<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:55:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:55:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی بی آر آئی شراکت داروں کو سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291068/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بی آر آئی شراکت داروں کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے تحت ابھرنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہانگ کانگ میں گیارہویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر بے حد فخر ہے، جو بنیادی ڈھانچے، توانائی اور صنعتی ترقی میں تعاون بڑھا کر ملک کے اقتصادی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کو ایک بڑے علاقائی رابطہ مرکز کے طور پر ابھار رہا ہے، جو خشکی میں گھرے وسطی ایشیا اور مغربی چین کو گرم پانی کی بندرگاہوں اور بین الاقوامی منڈیوں سے منسلک کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان مغربی، وسطی اور مشرقی ایشیا کے درمیان ایک اہم پل کے طور پر ابھر رہا ہے، انہوں نے چین کے ساتھ ریل اور سڑک کے بڑھتے ہوئے روابط اور ہمسایہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے انتظامات کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ روابط تقریباً 1.5 ارب افراد پر مشتمل ایک وسیع علاقائی منڈی تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ بندرگاہوں میں اصلاحات، ڈیجیٹل کسٹمز نظام اور جدید لاجسٹکس اخراجات اور ٹرانزٹ کے دورانیے کو کم کر رہے ہیں، جس سے پاکستان کی ابھرتے ہوئے ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر صلاحیت مضبوط ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت نے کہا کہ علاقائی تعاون ایک ساختی تبدیلی سے گزر رہا ہے اور یہ تبدیلی نقل و حمل کی راہداریوں سے آگے بڑھ کر مربوط ویلیو چینز کی جانب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامع اور عوامی مفاد پر مبنی خوشحالی یقینی بنانے کے لیے علاقائی تجارتی ڈھانچے میں ڈیجیٹل جدت، پائیداری اور ہنرمند روزگار کو شامل کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بہتر ہوتے اقتصادی منظرنامے کو اجاگر کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ زیادہ میکرو اکنامک استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی، بنیادی ڈھانچے، کان کنی اور صنعت میں سرمایہ کاری کی بحالی پاکستان کی اقتصادی صلاحیت پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی برآمدات پر مبنی ترقی، صنعتی جدیدکاری، سرمایہ کاری میں سہولت کاری اور ضابطہ جاتی اصلاحات پر مرکوز ہے، جس میں ویلیو ایڈیشن اور عالمی ویلیو چینز میں گہرے انضمام پر زور دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت نے کہا کہ ہم ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ جیسے روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ علم پر مبنی مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کو بھی ترقی دینے پر توجہ دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے پاکستان کی نمایاں زرعی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ طریقہ کار، جدید بیج ٹیکنالوجیز اور بہتر سپلائی چینز غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور برآمدی آمدنی میں اضافے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو شفاف اور سرمایہ کار دوست فریم ورک کے تحت پاکستان کے معدنی شعبے، بشمول تانبے، کوئلے اور دیگر صنعتی و اہم معدنیات میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی نوجوان اور بڑھتی ہوئی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر تجارت نے اسے دنیا میں انسانی سرمائے کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بیرون ملک مقیم پاکستانی افرادی قوت کی مہارت، استقامت اور عالمی ساکھ کی عکاسی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت نے بی آر آئی شراکت داروں کو سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت ابھرنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی، بالخصوص صنعتی ترقی، زراعت، کان کنی، توانائی، ٹیکنالوجی اور برآمدی پیداوار کے شعبوں میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے پاکستان میں مذہبی، ثقافتی اور قدرتی سیاحت کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاحوں اور مہمان نوازی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے لیے متنوع مواقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عصر حاضر کے عالمی چیلنجز سے متعلق خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی کے خطرات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث غذائی عدم تحفظ کو اہم خدشات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی ڈیجیٹل بنیادی سہولیات کو جدید بنا رہا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، ماحول دوست صنعتوں اور قابل تجدید توانائی کو فروغ دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان بی آر آئی شراکت داروں، بشمول ہانگ کانگ، کے ساتھ موسمیاتی موافقت، ٹیکنالوجی میں لچک اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت نے دیرپا شراکت داری کے قیام کے لیے عوامی روابط، طلبہ کے تبادلے اور ثقافتی میل جول کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ہانگ کانگ کی جانب سے شراکت دار ممالک کے طلبہ کے لیے تقریباً 150 بیلٹ اینڈ روڈ اسکالرشپس فراہم کرنے کے اقدام کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی کو وسطی اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی روابط مضبوط بنانے پر خراج تحسین پیش کیا اور انہیں پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے کہا کہ ہم نئی مواقع پیدا کرنے، طویل مدتی، اعلیٰ معیار اور جامع خوشحالی کے حصول کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرنے کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بی آر آئی شراکت داروں کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے تحت ابھرنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔</strong></p>
<p>ہانگ کانگ میں گیارہویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر بے حد فخر ہے، جو بنیادی ڈھانچے، توانائی اور صنعتی ترقی میں تعاون بڑھا کر ملک کے اقتصادی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کو ایک بڑے علاقائی رابطہ مرکز کے طور پر ابھار رہا ہے، جو خشکی میں گھرے وسطی ایشیا اور مغربی چین کو گرم پانی کی بندرگاہوں اور بین الاقوامی منڈیوں سے منسلک کر رہا ہے۔</p>
<p>جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان مغربی، وسطی اور مشرقی ایشیا کے درمیان ایک اہم پل کے طور پر ابھر رہا ہے، انہوں نے چین کے ساتھ ریل اور سڑک کے بڑھتے ہوئے روابط اور ہمسایہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے انتظامات کو اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ روابط تقریباً 1.5 ارب افراد پر مشتمل ایک وسیع علاقائی منڈی تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ بندرگاہوں میں اصلاحات، ڈیجیٹل کسٹمز نظام اور جدید لاجسٹکس اخراجات اور ٹرانزٹ کے دورانیے کو کم کر رہے ہیں، جس سے پاکستان کی ابھرتے ہوئے ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر صلاحیت مضبوط ہو رہی ہے۔</p>
<p>وزیر تجارت نے کہا کہ علاقائی تعاون ایک ساختی تبدیلی سے گزر رہا ہے اور یہ تبدیلی نقل و حمل کی راہداریوں سے آگے بڑھ کر مربوط ویلیو چینز کی جانب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامع اور عوامی مفاد پر مبنی خوشحالی یقینی بنانے کے لیے علاقائی تجارتی ڈھانچے میں ڈیجیٹل جدت، پائیداری اور ہنرمند روزگار کو شامل کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کے بہتر ہوتے اقتصادی منظرنامے کو اجاگر کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ زیادہ میکرو اکنامک استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی، بنیادی ڈھانچے، کان کنی اور صنعت میں سرمایہ کاری کی بحالی پاکستان کی اقتصادی صلاحیت پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی برآمدات پر مبنی ترقی، صنعتی جدیدکاری، سرمایہ کاری میں سہولت کاری اور ضابطہ جاتی اصلاحات پر مرکوز ہے، جس میں ویلیو ایڈیشن اور عالمی ویلیو چینز میں گہرے انضمام پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزیر تجارت نے کہا کہ ہم ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ جیسے روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ علم پر مبنی مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کو بھی ترقی دینے پر توجہ دے رہے ہیں۔</p>
<p>جام کمال نے پاکستان کی نمایاں زرعی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ طریقہ کار، جدید بیج ٹیکنالوجیز اور بہتر سپلائی چینز غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور برآمدی آمدنی میں اضافے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو شفاف اور سرمایہ کار دوست فریم ورک کے تحت پاکستان کے معدنی شعبے، بشمول تانبے، کوئلے اور دیگر صنعتی و اہم معدنیات میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔</p>
<p>پاکستان کی نوجوان اور بڑھتی ہوئی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر تجارت نے اسے دنیا میں انسانی سرمائے کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بیرون ملک مقیم پاکستانی افرادی قوت کی مہارت، استقامت اور عالمی ساکھ کی عکاسی کرتی ہیں۔</p>
<p>وزیر تجارت نے بی آر آئی شراکت داروں کو سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت ابھرنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی، بالخصوص صنعتی ترقی، زراعت، کان کنی، توانائی، ٹیکنالوجی اور برآمدی پیداوار کے شعبوں میں۔</p>
<p>جام کمال نے پاکستان میں مذہبی، ثقافتی اور قدرتی سیاحت کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاحوں اور مہمان نوازی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے لیے متنوع مواقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>عصر حاضر کے عالمی چیلنجز سے متعلق خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی کے خطرات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث غذائی عدم تحفظ کو اہم خدشات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی ڈیجیٹل بنیادی سہولیات کو جدید بنا رہا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، ماحول دوست صنعتوں اور قابل تجدید توانائی کو فروغ دے رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان بی آر آئی شراکت داروں، بشمول ہانگ کانگ، کے ساتھ موسمیاتی موافقت، ٹیکنالوجی میں لچک اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون کا خواہاں ہے۔</p>
<p>وزیر تجارت نے دیرپا شراکت داری کے قیام کے لیے عوامی روابط، طلبہ کے تبادلے اور ثقافتی میل جول کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ہانگ کانگ کی جانب سے شراکت دار ممالک کے طلبہ کے لیے تقریباً 150 بیلٹ اینڈ روڈ اسکالرشپس فراہم کرنے کے اقدام کو سراہا۔</p>
<p>جام کمال نے ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی کو وسطی اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی روابط مضبوط بنانے پر خراج تحسین پیش کیا اور انہیں پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔</p>
<p>جام کمال خان نے کہا کہ ہم نئی مواقع پیدا کرنے، طویل مدتی، اعلیٰ معیار اور جامع خوشحالی کے حصول کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرنے کے منتظر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291068</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 12:50:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/Wqq0ny3YJEo/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/Wqq0ny3YJEo/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=Wqq0ny3YJEo"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
