<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 10:03:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 10:03:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے صوبوں کا قیام، اپوزیشن کا حکومت کو جلد بازی سے گریز کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290973/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اپوزیشن نے پیر کو حکومت کو نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر کسی بھی عجلت میں فیصلہ کرنے سے خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم معاملے پر سیاسی اور عوامی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے  چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چاروں صوبوں میں سے کسی کو بھی وہاں کے عوام اور منتخب نمائندوں کی رضامندی کے بغیر تقسیم کرنے سے انتظامی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی تجویز کا پہلے ایک کمیشن کے ذریعے جائزہ لیا جائے اور اس کے بعد پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس پر بحث کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فیصلے سے قبل سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر گوہر نے 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل پیدا کیے گئے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بڑے آئینی معاملات بھی اسی طریقہ کار کے تحت طے کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق حتمی طور پر نئے صوبوں کا معاملہ آئندہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ جلد بازی میں کیا گیا کوئی بھی فیصلہ وفاق کی یکجہتی کے خلاف ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی کی مخالفت اور سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر صوبے بنانے سے وہی انتظامی مسائل مزید سنگین ہوسکتے ہیں جن کے حل کے لیے یہ تجویز دی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی تجویز کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں کوئی بحث نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کرے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا قیام ایک خطرناک اقدام ہوسکتا ہے، تاہم آئینی بالادستی اور پاکستان کے استحکام کے لیے اپوزیشن حکومت کا ساتھ دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجہ ناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی موجودہ صوبائی اسمبلی نے نئے صوبے کے قیام کے لیے قرارداد منظور کی ہے، کیونکہ آئینی طریقہ کار کے تحت یہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نئے صوبوں کے بجائے بلدیاتی نظام مضبوط بنانے اور آزاد و منصفانہ انتخابات یقینی بنانے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے صوبوں کے قیام پر بحث جولائی کے اواخر میں اس وقت تیز ہوئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کے تحت نئے انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز دی تھی۔ اس تجویز نے وفاقی اتحادی حکومت کے اندر بھی اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اپوزیشن نے پیر کو حکومت کو نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر کسی بھی عجلت میں فیصلہ کرنے سے خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم معاملے پر سیاسی اور عوامی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔</strong></p>
<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے  چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چاروں صوبوں میں سے کسی کو بھی وہاں کے عوام اور منتخب نمائندوں کی رضامندی کے بغیر تقسیم کرنے سے انتظامی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی تجویز کا پہلے ایک کمیشن کے ذریعے جائزہ لیا جائے اور اس کے بعد پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس پر بحث کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فیصلے سے قبل سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔</p>
<p>بیرسٹر گوہر نے 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل پیدا کیے گئے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بڑے آئینی معاملات بھی اسی طریقہ کار کے تحت طے کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق حتمی طور پر نئے صوبوں کا معاملہ آئندہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ جلد بازی میں کیا گیا کوئی بھی فیصلہ وفاق کی یکجہتی کے خلاف ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی کی مخالفت اور سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر صوبے بنانے سے وہی انتظامی مسائل مزید سنگین ہوسکتے ہیں جن کے حل کے لیے یہ تجویز دی جارہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی تجویز کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں کوئی بحث نہیں ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کرے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا قیام ایک خطرناک اقدام ہوسکتا ہے، تاہم آئینی بالادستی اور پاکستان کے استحکام کے لیے اپوزیشن حکومت کا ساتھ دے گی۔</p>
<p>راجہ ناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی موجودہ صوبائی اسمبلی نے نئے صوبے کے قیام کے لیے قرارداد منظور کی ہے، کیونکہ آئینی طریقہ کار کے تحت یہ ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے نئے صوبوں کے بجائے بلدیاتی نظام مضبوط بنانے اور آزاد و منصفانہ انتخابات یقینی بنانے پر زور دیا۔</p>
<p>نئے صوبوں کے قیام پر بحث جولائی کے اواخر میں اس وقت تیز ہوئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کے تحت نئے انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز دی تھی۔ اس تجویز نے وفاقی اتحادی حکومت کے اندر بھی اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290973</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Sep 2026 09:42:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/080940147fbcd1a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/080940147fbcd1a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
