<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا نے بلک صارفین کیلئے یکساں یوز آف سسٹم چارجز کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290982/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بلک پاور صارفین (بی پی سیز) اور دیگر اوپن ایکسس صارفین کے لیے یکساں یوز آف سسٹم چارجز (یو او ایس سی) کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پاکستان کی مسابقتی تھوک بجلی مارکیٹ کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے جس کے تحت مختلف بجلی فراہم کنندگان سے بجلی حاصل کرنے والے صارفین پر گرڈ کے یکساں چارجز لاگو ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے مسابقتی وہیلنگ نیلامی کے عمل میں حصہ لینے والے اوپن ایکسس صارفین کے لیے صارفین کی کیٹیگری کے لحاظ سے 6.23 روپے سے 19.62 روپے فی یونٹ تک یکساں متغیر گرڈ چارجز کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ منظور شدہ لوڈ کی بنیاد پر ایک روپے فی کلوواٹ فی ماہ کا مقررہ گرڈ چارج بھی لاگو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے فیصلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تحریک اور پالیسی ہدایات کی بنیاد پر گیارہ سابق واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں بشمول کے-الیکٹرک (کے ای) پر یکساں یوز آف سسٹم چارجز  کے اطلاق کی منظوری دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے کہا کہ یہ اقدام بلک پاور صارفین اور دیگر اوپن ایکسس صارفین کو مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ  کے تحت مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے ضروری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے 25 مئی 2026 کو یہ تحریک دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ کمرشل مارکیٹ آپریشنز ڈیٹ کا پہلے ہی 22 جنوری 2026 کو اعلان کیا جاچکا ہے جبکہ مارکیٹ کی پہلی نیلامی جون 2026 میں مقرر تھی۔ پاور ڈویژن نے کہا کہ مارکیٹ کو آزاد بنانے کی اصلاحات میں مزید تاخیر نہیں کی جاسکتی اور یکساں یوز آف سسٹم چارجز کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن  نقصانات کا یکساں تعین بھی جلد از جلد کیا جانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منظور شدہ نظام کے تحت یکساں یوز آف سسٹم چارجز اوپن ایکسس صارفین پر ان کے بجلی فراہم کنندہ سے قطع نظر لاگو ہوں گے۔ ان چارجز میں ٹرانسمیشن چارجز، ڈسٹری بیوشن چارجز اور کراس سبسڈی شامل ہوں گے، جبکہ وہ صارفین جو مسابقتی وہیلنگ نیلامی میں حصہ لیے بغیر اوپن ایکسس اختیار کریں گے، ان پر اسٹرینڈڈ کاسٹس الگ سے عائد کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بلک پاور صارفین (بی پی سیز) اور دیگر اوپن ایکسس صارفین کے لیے یکساں یوز آف سسٹم چارجز (یو او ایس سی) کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پاکستان کی مسابقتی تھوک بجلی مارکیٹ کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے جس کے تحت مختلف بجلی فراہم کنندگان سے بجلی حاصل کرنے والے صارفین پر گرڈ کے یکساں چارجز لاگو ہوں گے۔</strong></p>
<p>ریگولیٹر نے مسابقتی وہیلنگ نیلامی کے عمل میں حصہ لینے والے اوپن ایکسس صارفین کے لیے صارفین کی کیٹیگری کے لحاظ سے 6.23 روپے سے 19.62 روپے فی یونٹ تک یکساں متغیر گرڈ چارجز کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ منظور شدہ لوڈ کی بنیاد پر ایک روپے فی کلوواٹ فی ماہ کا مقررہ گرڈ چارج بھی لاگو ہوگا۔</p>
<p>7 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے فیصلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تحریک اور پالیسی ہدایات کی بنیاد پر گیارہ سابق واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں بشمول کے-الیکٹرک (کے ای) پر یکساں یوز آف سسٹم چارجز  کے اطلاق کی منظوری دی گئی ہے۔</p>
<p>نیپرا نے کہا کہ یہ اقدام بلک پاور صارفین اور دیگر اوپن ایکسس صارفین کو مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ  کے تحت مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے ضروری تھا۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے 25 مئی 2026 کو یہ تحریک دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ کمرشل مارکیٹ آپریشنز ڈیٹ کا پہلے ہی 22 جنوری 2026 کو اعلان کیا جاچکا ہے جبکہ مارکیٹ کی پہلی نیلامی جون 2026 میں مقرر تھی۔ پاور ڈویژن نے کہا کہ مارکیٹ کو آزاد بنانے کی اصلاحات میں مزید تاخیر نہیں کی جاسکتی اور یکساں یوز آف سسٹم چارجز کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن  نقصانات کا یکساں تعین بھی جلد از جلد کیا جانا ضروری ہے۔</p>
<p>منظور شدہ نظام کے تحت یکساں یوز آف سسٹم چارجز اوپن ایکسس صارفین پر ان کے بجلی فراہم کنندہ سے قطع نظر لاگو ہوں گے۔ ان چارجز میں ٹرانسمیشن چارجز، ڈسٹری بیوشن چارجز اور کراس سبسڈی شامل ہوں گے، جبکہ وہ صارفین جو مسابقتی وہیلنگ نیلامی میں حصہ لیے بغیر اوپن ایکسس اختیار کریں گے، ان پر اسٹرینڈڈ کاسٹس الگ سے عائد کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290982</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Sep 2026 11:50:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/08114927b7e01ab.webp" type="image/webp" medium="image" height="470" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/08114927b7e01ab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
