<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی سے مقامی وینڈرز کو خطرات لاحق، آٹو ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291049/</link>
      <description>&lt;p&gt;مکمل تیار شدہ (سی بی یو) گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی سے مارکیٹ کی طلب مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں سے ہٹ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آٹو پارٹس وینڈرز کے کاروباری حجم کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ آٹو ماہرین نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مقامی وینڈر صنعت کے تحفظ کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو ماہر عامر علاؤالدین نے کہا کہ ٹائلز، سیرامکس اور سیمنٹ جیسی نسبتاً سادہ صنعتوں کے برعکس پاکستان کا آٹو سیکٹر ایک پیچیدہ اور باہم مربوط نظام ہے، جس میں تین الگ لیکن ایک دوسرے پر منحصر صنعتیں شامل ہیں: خام مال کی صنعت، 1,200 سے زائد آٹو پارٹس تیار کرنے والے وینڈرز اور 100 سے زائد گاڑی اسمبل کرنے والے ادارے، جن میں کاریں، موٹر سائیکلیں، ای بائیکس، ٹرک، بسیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک میں گاڑیوں کی مقامی پیداوار کو یوٹیلیٹی، شرحِ سود اور ٹیکسوں کی بلند لاگت کے ساتھ ساتھ کم پیداواری حجم کا بھی سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ان مالی بوجھوں کا ازالہ کرنے کے لیے شعبے کے ہر حصے کے لیے حفاظتی ٹیرف میں مناسب فرق ضروری ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل تیار شدہ (سی بی یو) گاڑیوں کی درآمد پر کم از کم 50 فیصد ٹیرف تحفظ اور مقامی طور پر تیار کیے جانے والے پرزہ جات پر 40 فیصد ٹیرف برقرار رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاؤالدین نے کہا کہ 2016 سے 2026 تک پاکستان کی آٹو پالیسیز کا محور بڑی حد تک گاڑیوں کی اسمبلی رہا، جس کے تحت مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) پرزہ جات پر کم ٹیرف عائد کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’اگرچہ اس پالیسی کے نتیجے میں اسمبلی پلانٹس کی تعداد 3 سے بڑھ کر 14 عالمی برانڈز تک پہنچ گئی، تاہم مقامی پیداوار کا عمل کمزور رہا۔ روایتی جاپانی اسمبلرز نے مالیت کے لحاظ سے 65 فیصد مقامی مواد حاصل کیا، جبکہ کوریائی برانڈز 25 فیصد اور چینی برانڈز 10 فیصد سے بھی کم مقامی مواد تک محدود رہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وینڈر صنعت کو اب خدشہ ہے کہ قومی ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) کے تحت زیادہ سے زیادہ ٹیرف میں مجوزہ 15 فیصد کمی مقامی پرزہ سازی کی صنعت کو تباہ کردے گی۔ مزید برآں، مکمل تیار شدہ (سی بی یو) گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کرنے سے مارکیٹ کی طلب مقامی اسمبلی سے ہٹنے کا خطرہ ہے، جس سے مقامی پرزہ ساز وینڈرز کے کاروباری حجم کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو ماہر نے کہا کہ پاکستان کے آٹو پارٹس تیار کرنے والے ادارے عالمی معیار کے مطابق مصنوعات تیار کررہے ہیں اور سالانہ 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی برآمدات کررہے ہیں، جبکہ اس شعبے میں برآمدات 10 گنا تک بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تاہم چار بیرونی ساختی عوامل اس ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اول، سکیورٹی خدشات کے باعث منفی سفری ہدایات اور سکیورٹی پر آنے والی بھاری لاگت مغربی خریداروں کو پاکستان آکر پیداواری تنصیبات کا معائنہ کرنے سے روکتی ہے۔ دوم، کمزور آزاد تجارتی معاہدوں کے باعث دانش مندانہ تجارتی معاہدوں کا فقدان ہے، جس کے نتیجے میں افریقی منڈیوں میں پاکستانی پرزہ جات کو 25 سے 30 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جبکہ جنوبی افریقہ جیسے حریف ممالک کو صفر ڈیوٹی حاصل ہے۔ سوم، بلند یوٹیلیٹی قیمتوں، زیادہ شرحِ سود اور بھاری ٹیکسوں کے باعث پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے علاقائی مسابقتی صلاحیت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ آخر میں، ریاستی مراعات کے فقدان کے باعث عالمی حریفوں کے برعکس مقامی تیار کنندگان کو برآمدات کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی معاونت حاصل نہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاؤالدین کے مطابق صنعت کے دائرۂ اختیار سے باہر ان بیرونی رکاوٹوں کو دور کرنا پاکستان کی حقیقی آٹو برآمدی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اب وقت آگیا ہے کہ ہماری حکومت نجی شعبے کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اپنی کارکردگی بہتر بنائے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خطے میں آٹو مینوفیکچرنگ کرنے والے ممالک اپنی اہم ملکی صنعتوں کو بھرپور تحفظ فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’بھارت، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا میں مکمل تیار شدہ (سی بی یو) گاڑیوں پر بالترتیب 120، 80 اور 55 فیصد سخت ٹیرف عائد ہے، جبکہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں، جہاں گاڑیوں کی مارکیٹ بھارت کے 60 لاکھ، تھائی لینڈ کے 15 لاکھ اور انڈونیشیا کے 12 لاکھ یونٹس کے مقابلے میں صرف 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس کی ہے، سی بی یو گاڑیوں پر ٹیرف کی شرح محض 30 سے 50 فیصد ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’پاکستان کا آٹو موٹیو ایکو سسٹم خام مال فراہم کرنے والوں، 1,200 پرزہ ساز وینڈرز اور 100 سے زائد اسمبلرز پر مشتمل ہے۔ قومی ٹیرف پالیسی کے تحت سی بی یو گاڑیوں پر مجوزہ 15 فیصد ٹیرف نافذ کرنے سے ان تمام شعبوں کو تباہ کن نقصان پہنچے گا۔ اس سے 3 لاکھ براہِ راست ملازمتیں ختم ہونے اور مینوفیکچرنگ انجینئرنگ اور دفاعی مصنوعات کی تیاری کے لیے درکار اہم مقامی مہارتوں کے مستقل طور پر ختم ہوجانے کا خطرہ ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاؤالدین نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی خوردہ قیمت میں حکومتی ٹیکسوں کا حصہ 40 سے 45 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اگرچہ اس بوجھ کے باعث مقامی صارفین کے لیے گاڑیاں مہنگی ہوگئی ہیں، تاہم ٹیکس نکالنے کے بعد امریکی ڈالر کے لحاظ سے پاکستانی گاڑیاں تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں دستیاب ہم پلہ ماڈلز کے مقابلے میں دراصل سستی ہیں۔ مزید یہ کہ 14 عالمی برانڈز کی مقامی پیداوار عالمی معیار کے مطابق ہے اور 100 سے زائد ماڈلز اور اقسام دستیاب ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ صارفین اور پیدل چلنے والوں کے تحفظ کے لیے حکومت کو حادثہ زدہ اور پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد فوری طور پر روکنی چاہیے، کیونکہ ان کے خیال میں ایسی گاڑیاں، خصوصاً بریک فیل ہونے اور ساختی نقصانات کے باعث، اکثر سنگین ٹریفک حادثات کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمد شدہ اور مقامی طور پر اسمبل ہونے والی تمام گاڑیوں پر کم از کم حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاؤالدین نے مزید کہا کہ حکومت کو آٹو صنعت کے حوالے سے اپنا مقصد واضح کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’14 اسمبلرز کے درمیان شدید مسابقت نے معیار، انتخاب اور گاڑیوں کی ترسیل میں تاخیر سے متعلق ماضی کے مسائل بڑی حد تک حل کردیے ہیں، تاہم اب بنیادی چیلنج اس شعبے کو ہنرمند نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کے مقصد سے بروئے کار لانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’پاکستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی آبادی رکھنے کے باوجود معاشی بدانتظامی کے باعث سالانہ گاڑیوں کی طلب 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس پر جمود کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاست کو آٹو موبائل پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کرنی چاہیے۔ مقامی پیداوار کو ترجیح دینا عام شہری کے مفاد میں ہے، کیونکہ اس سے روزگار اور معاش کے مواقع پیدا ہوں گے، بجائے اس کے کہ دولت مند طبقے کے لیے لاکھوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیوں کی درآمد کو سہولت دی جائے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے سینئر وائس چیئرمین شہریار قادر نے کہا، ’’پاپام نے وزارتِ صنعت و پیداوار کے ساتھ اپنی مجوزہ بقا کے لیے ضروری ڈیوٹی اسٹرکچر شیئر کیا ہے، جسے ہم مقامی وینڈر صنعت کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ اس کے تحت سی بی یو گاڑیوں پر 50 فیصد، مقامی طور پر تیار ہونے والے پرزہ جات پر 40 فیصد، سی کے ڈی پر 30 فیصد، درآمد شدہ خام مال پر صفر فیصد اور مقامی خام مال پر 5 فیصد ڈیوٹی ہونی چاہیے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-2030 کی خامیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی تیار کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کو طویل عرصے سے متاثر کرنے والی ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے کے بجائے نظرثانی شدہ ٹیرف نظام نے صورتِ حال کو مزید سنگین کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مقامی مینوفیکچرنگ صنعت کو درپیش لاگت کے نقصانات کم کرنے کے لیے ہدفی پالیسی معاونت فراہم کرنے کے بجائے نظرثانی شدہ ٹیرف اسٹرکچر کے تحت سی بی یو گاڑیوں اور تجارتی بنیادوں پر درآمد کیے جانے والے پرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کردی گئی ہے، جبکہ صنعتی بنیادوں پر درآمد کیے جانے والے سی کے ڈی کٹس پر نسبتاً زیادہ ڈیوٹی بدستور عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اس سے مقامی مینوفیکچرنگ کی پوری بنیاد ہی کمزور ہوتی ہے اور ملکی سرمایہ کاروں کو انتہائی حوصلہ شکن پیغام جاتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قادر کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار اور وزارتِ تجارت کی جانب سے ایس آر او 655 کے تحت درآمد کیے جانے والے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی (سی ڈی) اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) ختم کرنے کی یقین دہانی کے باوجود ایک فیصد سی ڈی اور 2 فیصد اے سی ڈی بدستور عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اسی طرح مقامی آٹو پارٹس تیار کنندگان کے زیرِ استعمال خام مال پر سی ڈی، اے سی ڈی اور ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمے کے حکومتی وعدے، جن کا مقصد ان کی عالمی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا تھا، پورے نہیں کیے گئے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 850 سی سی سے کم انجن کی گاڑیوں کا شعبہ پاکستان کی آٹو مارکیٹ پر غالب ہے اور اس میں مقامی پیداوار کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے، لیکن ’’یہی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ ٹیرف نظام کے تحت سی بی یو گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی کم کرکے 30 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ سی کے ڈی پر ڈیوٹی بدستور 30 فیصد ہے، جس سے وہ ٹیرف فرق ختم ہوگیا ہے جو ماضی میں مقامی اسمبلی کو قابلِ عمل بناتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قادر نے کہا کہ درآمد شدہ مکمل تیار شدہ گاڑیاں اب مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں کے ساتھ مساوی بنیاد پر مقابلہ کررہی ہیں، حالانکہ ان سے ملکی سطح پر قدر میں اضافہ، روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی یا صنعتی ترقی میں بہت کم حصہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اس سے مقامی پیداوار کی پوری حکمتِ عملی کمزور ہوتی ہے اور کئی برسوں کی سرمایہ کاری اور استعداد میں اضافے کو خطرہ لاحق ہے، کیونکہ مقامی پرزہ سازی کو تجارتی لحاظ سے ناقابلِ عمل بنانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سی بی یو گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کرنے کے اثرات بدستور وہی ہیں، ’’یہ مقامی مینوفیکچرنگ کو کمزور کرتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے عالمی سپلائی چینز میں دائرۂ کار بڑھانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی آٹو پارٹس تیار کنندگان کو پہلے ہی اپنے بین الاقوامی حریفوں کے مقابلے میں تقریباً 34 فیصد لاگت کے نقصان کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں توانائی کے ناقابلِ برداشت نرخ، خام مال کی عدم دستیابی کے باعث مال برداری اور لاجسٹکس کی بلند لاگت، مسلسل بلند مالیاتی اخراجات، انتہائی سخت ٹیکس نظام اور مارکیٹ کا ناکافی حجم شامل ہیں، جس کے نتیجے میں فی یونٹ مقررہ اخراجات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قادر نے کہا کہ دانش مندانہ انداز میں طے کیے گئے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) کے فقدان کے باعث پاکستانی آٹو اور آٹو پارٹس کو خطے کے دیگر برآمد کنندہ ممالک کے مقابلے میں ٹیرف کے حوالے سے نمایاں نقصان کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’یہ مسائل، انتہائی منفی سکیورٹی تاثر کے ساتھ مل کر، غیر ملکی سرمایہ کاری کو محدود کرتے ہیں، ٹیکنالوجی کی منتقلی مشکل بناتے ہیں اور برآمدات کو ناممکن بنا دیتے ہیں، کیونکہ علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تکنیکی ماہرین یا خریدار آزادانہ طور پر پاکستان کا دورہ نہیں کرسکتے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت ان مسائل کو حل نہیں کرتی، عالمی سپلائی چینز میں پاکستان کے دائرۂ کار کو وسعت دینا ایک چیلنج بنا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر محفوظ گاڑیوں کی درآمد روکنے کے لیے سخت ضوابط کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حادثہ زدہ اور غیر محفوظ گاڑیوں کی درآمد روکنا مشکل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’ان ممالک میں جہاں سے یہ گاڑیاں درآمد کی جاتی ہیں، متعدد معتبر ٹیسٹنگ ایجنسیاں موجود ہیں۔ صرف ایسی گاڑیوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جانی چاہیے جن کے پاس مطلوبہ حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات پر پورا اترنے والے درست اور اصل سرٹیفکیٹس موجود ہوں اور یہ سرٹیفکیٹس گاڑی کی روانگی سے قبل جاری کیے گئے ہوں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’مقامی طور پر تیار ہونے والی تمام گاڑیوں کی خوردہ قیمت میں حکومتی ٹیکسوں کا حصہ 40 سے 50 فیصد سے زائد ہے۔ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایک طرف ہم گاڑیوں کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ٹیکسوں کا بوجھ ہر سال بڑھتا جارہا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مکمل تیار شدہ (سی بی یو) گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی سے مارکیٹ کی طلب مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں سے ہٹ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آٹو پارٹس وینڈرز کے کاروباری حجم کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ آٹو ماہرین نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مقامی وینڈر صنعت کے تحفظ کو یقینی بنائے۔</p>
<p>آٹو ماہر عامر علاؤالدین نے کہا کہ ٹائلز، سیرامکس اور سیمنٹ جیسی نسبتاً سادہ صنعتوں کے برعکس پاکستان کا آٹو سیکٹر ایک پیچیدہ اور باہم مربوط نظام ہے، جس میں تین الگ لیکن ایک دوسرے پر منحصر صنعتیں شامل ہیں: خام مال کی صنعت، 1,200 سے زائد آٹو پارٹس تیار کرنے والے وینڈرز اور 100 سے زائد گاڑی اسمبل کرنے والے ادارے، جن میں کاریں، موٹر سائیکلیں، ای بائیکس، ٹرک، بسیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک میں گاڑیوں کی مقامی پیداوار کو یوٹیلیٹی، شرحِ سود اور ٹیکسوں کی بلند لاگت کے ساتھ ساتھ کم پیداواری حجم کا بھی سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ان مالی بوجھوں کا ازالہ کرنے کے لیے شعبے کے ہر حصے کے لیے حفاظتی ٹیرف میں مناسب فرق ضروری ہے۔‘‘</p>
<p>پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل تیار شدہ (سی بی یو) گاڑیوں کی درآمد پر کم از کم 50 فیصد ٹیرف تحفظ اور مقامی طور پر تیار کیے جانے والے پرزہ جات پر 40 فیصد ٹیرف برقرار رکھا جائے۔</p>
<p>علاؤالدین نے کہا کہ 2016 سے 2026 تک پاکستان کی آٹو پالیسیز کا محور بڑی حد تک گاڑیوں کی اسمبلی رہا، جس کے تحت مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) پرزہ جات پر کم ٹیرف عائد کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’اگرچہ اس پالیسی کے نتیجے میں اسمبلی پلانٹس کی تعداد 3 سے بڑھ کر 14 عالمی برانڈز تک پہنچ گئی، تاہم مقامی پیداوار کا عمل کمزور رہا۔ روایتی جاپانی اسمبلرز نے مالیت کے لحاظ سے 65 فیصد مقامی مواد حاصل کیا، جبکہ کوریائی برانڈز 25 فیصد اور چینی برانڈز 10 فیصد سے بھی کم مقامی مواد تک محدود رہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وینڈر صنعت کو اب خدشہ ہے کہ قومی ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) کے تحت زیادہ سے زیادہ ٹیرف میں مجوزہ 15 فیصد کمی مقامی پرزہ سازی کی صنعت کو تباہ کردے گی۔ مزید برآں، مکمل تیار شدہ (سی بی یو) گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کرنے سے مارکیٹ کی طلب مقامی اسمبلی سے ہٹنے کا خطرہ ہے، جس سے مقامی پرزہ ساز وینڈرز کے کاروباری حجم کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>آٹو ماہر نے کہا کہ پاکستان کے آٹو پارٹس تیار کرنے والے ادارے عالمی معیار کے مطابق مصنوعات تیار کررہے ہیں اور سالانہ 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی برآمدات کررہے ہیں، جبکہ اس شعبے میں برآمدات 10 گنا تک بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تاہم چار بیرونی ساختی عوامل اس ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اول، سکیورٹی خدشات کے باعث منفی سفری ہدایات اور سکیورٹی پر آنے والی بھاری لاگت مغربی خریداروں کو پاکستان آکر پیداواری تنصیبات کا معائنہ کرنے سے روکتی ہے۔ دوم، کمزور آزاد تجارتی معاہدوں کے باعث دانش مندانہ تجارتی معاہدوں کا فقدان ہے، جس کے نتیجے میں افریقی منڈیوں میں پاکستانی پرزہ جات کو 25 سے 30 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جبکہ جنوبی افریقہ جیسے حریف ممالک کو صفر ڈیوٹی حاصل ہے۔ سوم، بلند یوٹیلیٹی قیمتوں، زیادہ شرحِ سود اور بھاری ٹیکسوں کے باعث پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے علاقائی مسابقتی صلاحیت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ آخر میں، ریاستی مراعات کے فقدان کے باعث عالمی حریفوں کے برعکس مقامی تیار کنندگان کو برآمدات کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی معاونت حاصل نہیں۔‘‘</p>
<p>علاؤالدین کے مطابق صنعت کے دائرۂ اختیار سے باہر ان بیرونی رکاوٹوں کو دور کرنا پاکستان کی حقیقی آٹو برآمدی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اب وقت آگیا ہے کہ ہماری حکومت نجی شعبے کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اپنی کارکردگی بہتر بنائے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خطے میں آٹو مینوفیکچرنگ کرنے والے ممالک اپنی اہم ملکی صنعتوں کو بھرپور تحفظ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’بھارت، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا میں مکمل تیار شدہ (سی بی یو) گاڑیوں پر بالترتیب 120، 80 اور 55 فیصد سخت ٹیرف عائد ہے، جبکہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں، جہاں گاڑیوں کی مارکیٹ بھارت کے 60 لاکھ، تھائی لینڈ کے 15 لاکھ اور انڈونیشیا کے 12 لاکھ یونٹس کے مقابلے میں صرف 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس کی ہے، سی بی یو گاڑیوں پر ٹیرف کی شرح محض 30 سے 50 فیصد ہے۔‘‘</p>
<p>’’پاکستان کا آٹو موٹیو ایکو سسٹم خام مال فراہم کرنے والوں، 1,200 پرزہ ساز وینڈرز اور 100 سے زائد اسمبلرز پر مشتمل ہے۔ قومی ٹیرف پالیسی کے تحت سی بی یو گاڑیوں پر مجوزہ 15 فیصد ٹیرف نافذ کرنے سے ان تمام شعبوں کو تباہ کن نقصان پہنچے گا۔ اس سے 3 لاکھ براہِ راست ملازمتیں ختم ہونے اور مینوفیکچرنگ انجینئرنگ اور دفاعی مصنوعات کی تیاری کے لیے درکار اہم مقامی مہارتوں کے مستقل طور پر ختم ہوجانے کا خطرہ ہے۔‘‘</p>
<p>علاؤالدین نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی خوردہ قیمت میں حکومتی ٹیکسوں کا حصہ 40 سے 45 فیصد ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اگرچہ اس بوجھ کے باعث مقامی صارفین کے لیے گاڑیاں مہنگی ہوگئی ہیں، تاہم ٹیکس نکالنے کے بعد امریکی ڈالر کے لحاظ سے پاکستانی گاڑیاں تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں دستیاب ہم پلہ ماڈلز کے مقابلے میں دراصل سستی ہیں۔ مزید یہ کہ 14 عالمی برانڈز کی مقامی پیداوار عالمی معیار کے مطابق ہے اور 100 سے زائد ماڈلز اور اقسام دستیاب ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ صارفین اور پیدل چلنے والوں کے تحفظ کے لیے حکومت کو حادثہ زدہ اور پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد فوری طور پر روکنی چاہیے، کیونکہ ان کے خیال میں ایسی گاڑیاں، خصوصاً بریک فیل ہونے اور ساختی نقصانات کے باعث، اکثر سنگین ٹریفک حادثات کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمد شدہ اور مقامی طور پر اسمبل ہونے والی تمام گاڑیوں پر کم از کم حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>علاؤالدین نے مزید کہا کہ حکومت کو آٹو صنعت کے حوالے سے اپنا مقصد واضح کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’14 اسمبلرز کے درمیان شدید مسابقت نے معیار، انتخاب اور گاڑیوں کی ترسیل میں تاخیر سے متعلق ماضی کے مسائل بڑی حد تک حل کردیے ہیں، تاہم اب بنیادی چیلنج اس شعبے کو ہنرمند نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کے مقصد سے بروئے کار لانا ہے۔</p>
<p>’’پاکستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی آبادی رکھنے کے باوجود معاشی بدانتظامی کے باعث سالانہ گاڑیوں کی طلب 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس پر جمود کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاست کو آٹو موبائل پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کرنی چاہیے۔ مقامی پیداوار کو ترجیح دینا عام شہری کے مفاد میں ہے، کیونکہ اس سے روزگار اور معاش کے مواقع پیدا ہوں گے، بجائے اس کے کہ دولت مند طبقے کے لیے لاکھوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیوں کی درآمد کو سہولت دی جائے۔‘‘</p>
<p>دریں اثنا، پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے سینئر وائس چیئرمین شہریار قادر نے کہا، ’’پاپام نے وزارتِ صنعت و پیداوار کے ساتھ اپنی مجوزہ بقا کے لیے ضروری ڈیوٹی اسٹرکچر شیئر کیا ہے، جسے ہم مقامی وینڈر صنعت کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ اس کے تحت سی بی یو گاڑیوں پر 50 فیصد، مقامی طور پر تیار ہونے والے پرزہ جات پر 40 فیصد، سی کے ڈی پر 30 فیصد، درآمد شدہ خام مال پر صفر فیصد اور مقامی خام مال پر 5 فیصد ڈیوٹی ہونی چاہیے۔‘‘</p>
<p>پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-2030 کی خامیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی تیار کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کو طویل عرصے سے متاثر کرنے والی ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے کے بجائے نظرثانی شدہ ٹیرف نظام نے صورتِ حال کو مزید سنگین کردیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مقامی مینوفیکچرنگ صنعت کو درپیش لاگت کے نقصانات کم کرنے کے لیے ہدفی پالیسی معاونت فراہم کرنے کے بجائے نظرثانی شدہ ٹیرف اسٹرکچر کے تحت سی بی یو گاڑیوں اور تجارتی بنیادوں پر درآمد کیے جانے والے پرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کردی گئی ہے، جبکہ صنعتی بنیادوں پر درآمد کیے جانے والے سی کے ڈی کٹس پر نسبتاً زیادہ ڈیوٹی بدستور عائد ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اس سے مقامی مینوفیکچرنگ کی پوری بنیاد ہی کمزور ہوتی ہے اور ملکی سرمایہ کاروں کو انتہائی حوصلہ شکن پیغام جاتا ہے۔‘‘</p>
<p>قادر کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار اور وزارتِ تجارت کی جانب سے ایس آر او 655 کے تحت درآمد کیے جانے والے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی (سی ڈی) اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) ختم کرنے کی یقین دہانی کے باوجود ایک فیصد سی ڈی اور 2 فیصد اے سی ڈی بدستور عائد ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اسی طرح مقامی آٹو پارٹس تیار کنندگان کے زیرِ استعمال خام مال پر سی ڈی، اے سی ڈی اور ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمے کے حکومتی وعدے، جن کا مقصد ان کی عالمی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا تھا، پورے نہیں کیے گئے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 850 سی سی سے کم انجن کی گاڑیوں کا شعبہ پاکستان کی آٹو مارکیٹ پر غالب ہے اور اس میں مقامی پیداوار کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے، لیکن ’’یہی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ ٹیرف نظام کے تحت سی بی یو گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی کم کرکے 30 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ سی کے ڈی پر ڈیوٹی بدستور 30 فیصد ہے، جس سے وہ ٹیرف فرق ختم ہوگیا ہے جو ماضی میں مقامی اسمبلی کو قابلِ عمل بناتا تھا۔</p>
<p>قادر نے کہا کہ درآمد شدہ مکمل تیار شدہ گاڑیاں اب مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں کے ساتھ مساوی بنیاد پر مقابلہ کررہی ہیں، حالانکہ ان سے ملکی سطح پر قدر میں اضافہ، روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی یا صنعتی ترقی میں بہت کم حصہ پڑتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اس سے مقامی پیداوار کی پوری حکمتِ عملی کمزور ہوتی ہے اور کئی برسوں کی سرمایہ کاری اور استعداد میں اضافے کو خطرہ لاحق ہے، کیونکہ مقامی پرزہ سازی کو تجارتی لحاظ سے ناقابلِ عمل بنانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سی بی یو گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کرنے کے اثرات بدستور وہی ہیں، ’’یہ مقامی مینوفیکچرنگ کو کمزور کرتی ہے۔‘‘</p>
<p>ملک کے عالمی سپلائی چینز میں دائرۂ کار بڑھانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی آٹو پارٹس تیار کنندگان کو پہلے ہی اپنے بین الاقوامی حریفوں کے مقابلے میں تقریباً 34 فیصد لاگت کے نقصان کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں توانائی کے ناقابلِ برداشت نرخ، خام مال کی عدم دستیابی کے باعث مال برداری اور لاجسٹکس کی بلند لاگت، مسلسل بلند مالیاتی اخراجات، انتہائی سخت ٹیکس نظام اور مارکیٹ کا ناکافی حجم شامل ہیں، جس کے نتیجے میں فی یونٹ مقررہ اخراجات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>قادر نے کہا کہ دانش مندانہ انداز میں طے کیے گئے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) کے فقدان کے باعث پاکستانی آٹو اور آٹو پارٹس کو خطے کے دیگر برآمد کنندہ ممالک کے مقابلے میں ٹیرف کے حوالے سے نمایاں نقصان کا سامنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’یہ مسائل، انتہائی منفی سکیورٹی تاثر کے ساتھ مل کر، غیر ملکی سرمایہ کاری کو محدود کرتے ہیں، ٹیکنالوجی کی منتقلی مشکل بناتے ہیں اور برآمدات کو ناممکن بنا دیتے ہیں، کیونکہ علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تکنیکی ماہرین یا خریدار آزادانہ طور پر پاکستان کا دورہ نہیں کرسکتے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت ان مسائل کو حل نہیں کرتی، عالمی سپلائی چینز میں پاکستان کے دائرۂ کار کو وسعت دینا ایک چیلنج بنا رہے گا۔</p>
<p>غیر محفوظ گاڑیوں کی درآمد روکنے کے لیے سخت ضوابط کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حادثہ زدہ اور غیر محفوظ گاڑیوں کی درآمد روکنا مشکل نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’ان ممالک میں جہاں سے یہ گاڑیاں درآمد کی جاتی ہیں، متعدد معتبر ٹیسٹنگ ایجنسیاں موجود ہیں۔ صرف ایسی گاڑیوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جانی چاہیے جن کے پاس مطلوبہ حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات پر پورا اترنے والے درست اور اصل سرٹیفکیٹس موجود ہوں اور یہ سرٹیفکیٹس گاڑی کی روانگی سے قبل جاری کیے گئے ہوں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’مقامی طور پر تیار ہونے والی تمام گاڑیوں کی خوردہ قیمت میں حکومتی ٹیکسوں کا حصہ 40 سے 50 فیصد سے زائد ہے۔ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایک طرف ہم گاڑیوں کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ٹیکسوں کا بوجھ ہر سال بڑھتا جارہا ہے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291049</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Sep 2026 21:55:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/09214853741ad68.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/09214853741ad68.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
