<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 18:43:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 18:43:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ای سی پی کی ریئٹ شعبے کی ترقی تیز کرنے کے لیے اصلاحات کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291087/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریئٹ) ریگولیشنز 2022 میں اہم ترامیم کی تجویز دی ہے، جن کا مقصد سرمایہ کاری کا فروغ، سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانا اور ریئٹ اسکیموں کو مزید لچک فراہم کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی نے ایک بیان میں کہا کہ مجوزہ اصلاحات کے تحت رئیل اسٹیٹ آمدنی اور اثاثوں کی حد 75 فیصد سے کم کرکے 65 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جس سے ریئٹ پورٹ فولیوز کی تشکیل میں زیادہ لچک پیدا ہوگی اور اہل منصوبوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جاسکے گا۔ سرمایہ کاری پر مبنی ریئٹس کو قابل اطلاق شرائط کے تحت خالی زمین اور پلاٹس میں سرمایہ کاری کی بھی اجازت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی نے کہا کہ اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع وسیع ہوں گے، کیونکہ گروپ لیول ٹرسٹس اور ملازمین کے فنڈز کو غیر فہرست شدہ ریئٹ اسکیموں میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی۔ اسپانسرز، ڈائریکٹرز اور متعلقہ اداروں سے قرض لینے کی مدت بھی 24 ماہ سے بڑھا کر 36 ماہ کرنے کی تجویز ہے، جبکہ موجودہ یونٹ ہولڈرز کی منظوری کی شرائط برقرار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی نے مزید کہا کہ مجوزہ ترامیم کے تحت رینٹل اور سرمایہ کاری پر مبنی ریئٹس کی لسٹنگ کے لیے جائز وجوہات کی صورت میں ایک سال تک اضافی مہلت دی جاسکے گی، اگر تاخیر ایسی صورتحال کے باعث ہو جو ریئٹ مینجمنٹ کمپنی (آر ایم سی) کے اختیار سے باہر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ایس ای سی پی کے مطابق آر ایم سیز کو قانونی طور پر پابند معاہدوں کے ذریعے سرکاری اداروں سے جائیداد حاصل کرنے میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم اس کے لیے ایس ای سی پی کی جانب سے مقرر کردہ شرائط پر عمل کرنا ہوگا، تاکہ طریقہ کار سے متعلق رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ریگولیٹری وضاحت کے لیے ایک مجوزہ شق بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت ہائبرڈ ریئٹ اسکیمیں، جن میں سرمایہ کاری پر مبنی اور رینٹل ریئٹ کے اجزا شامل ہوں، اپنی جائیداد رکھنے کی مدت کے دوران اس سے کرایے کی آمدنی حاصل اور وصول کرسکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ایسا سازگار ریئٹ نظام تشکیل دینا ہے جو طویل مدتی سرمایہ متحرک کرنے، سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے اور پاکستان کے رئیل اسٹیٹ شعبے کی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ ترامیم کو عوامی مشاورت کے لیے جاری کردیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے حتمی منظوری سے قبل اپنی آرا اور تجاویز جمع کرانے کی دعوت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریئٹ) ریگولیشنز 2022 میں اہم ترامیم کی تجویز دی ہے، جن کا مقصد سرمایہ کاری کا فروغ، سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانا اور ریئٹ اسکیموں کو مزید لچک فراہم کرنا ہے۔</strong></p>
<p>ایس ای سی پی نے ایک بیان میں کہا کہ مجوزہ اصلاحات کے تحت رئیل اسٹیٹ آمدنی اور اثاثوں کی حد 75 فیصد سے کم کرکے 65 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جس سے ریئٹ پورٹ فولیوز کی تشکیل میں زیادہ لچک پیدا ہوگی اور اہل منصوبوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جاسکے گا۔ سرمایہ کاری پر مبنی ریئٹس کو قابل اطلاق شرائط کے تحت خالی زمین اور پلاٹس میں سرمایہ کاری کی بھی اجازت دی جائے گی۔</p>
<p>ایس ای سی پی نے کہا کہ اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع وسیع ہوں گے، کیونکہ گروپ لیول ٹرسٹس اور ملازمین کے فنڈز کو غیر فہرست شدہ ریئٹ اسکیموں میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی۔ اسپانسرز، ڈائریکٹرز اور متعلقہ اداروں سے قرض لینے کی مدت بھی 24 ماہ سے بڑھا کر 36 ماہ کرنے کی تجویز ہے، جبکہ موجودہ یونٹ ہولڈرز کی منظوری کی شرائط برقرار رہیں گی۔</p>
<p>ایس ای سی پی نے مزید کہا کہ مجوزہ ترامیم کے تحت رینٹل اور سرمایہ کاری پر مبنی ریئٹس کی لسٹنگ کے لیے جائز وجوہات کی صورت میں ایک سال تک اضافی مہلت دی جاسکے گی، اگر تاخیر ایسی صورتحال کے باعث ہو جو ریئٹ مینجمنٹ کمپنی (آر ایم سی) کے اختیار سے باہر ہو۔</p>
<p>مزید برآں ایس ای سی پی کے مطابق آر ایم سیز کو قانونی طور پر پابند معاہدوں کے ذریعے سرکاری اداروں سے جائیداد حاصل کرنے میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم اس کے لیے ایس ای سی پی کی جانب سے مقرر کردہ شرائط پر عمل کرنا ہوگا، تاکہ طریقہ کار سے متعلق رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔</p>
<p>اسی طرح ریگولیٹری وضاحت کے لیے ایک مجوزہ شق بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت ہائبرڈ ریئٹ اسکیمیں، جن میں سرمایہ کاری پر مبنی اور رینٹل ریئٹ کے اجزا شامل ہوں، اپنی جائیداد رکھنے کی مدت کے دوران اس سے کرایے کی آمدنی حاصل اور وصول کرسکیں گی۔</p>
<p>ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ایسا سازگار ریئٹ نظام تشکیل دینا ہے جو طویل مدتی سرمایہ متحرک کرنے، سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے اور پاکستان کے رئیل اسٹیٹ شعبے کی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد دے۔</p>
<p>مجوزہ ترامیم کو عوامی مشاورت کے لیے جاری کردیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے حتمی منظوری سے قبل اپنی آرا اور تجاویز جمع کرانے کی دعوت دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291087</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 17:25:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/10171029411c5d6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/10171029411c5d6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
