<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 10:03:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 10:03:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے ہرمز بحران کا معاشی دباؤ 2022 کے تیل بحران سے بہتر طور پر برداشت کیا، موڈیز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290969/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موڈیز ریٹنگز کے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ پاکستان نے آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے معاشی جھٹکے کو 2022 کے تیل کی قیمتوں کے بحران کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں برداشت کیا ہے۔ یہ بیان ایجنسی کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری میڈیا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے گفتگو کرتے ہوئے موڈیز کی اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ لم نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ مضبوطی محض خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں بلکہ گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والے معاشی استحکام کا ثمر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بار مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے جھٹکے کو 2022 کے مقابلے میں زیادہ مضبوطی سے برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے، جب ملک کو تیل کی قیمتوں کے شدید جھٹکے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لم کے مطابق بحران سے قبل حاصل ہونے والی معاشی بہتری نے پاکستان کی لچک میں اہم کردار ادا کیا۔ کم افراطِ زر، شرحِ تبادلہ میں استحکام اور زرمبادلہ کے زیادہ ذخائر نے ملک کو معاشی جھٹکے برداشت کرنے کے لیے بہتر گنجائش فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موڈیز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ بہتر بنانے کے فیصلے کے پیچھے تین اہم عوامل تھے، جن میں گورننس میں بہتری، بیرونی شعبے کی مضبوط پوزیشن اور مالیاتی اشاریوں میں بہتری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لم نے کہا کہ موڈیز نے یہ توقع کرتے ہوئے پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کی کہ گورننس میں بہتری حکومت کو بیرونی پوزیشن اور مالیاتی اشاریوں میں حالیہ مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کا کریڈٹ پروفائل اب بھی کمزور ہے۔ ان کے مطابق B3 ریٹنگ میں اب بھی ساختی طور پر کمزور بیرونی پوزیشن، محدود برآمدی بنیاد اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی جیسے مسائل شامل ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کی استعداد میں بہتری آرہی ہے، تاہم یہ اب بھی کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید ریٹنگ اپ گریڈ کے لیے انہوں نے کسی ایک اشاریے کے بجائے اصلاحات پر مسلسل عملدرآمد کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں توقعات سے زیادہ اضافہ، سرکاری اور کمرشل فنانسنگ تک رسائی میں بہتری اور ایسی مالیاتی اصلاحات ضروری ہیں جو قرضوں کی ادائیگی کی استعداد میں نمایاں بہتری لائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران محصولات میں اضافے سے متعلق اصلاحات، جن کے نتیجے میں جی ڈی پی میں محصولات کا تناسب بڑھا، پہلے ہی موجودہ ریٹنگ اپ گریڈ میں شامل ہیں، تاہم مزید بہتری کے لیے اضافی پیش رفت درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موڈیز ریٹنگز کے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ پاکستان نے آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے معاشی جھٹکے کو 2022 کے تیل کی قیمتوں کے بحران کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں برداشت کیا ہے۔ یہ بیان ایجنسی کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>سرکاری میڈیا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے گفتگو کرتے ہوئے موڈیز کی اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ لم نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ مضبوطی محض خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں بلکہ گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والے معاشی استحکام کا ثمر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بار مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے جھٹکے کو 2022 کے مقابلے میں زیادہ مضبوطی سے برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے، جب ملک کو تیل کی قیمتوں کے شدید جھٹکے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p>لم کے مطابق بحران سے قبل حاصل ہونے والی معاشی بہتری نے پاکستان کی لچک میں اہم کردار ادا کیا۔ کم افراطِ زر، شرحِ تبادلہ میں استحکام اور زرمبادلہ کے زیادہ ذخائر نے ملک کو معاشی جھٹکے برداشت کرنے کے لیے بہتر گنجائش فراہم کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موڈیز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ بہتر بنانے کے فیصلے کے پیچھے تین اہم عوامل تھے، جن میں گورننس میں بہتری، بیرونی شعبے کی مضبوط پوزیشن اور مالیاتی اشاریوں میں بہتری شامل ہیں۔</p>
<p>لم نے کہا کہ موڈیز نے یہ توقع کرتے ہوئے پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کی کہ گورننس میں بہتری حکومت کو بیرونی پوزیشن اور مالیاتی اشاریوں میں حالیہ مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کا کریڈٹ پروفائل اب بھی کمزور ہے۔ ان کے مطابق B3 ریٹنگ میں اب بھی ساختی طور پر کمزور بیرونی پوزیشن، محدود برآمدی بنیاد اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی جیسے مسائل شامل ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کی استعداد میں بہتری آرہی ہے، تاہم یہ اب بھی کمزور ہے۔</p>
<p>مزید ریٹنگ اپ گریڈ کے لیے انہوں نے کسی ایک اشاریے کے بجائے اصلاحات پر مسلسل عملدرآمد کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں توقعات سے زیادہ اضافہ، سرکاری اور کمرشل فنانسنگ تک رسائی میں بہتری اور ایسی مالیاتی اصلاحات ضروری ہیں جو قرضوں کی ادائیگی کی استعداد میں نمایاں بہتری لائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران محصولات میں اضافے سے متعلق اصلاحات، جن کے نتیجے میں جی ڈی پی میں محصولات کا تناسب بڑھا، پہلے ہی موجودہ ریٹنگ اپ گریڈ میں شامل ہیں، تاہم مزید بہتری کے لیے اضافی پیش رفت درکار ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290969</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Sep 2026 09:07:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/0809050633abf1e.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/0809050633abf1e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
