<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 20:31:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 20:31:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مچل سینٹنر کا بڑا فیصلہ، بگ بیش لیگ چھوڑ کر قومی ٹیم کو ترجیح دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291032/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر مچل سینٹنر نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کی پرکشش پیشکش مسترد کرتے ہوئے اپنی توجہ قومی ٹیم کے بین الاقوامی شیڈول پر مرکوز رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;34 سالہ سینٹنر نے کہا کہ بی بی ایل کی پیشکش اچھی تھی اور انہوں نے اس پر غور بھی کیا، تاہم آنے والی ٹیسٹ اور وائٹ بال سیریز کے باعث نیوزی لینڈ کے لیے کھیلنا ان کی ترجیح ہے۔ رواں سال نیوزی لینڈ کو بھارت کے خلاف ہوم سیریز کے علاوہ آسٹریلیا کا ٹیسٹ دورہ بھی کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹنر نے کہا کہ وہ نیوزی لینڈ کی وائٹ بال ٹیموں کی کپتانی سے دستبردار نہیں ہونا چاہتے اور اگر کپتانی چھوڑنا معاہدے کا حصہ ہوتی تو ان کا فیصلہ واضح تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئندہ سال ورلڈ کپ اور اس کے بعد نیوزی لینڈ میں ٹی20 ورلڈ کپ بھی ہونا ہے اور وہ ان ایونٹس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹنر نے دیگر کھلاڑیوں کے غیر مستقل معاہدوں کے فیصلے کو بھی درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کھلاڑی فرنچائز لیگز میں کھیلنے کے ساتھ نیوزی لینڈ کے لیے بھی دستیاب رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر مچل سینٹنر نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کی پرکشش پیشکش مسترد کرتے ہوئے اپنی توجہ قومی ٹیم کے بین الاقوامی شیڈول پر مرکوز رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>34 سالہ سینٹنر نے کہا کہ بی بی ایل کی پیشکش اچھی تھی اور انہوں نے اس پر غور بھی کیا، تاہم آنے والی ٹیسٹ اور وائٹ بال سیریز کے باعث نیوزی لینڈ کے لیے کھیلنا ان کی ترجیح ہے۔ رواں سال نیوزی لینڈ کو بھارت کے خلاف ہوم سیریز کے علاوہ آسٹریلیا کا ٹیسٹ دورہ بھی کرنا ہے۔</p>
<p>سینٹنر نے کہا کہ وہ نیوزی لینڈ کی وائٹ بال ٹیموں کی کپتانی سے دستبردار نہیں ہونا چاہتے اور اگر کپتانی چھوڑنا معاہدے کا حصہ ہوتی تو ان کا فیصلہ واضح تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئندہ سال ورلڈ کپ اور اس کے بعد نیوزی لینڈ میں ٹی20 ورلڈ کپ بھی ہونا ہے اور وہ ان ایونٹس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔</p>
<p>سینٹنر نے دیگر کھلاڑیوں کے غیر مستقل معاہدوں کے فیصلے کو بھی درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کھلاڑی فرنچائز لیگز میں کھیلنے کے ساتھ نیوزی لینڈ کے لیے بھی دستیاب رہ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291032</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Sep 2026 13:15:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/09130423d9c8b1f.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/09130423d9c8b1f.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
