<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف سی وی اے، ایف سی بی وی اے، این آر وی اے اور این آر بی وی اے، بینکوں کو کیپیٹل گین پر ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291064/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بینکوں کے پاس فارن کرنسی ویلیو اکاؤنٹس (ایف سی وی اے)، فارن کرنسی بزنس ویلیو اکاؤنٹس (ایف سی بی وی اے)، نان ریزیڈنٹ روپیہ ویلیو اکاؤنٹس (این آر وی اے) یا نان ریزیڈنٹ روپیہ بزنس ویلیو اکاؤنٹس (این آر بی وی اے) موجود ہونے کی صورت میں ان اکاؤنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کیے گئے قرضی آلات اور حکومتی سیکیورٹیز/سرٹیفکیٹس کی فروخت سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گین پر ودہولڈنگ ٹیکس منہا کرنا ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ایف بی آر نے کیپیٹل گین کے حساب اور ودہولڈنگ سے متعلق انکم ٹیکس سرکلر نمبر 2 برائے 2026 جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق سیکشن 100 بی میں ذیلی سیکشن (2) کی شق (بی) میں نان بینکنگ فنانس کمپنی کا حوالہ حذف کر دیا گیا ہے، جبکہ اسی ذیلی سیکشن کی شقوں (سی) اور (ڈی) کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نان بینکنگ فنانس کمپنی، مضاربہ اور صرف قرضی سیکیورٹیز کے حوالے سے کمپنی کی جانب سے سیکیورٹیز کی فروخت سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گین پر سیکشن 37 اے اور آٹھویں شیڈول کے تحت خصوصی دفعات کا اطلاق وسیع کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے وضاحت کی کہ سیکشن 100 بی میں ذیلی سیکشن (3) کے اضافے کے ذریعے نئی شق متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت میوچل فنڈ، بینکنگ کمپنی اور انشورنس کمپنی کے معاملات میں این سی سی پی ایل سیکشن 37 اے کے تحت مقررہ طریقہ کار کے مطابق کیپیٹل گین کا حساب اور تعین کرے گا، جبکہ مذکورہ ادارے آرڈیننس کی قابلِ اطلاق دفعات کے مطابق کیپیٹل گین کی رقم پر ٹیکس جمع کراتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکشن 152 کے ذیلی سیکشن ( ون ڈی اے) کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب ایف سی وی اے، ایف سی بی وی اے، این آر وی اے یا این آر بی وی اے رکھنے والی ہر بینکنگ کمپنی ایسے اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی قرضی آلات، حکومتی سیکیورٹیز اور سرٹیفکیٹس، بشمول ان کی شریعہ سے ہم آہنگ اقسام، کی فروخت سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گین پر فرسٹ شیڈول کے پارٹ سوم کی ڈویژن دوم میں مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس منہا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم شرحوں کے حوالے سے ایف بی آر نے بتایا کہ شق (79) کو وسیع دائرہ کار کے ساتھ تبدیل کیا گیا ہے۔ اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی متعارف کردہ اسکیم کے تحت نان ریزیڈنٹ روپیہ ویلیو اکاؤنٹ یا نان ریزیڈنٹ بزنس ویلیو اکاؤنٹ رکھنے والے شخص کے پاکستان میں شیڈولڈ بینک میں موجود روپیہ اکاؤنٹ سے حاصل ہونے والا قرض پر منافع ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے شیڈول کے پارٹ اول میں شق (99 سی) متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل فنڈ ریگولیشنز 2015 کے تحت رجسٹرڈ فنڈ کی آمدن کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، بشرطیکہ مخصوص شرائط کے تحت اس کی اکاؤنٹنگ آمدن کا کم از کم 90 فیصد، جمع شدہ نقصانات اور غیر حقیقی کیپیٹل گین کو منہا کرنے کے بعد، یونٹ یا سرٹیفکیٹ ہولڈرز یا شیئر ہولڈرز میں تقسیم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے شیڈول کے پارٹ دوم کی شق (5 اے اے) میں ترمیم کے تحت سیکشن 152 کے تحت قرض پر منافع سے منہا کیے جانے والے ٹیکس کی شرح 10 فیصد مقرر کی گئی ہے، اگر مذکورہ منافع وفاقی حکومت کی جانب سے پبلک ڈیبٹ ایکٹ 1944 کے تحت جاری کردہ قرضی آلے سے حاصل ہوا ہو اور اسے بیرونِ ملک برقرار بینک اکاؤنٹ، نان ریزیڈنٹ روپیہ اکاؤنٹ ریپیٹری ایبل (این آر اے آر)، ایف سی وی اے، ایف سی بی وی اے، این آر وی اے یا این آر بی وی اے کے ذریعے پاکستان میں کسی بینکنگ کمپنی کے پاس موجود اکاؤنٹ سے خصوصی طور پر خریدا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے مزید کہا کہ اسی پارٹ کی شق (24 ڈی) میں کی گئی ترامیم کے تحت مذکورہ شق میں بیان کردہ اشیا کے ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز، سب ڈیلرز اور ہول سیلرز کے لیے سیکشن 113 کی ذیلی شق (1) کے تحت کم از کم ٹیکس کی شرح 0.5 فیصد کر دی گئی ہے، بشرطیکہ مستفید ہونے والے افراد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت جاری کردہ ایکٹو ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بینکوں کے پاس فارن کرنسی ویلیو اکاؤنٹس (ایف سی وی اے)، فارن کرنسی بزنس ویلیو اکاؤنٹس (ایف سی بی وی اے)، نان ریزیڈنٹ روپیہ ویلیو اکاؤنٹس (این آر وی اے) یا نان ریزیڈنٹ روپیہ بزنس ویلیو اکاؤنٹس (این آر بی وی اے) موجود ہونے کی صورت میں ان اکاؤنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کیے گئے قرضی آلات اور حکومتی سیکیورٹیز/سرٹیفکیٹس کی فروخت سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گین پر ودہولڈنگ ٹیکس منہا کرنا ہوگا۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے ایف بی آر نے کیپیٹل گین کے حساب اور ودہولڈنگ سے متعلق انکم ٹیکس سرکلر نمبر 2 برائے 2026 جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق سیکشن 100 بی میں ذیلی سیکشن (2) کی شق (بی) میں نان بینکنگ فنانس کمپنی کا حوالہ حذف کر دیا گیا ہے، جبکہ اسی ذیلی سیکشن کی شقوں (سی) اور (ڈی) کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نان بینکنگ فنانس کمپنی، مضاربہ اور صرف قرضی سیکیورٹیز کے حوالے سے کمپنی کی جانب سے سیکیورٹیز کی فروخت سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گین پر سیکشن 37 اے اور آٹھویں شیڈول کے تحت خصوصی دفعات کا اطلاق وسیع کرنا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے وضاحت کی کہ سیکشن 100 بی میں ذیلی سیکشن (3) کے اضافے کے ذریعے نئی شق متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت میوچل فنڈ، بینکنگ کمپنی اور انشورنس کمپنی کے معاملات میں این سی سی پی ایل سیکشن 37 اے کے تحت مقررہ طریقہ کار کے مطابق کیپیٹل گین کا حساب اور تعین کرے گا، جبکہ مذکورہ ادارے آرڈیننس کی قابلِ اطلاق دفعات کے مطابق کیپیٹل گین کی رقم پر ٹیکس جمع کراتے رہیں گے۔</p>
<p>سیکشن 152 کے ذیلی سیکشن ( ون ڈی اے) کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب ایف سی وی اے، ایف سی بی وی اے، این آر وی اے یا این آر بی وی اے رکھنے والی ہر بینکنگ کمپنی ایسے اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی قرضی آلات، حکومتی سیکیورٹیز اور سرٹیفکیٹس، بشمول ان کی شریعہ سے ہم آہنگ اقسام، کی فروخت سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گین پر فرسٹ شیڈول کے پارٹ سوم کی ڈویژن دوم میں مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس منہا کرے گی۔</p>
<p>کم شرحوں کے حوالے سے ایف بی آر نے بتایا کہ شق (79) کو وسیع دائرہ کار کے ساتھ تبدیل کیا گیا ہے۔ اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی متعارف کردہ اسکیم کے تحت نان ریزیڈنٹ روپیہ ویلیو اکاؤنٹ یا نان ریزیڈنٹ بزنس ویلیو اکاؤنٹ رکھنے والے شخص کے پاکستان میں شیڈولڈ بینک میں موجود روپیہ اکاؤنٹ سے حاصل ہونے والا قرض پر منافع ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگا۔</p>
<p>دوسرے شیڈول کے پارٹ اول میں شق (99 سی) متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل فنڈ ریگولیشنز 2015 کے تحت رجسٹرڈ فنڈ کی آمدن کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، بشرطیکہ مخصوص شرائط کے تحت اس کی اکاؤنٹنگ آمدن کا کم از کم 90 فیصد، جمع شدہ نقصانات اور غیر حقیقی کیپیٹل گین کو منہا کرنے کے بعد، یونٹ یا سرٹیفکیٹ ہولڈرز یا شیئر ہولڈرز میں تقسیم کیا جائے۔</p>
<p>دوسرے شیڈول کے پارٹ دوم کی شق (5 اے اے) میں ترمیم کے تحت سیکشن 152 کے تحت قرض پر منافع سے منہا کیے جانے والے ٹیکس کی شرح 10 فیصد مقرر کی گئی ہے، اگر مذکورہ منافع وفاقی حکومت کی جانب سے پبلک ڈیبٹ ایکٹ 1944 کے تحت جاری کردہ قرضی آلے سے حاصل ہوا ہو اور اسے بیرونِ ملک برقرار بینک اکاؤنٹ، نان ریزیڈنٹ روپیہ اکاؤنٹ ریپیٹری ایبل (این آر اے آر)، ایف سی وی اے، ایف سی بی وی اے، این آر وی اے یا این آر بی وی اے کے ذریعے پاکستان میں کسی بینکنگ کمپنی کے پاس موجود اکاؤنٹ سے خصوصی طور پر خریدا گیا ہو۔</p>
<p>ایف بی آر نے مزید کہا کہ اسی پارٹ کی شق (24 ڈی) میں کی گئی ترامیم کے تحت مذکورہ شق میں بیان کردہ اشیا کے ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز، سب ڈیلرز اور ہول سیلرز کے لیے سیکشن 113 کی ذیلی شق (1) کے تحت کم از کم ٹیکس کی شرح 0.5 فیصد کر دی گئی ہے، بشرطیکہ مستفید ہونے والے افراد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت جاری کردہ ایکٹو ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہوں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291064</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 11:49:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/1011451452ca208.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/1011451452ca208.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
