<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اویس لغاری کی زیرصدارت کمیٹی کی آٹو سیکٹر میں بڑے پیمانے پر تنظیم نو کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن کے وزیر سردار اویس احمد خان لغاری کی سربراہی میں قائم بین الوزارتی کمیٹی نے آٹوموٹیو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 کے مسودے میں اہم ترامیم تجویز کرتے ہوئے پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کی بڑے پیمانے پر تنظیم نو کی سفارش کی ہے۔ نئی پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستانی آٹو پارٹس کو گلوبل ویلیو چینز سے جوڑنا، نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) کو فروغ دینا، گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنا، مقامی ویلیو ایڈیشن بڑھانا اور مرحلہ وار آٹو موبائل ٹیرف کم کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری دستاویزات کے مطابق کمیٹی نے آئندہ پانچ برس کے لیے 7 وسیع اصولوں پر اتفاق کیا ہے، جن کے تحت صنعت کو غیرضروری ٹیرف پروٹیکشن سے نکال کر پرفارمنس بیسڈ انسینٹیوز، ایکسپورٹ آبلی گیشنز، کمپیٹیشن، ٹیکنالوجیکل اپ گریڈیشن اور زیادہ لوکلائزیشن کی طرف منتقل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے گاڑی ساز کمپنیوں، یعنی اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز)، کے لیے لازمی ایکسپورٹ رجیم متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔ کار، جیپ اور ایس یو وی بنانے والی کمپنیوں کو 2026-27 میں صفر سے ایکسپورٹس شروع کرکے 2029-30 اور 2030-31 تک فیکٹری گیٹ پروڈکشن ویلیو کے 12 فیصد تک پہنچانا ہوگا۔ اس سے پانچ سال میں او ای ایمز کی مجموعی ایکسپورٹس 2.391 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریکٹرز کے لیے ایکسپورٹ ٹارگٹ 2026-27 میں 5 فیصد سے بڑھا کر 2030-31 تک 15 فیصد جبکہ بائیکس اور رکشوں کے لیے صفر سے 15 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی ایکسپورٹس بھی 2026-27 کے 240 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2030-31 میں 700 ملین ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کی مجموعی ایکسپورٹس پالیسی مدت میں 4.586 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسپورٹ ٹارگٹس کو مینوفیکچرنگ لائسنس کی شرط بنانے کی تجویز ہے۔ ہدف پورا نہ کرنے پر درآمدی کمپلیٹلی ناکڈ ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس پر ایکسپورٹ شارٹ فال کی مالیت کے برابر اضافی کسٹمز ڈیوٹی عائد کی جاسکے گی، جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں مینوفیکچرنگ لائسنس منسوخ کیا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ایکسپورٹس کے فروغ کے لیے ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) اسکیم بھی تجویز کی ہے، جس کے تحت اہل او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کو نیٹ ایف او بی ایکسپورٹ ویلیو کا 10 فیصد بنیادی سپورٹ کے طور پر دیا جائے گا، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ایکسپورٹ ویلیو میں کم از کم 5 فیصد اضافے پر مزید 5 فیصد سپورٹ مل سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے منیمم ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن (ایم ڈی وی اے) نظام بھی متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ روایتی کاروں میں ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن 2030-31 تک 40 فیصد، کنونشنل ایل سی ویز، ٹرکس اور بسوں میں بالترتیب 45 فیصد، 45 فیصد اور 40 فیصد، کنونشنل ٹریکٹرز میں 80 فیصد جبکہ بائیکس اور رکشوں میں 90 فیصد تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ این ای ویز کے لیے یہ شرح ابتدائی 10 فیصد سے بڑھا کر 2030-31 تک 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے آٹو موبائل ٹیرف میں 80 فیصد تک کمی، ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) کے خاتمے اور ٹیرف اسٹرکچر کو نیشنل ٹیرف پالیسی سے ہم آہنگ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو انرجی وہیکلز کے لیے بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای ویز) کو یکساں سہولت دینے کی تجویز ہے۔ این ای ویز، پارٹس اور را میٹریل پر 1 فیصد سیلز ٹیکس، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ تجویز کیا گیا ہے۔ این ای وی خریداری کے لیے کریڈٹ لمٹ 3 ملین روپے سے بڑھا کر 10 ملین روپے اور فنانسنگ ٹینور 3 سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے مطابق کنونشنل وہیکلز پر اضافی ایف ای ڈی عائد کرکے این ای ویز اور ایکسپورٹ سپورٹ رجیم کی جزوی مالی اعانت کی جائے گی۔ 2026-31 کے دوران اضافی ایف ای ڈی وصولی تقریباً 349.94 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق لوکل مینوفیکچرنگ سے آئندہ چھ برس میں تقریباً 17.70 ارب ڈالر کی فارن ایکسچینج بچت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ آٹو پارٹس کی ایکسپورٹس کو فروغ دینے کے لیے آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل (اے پی ای سی) قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں وہیکل کوالٹی اور کنزیومر پروٹیکشن پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ 62 یو این ای سی ای ڈبلیو پی 29 اسٹینڈرڈز پہلے ہی اپنائے جاچکے ہیں جبکہ مزید 45 اسٹینڈرڈز 2029 تک اپنانے کا ہدف ہے۔ مینوفیکچررز کو قیمتوں میں تبدیلی اور گاڑیوں کی ایکچوئل ڈیلیوری ڈیٹس سمیت سیلز سے متعلق معلومات ظاہر کرنا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مجوزہ پالیسی کا مقصد پروٹیکشن پر مبنی نظام کو ایکسپورٹ لنکڈ انسینٹیوز، میئرایبل لوکلائزیشن، ٹیرف ریشنلائزیشن، کمپیٹیشن اور نیو انرجی وہیکلز کے فروغ پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن کے وزیر سردار اویس احمد خان لغاری کی سربراہی میں قائم بین الوزارتی کمیٹی نے آٹوموٹیو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 کے مسودے میں اہم ترامیم تجویز کرتے ہوئے پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کی بڑے پیمانے پر تنظیم نو کی سفارش کی ہے۔ نئی پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستانی آٹو پارٹس کو گلوبل ویلیو چینز سے جوڑنا، نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) کو فروغ دینا، گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنا، مقامی ویلیو ایڈیشن بڑھانا اور مرحلہ وار آٹو موبائل ٹیرف کم کرنا ہے۔</strong></p>
<p>سرکاری دستاویزات کے مطابق کمیٹی نے آئندہ پانچ برس کے لیے 7 وسیع اصولوں پر اتفاق کیا ہے، جن کے تحت صنعت کو غیرضروری ٹیرف پروٹیکشن سے نکال کر پرفارمنس بیسڈ انسینٹیوز، ایکسپورٹ آبلی گیشنز، کمپیٹیشن، ٹیکنالوجیکل اپ گریڈیشن اور زیادہ لوکلائزیشن کی طرف منتقل کیا جائے گا۔</p>
<p>کمیٹی نے گاڑی ساز کمپنیوں، یعنی اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز)، کے لیے لازمی ایکسپورٹ رجیم متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔ کار، جیپ اور ایس یو وی بنانے والی کمپنیوں کو 2026-27 میں صفر سے ایکسپورٹس شروع کرکے 2029-30 اور 2030-31 تک فیکٹری گیٹ پروڈکشن ویلیو کے 12 فیصد تک پہنچانا ہوگا۔ اس سے پانچ سال میں او ای ایمز کی مجموعی ایکسپورٹس 2.391 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔</p>
<p>ٹریکٹرز کے لیے ایکسپورٹ ٹارگٹ 2026-27 میں 5 فیصد سے بڑھا کر 2030-31 تک 15 فیصد جبکہ بائیکس اور رکشوں کے لیے صفر سے 15 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی ایکسپورٹس بھی 2026-27 کے 240 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2030-31 میں 700 ملین ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کی مجموعی ایکسپورٹس پالیسی مدت میں 4.586 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>ایکسپورٹ ٹارگٹس کو مینوفیکچرنگ لائسنس کی شرط بنانے کی تجویز ہے۔ ہدف پورا نہ کرنے پر درآمدی کمپلیٹلی ناکڈ ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس پر ایکسپورٹ شارٹ فال کی مالیت کے برابر اضافی کسٹمز ڈیوٹی عائد کی جاسکے گی، جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں مینوفیکچرنگ لائسنس منسوخ کیا جاسکے گا۔</p>
<p>کمیٹی نے ایکسپورٹس کے فروغ کے لیے ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) اسکیم بھی تجویز کی ہے، جس کے تحت اہل او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کو نیٹ ایف او بی ایکسپورٹ ویلیو کا 10 فیصد بنیادی سپورٹ کے طور پر دیا جائے گا، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ایکسپورٹ ویلیو میں کم از کم 5 فیصد اضافے پر مزید 5 فیصد سپورٹ مل سکے گی۔</p>
<p>مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے منیمم ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن (ایم ڈی وی اے) نظام بھی متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ روایتی کاروں میں ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن 2030-31 تک 40 فیصد، کنونشنل ایل سی ویز، ٹرکس اور بسوں میں بالترتیب 45 فیصد، 45 فیصد اور 40 فیصد، کنونشنل ٹریکٹرز میں 80 فیصد جبکہ بائیکس اور رکشوں میں 90 فیصد تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ این ای ویز کے لیے یہ شرح ابتدائی 10 فیصد سے بڑھا کر 2030-31 تک 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے آٹو موبائل ٹیرف میں 80 فیصد تک کمی، ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) کے خاتمے اور ٹیرف اسٹرکچر کو نیشنل ٹیرف پالیسی سے ہم آہنگ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>نیو انرجی وہیکلز کے لیے بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای ویز) کو یکساں سہولت دینے کی تجویز ہے۔ این ای ویز، پارٹس اور را میٹریل پر 1 فیصد سیلز ٹیکس، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ تجویز کیا گیا ہے۔ این ای وی خریداری کے لیے کریڈٹ لمٹ 3 ملین روپے سے بڑھا کر 10 ملین روپے اور فنانسنگ ٹینور 3 سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔</p>
<p>کمیٹی کے مطابق کنونشنل وہیکلز پر اضافی ایف ای ڈی عائد کرکے این ای ویز اور ایکسپورٹ سپورٹ رجیم کی جزوی مالی اعانت کی جائے گی۔ 2026-31 کے دوران اضافی ایف ای ڈی وصولی تقریباً 349.94 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق لوکل مینوفیکچرنگ سے آئندہ چھ برس میں تقریباً 17.70 ارب ڈالر کی فارن ایکسچینج بچت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ آٹو پارٹس کی ایکسپورٹس کو فروغ دینے کے لیے آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل (اے پی ای سی) قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>پالیسی میں وہیکل کوالٹی اور کنزیومر پروٹیکشن پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ 62 یو این ای سی ای ڈبلیو پی 29 اسٹینڈرڈز پہلے ہی اپنائے جاچکے ہیں جبکہ مزید 45 اسٹینڈرڈز 2029 تک اپنانے کا ہدف ہے۔ مینوفیکچررز کو قیمتوں میں تبدیلی اور گاڑیوں کی ایکچوئل ڈیلیوری ڈیٹس سمیت سیلز سے متعلق معلومات ظاہر کرنا ہوں گی۔</p>
<p>مجموعی طور پر مجوزہ پالیسی کا مقصد پروٹیکشن پر مبنی نظام کو ایکسپورٹ لنکڈ انسینٹیوز، میئرایبل لوکلائزیشن، ٹیرف ریشنلائزیشن، کمپیٹیشن اور نیو انرجی وہیکلز کے فروغ پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291017</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Sep 2026 09:21:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/09091936fe7c616.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/09091936fe7c616.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
