<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے پابندیوں سے بچنے کیلئے چین سے اربوں ڈالر کی تجارت کا خفیہ طریقہ اپنالیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291076/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے تیل کے عوض چین سے اربوں ڈالر مالیت کی اشیا، جن میں فوجی سازوسامان بھی شامل ہے، حاصل کرنے کے لیے بارٹر نما طریقہ کار استعمال کیا ہے۔ دو ایرانی ذرائع اور اس معاملے سے واقف تین دیگر افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ اس نظام کے تحت ایرانی تیل کے بدلے چینی درآمدات کے لیے کریڈٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اس خفیہ تجارتی طریقہ کار نے حالیہ برسوں میں امریکی اقتصادی اور فوجی دباؤ کے دوران ایران کے لیے مالی سہارا فراہم کیا، جبکہ چین کو رعایتی ایرانی تیل تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اس طریقے کے ذریعے چین سے ادویات، گاڑیاں اور مواصلاتی آلات خریدتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اس مقصد کے لیے قائم خصوصی ادارے کے ذریعے 2 سے 2.5 ارب ڈالر منتقل ہوئے۔ یہ نظام بین الاقوامی بینکاری ذرائع سے براہ راست ادائیگی سے گریز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ اس نظام میں چینی مالیاتی ادارہ چو شِن ایرانی تیل سے حاصل ہونے والی رقوم کو سنبھالتا ہے، جن میں سے تقریباً 70 فیصد ایران میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے، جبکہ باقی رقم ان کمپنیوں کو ادائیگی کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ایران کو اشیا فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ کار کم از کم 2021 سے جاری ہے اور ابتدا میں ایران کو ادویات اور کووڈ-19 ویکسین فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ بعد میں اس کا دائرہ دیگر اشیا اور کم از کم ایک مرتبہ لاکھوں ڈالر مالیت کے فضائی دفاعی سازوسامان تک بڑھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسے بیان کردہ صورتحال سے واقفیت نہیں، تاہم اس نے یکطرفہ امریکی پابندیوں کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ ایران نے بھی اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو چینی کمپنیوں کے ریکارڈ میں چو شِن نامی مالیاتی ادارے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا اور نہ ہی ان اداروں کی ملکیت کی آزادانہ تصدیق ہوسکی جو مبینہ طور پر چین کی وزارت تجارت اور ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق چین ایسے انتظامات کے ذریعے امریکی پابندیوں کا دباؤ مسترد کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم وہ اپنے بینکوں اور کمپنیوں کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ ہونے کے خطرے سے بھی بچانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے تیل کے عوض چین سے اربوں ڈالر مالیت کی اشیا، جن میں فوجی سازوسامان بھی شامل ہے، حاصل کرنے کے لیے بارٹر نما طریقہ کار استعمال کیا ہے۔ دو ایرانی ذرائع اور اس معاملے سے واقف تین دیگر افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ اس نظام کے تحت ایرانی تیل کے بدلے چینی درآمدات کے لیے کریڈٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق اس خفیہ تجارتی طریقہ کار نے حالیہ برسوں میں امریکی اقتصادی اور فوجی دباؤ کے دوران ایران کے لیے مالی سہارا فراہم کیا، جبکہ چین کو رعایتی ایرانی تیل تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد ملی۔</p>
<p>ایران اس طریقے کے ذریعے چین سے ادویات، گاڑیاں اور مواصلاتی آلات خریدتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اس مقصد کے لیے قائم خصوصی ادارے کے ذریعے 2 سے 2.5 ارب ڈالر منتقل ہوئے۔ یہ نظام بین الاقوامی بینکاری ذرائع سے براہ راست ادائیگی سے گریز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ اس نظام میں چینی مالیاتی ادارہ چو شِن ایرانی تیل سے حاصل ہونے والی رقوم کو سنبھالتا ہے، جن میں سے تقریباً 70 فیصد ایران میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے، جبکہ باقی رقم ان کمپنیوں کو ادائیگی کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ایران کو اشیا فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>یہ طریقہ کار کم از کم 2021 سے جاری ہے اور ابتدا میں ایران کو ادویات اور کووڈ-19 ویکسین فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ بعد میں اس کا دائرہ دیگر اشیا اور کم از کم ایک مرتبہ لاکھوں ڈالر مالیت کے فضائی دفاعی سازوسامان تک بڑھایا گیا۔</p>
<p>چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسے بیان کردہ صورتحال سے واقفیت نہیں، تاہم اس نے یکطرفہ امریکی پابندیوں کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ ایران نے بھی اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>رائٹرز کو چینی کمپنیوں کے ریکارڈ میں چو شِن نامی مالیاتی ادارے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا اور نہ ہی ان اداروں کی ملکیت کی آزادانہ تصدیق ہوسکی جو مبینہ طور پر چین کی وزارت تجارت اور ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے کام کرتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق چین ایسے انتظامات کے ذریعے امریکی پابندیوں کا دباؤ مسترد کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم وہ اپنے بینکوں اور کمپنیوں کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ ہونے کے خطرے سے بھی بچانا چاہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291076</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 13:28:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/10132555549e226.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/10132555549e226.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
