہائی مضبوط ہیں اور میرے خیال میں آئندہ بھی ان کی یہی صورتحال برقرار رہے گی۔‘‘</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بھارت، سعودی عرب اور برطانیہ دبئی سے آنے اور جانے والے مسافروں کے لیے بدستور سرفہرست مارکیٹیں ہیں، جبکہ کاروباری سفر بھی مجموعی طور پر مضبوط رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چھوٹے حجم کے زیادہ فاصلے تک پرواز کرنے والے طیاروں میں پیش رفت مزید ترقی میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق دبئی سے براہِ راست پروازوں کے ذریعے منسلک شہروں کی تعداد موجودہ 240 سے بڑھ کر 2027 کے وسط تک مزید زیادہ ہوسکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’ہم متعدد ایئرلائنز سے بات چیت کر رہے ہیں جو ایسے شہروں سے پروازیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں جہاں سے دبئی اور یورپ، بالخصوص افریقہ کے درمیان اس سے قبل فضائی سروسز نہیں چلائی گئیں۔‘‘</p>
<p>گریفتھس نے کہا کہ تنازع کے نتیجے میں نئے ایئرپورٹ کے ڈیزائن میں ممکنہ طور پر ’’کچھ تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں تاکہ اسے مزید مضبوط اور ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291092</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 22:39:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/10223651717b4bf.webp" type="image/webp" medium="image" height="512" width="768">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/10223651717b4bf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
