<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثی حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290966/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس کی وجہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملے اور تہران کی جانب سے امریکا کو ’’معاشی جنگ‘‘ کی دھمکی قرار دی جارہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1311 جی ایم ٹی پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 48 سینٹ، یعنی 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 97.48 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 1.07 ڈالر، یعنی 1.17 فیصد اضافے کے ساتھ 92.55 ڈالر فی بیرل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل برینٹ کی قیمت بڑھ کر 99.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 94.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 8 جون کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا، ’’قیمتوں میں یہ ردوبدل حقیقی رسدی قلت اور واضح جغرافیائی سیاسی خطرے کے پریمیم، دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی آمدورفت معمول کی سطح سے کہیں کم ہے۔ اس وقت قیمتوں میں اضافے میں خطرے کا پریمیم نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’رواں سال کے باقی عرصے میں بھی تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے، جب تک آبنائے ہرمز میں آمدورفت کا تنازع برقرار رہتا ہے اور سفارتی پیش رفت نازک حالت میں ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب میں بعض توانائی تنصیبات پر آپریشنز منگل کو معطل کردیے گئے، جس کے بعد حکام نے اسے خطرناک کشیدگی قرار دیا۔ یہ کارروائی یمن کے حوثیوں کے حملوں کے بعد کی گئی، جن میں 73 افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ایران نے امریکا کو ’’معاشی جنگ‘‘ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر جدید میزائل داغا ہے، جس سے جنگ میں مزید کشیدگی کے خطرات نمایاں ہوگئے ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان چند ہی روز قبل ایک بار پھر حملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ہفتے کے روز امریکی فورسز نے ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک ٹینکر ایران کے مرکزی تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب تھا۔ یہ حملے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر حملوں کے بعد کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے پیر کو کسی بھی نئے امریکی حملے کا جواب دینے کی دھمکی کے بعد رواں ہفتے کے آغاز میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت بھی سست پڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بینکوں-نے-قیمتوں-کے-تخمینے-بڑھا-دیے-ایندھن-کی-منڈیوں-میں-رسد-بدستور-محدود" href="#بینکوں-نے-قیمتوں-کے-تخمینے-بڑھا-دیے-ایندھن-کی-منڈیوں-میں-رسد-بدستور-محدود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بینکوں نے قیمتوں کے تخمینے بڑھا دیے، ایندھن کی منڈیوں میں رسد بدستور محدود&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس نے دسمبر 2026 کے لیے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کے تخمینے میں 5 ڈالر کا اضافہ کرتے ہوئے بالترتیب 85 اور 80 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جبکہ 2027 کے لیے یہ تخمینے بالترتیب 80 اور 75 ڈالر فی بیرل مقرر کیے گئے ہیں۔ بینک نے یہ تبدیلی اس نئے مفروضے کی بنیاد پر کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بحری نقل و حمل میں خلل 2027 تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ ایس بی سی نے بھی 2026 کے لیے برینٹ کی قیمت کا تخمینہ 80 ڈالر سے بڑھا کر 90 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جس میں 2026 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے 95 ڈالر فی بیرل کا تخمینہ بھی شامل ہے۔ بینک نے 2027 کے لیے بھی اپنا تخمینہ 65 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے کے سینئر حکام نے منگل کو بتایا کہ اضافی ریفائننگ گنجائش کی کمی، روس کی جانب سے برآمدات پر پابندی اور موسمِ سرما میں ایندھن کی طلب کے عروج کے قریب پہنچنے کے باعث عالمی سطح پر ڈیزل کی رسد بدستور محدود رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر ڈے کی تعطیلات کے اختتامِ ہفتہ کے دوران امریکی شہریوں کو پٹرول کی ریکارڈ بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ریفائنریوں کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں اور نئی دھمکیوں کے باعث عالمی رسد محدود رہی، جس سے ایندھن کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہا، جبکہ گزشتہ ہفتے امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں بھی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک پرو کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو بروکارڈو نے کہا، ’’اگر ریفائنریوں کی گنجائش اور رسد و ترسیل کا نظام طویل عرصے تک محدود رہا تو ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی منڈیاں خام تیل کی منڈی کے مقابلے میں مزید سخت رسدی حالات کا شکار رہ سکتی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس کی وجہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملے اور تہران کی جانب سے امریکا کو ’’معاشی جنگ‘‘ کی دھمکی قرار دی جارہی ہے۔</strong></p>
<p>1311 جی ایم ٹی پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 48 سینٹ، یعنی 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 97.48 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 1.07 ڈالر، یعنی 1.17 فیصد اضافے کے ساتھ 92.55 ڈالر فی بیرل رہی۔</p>
<p>اس سے قبل برینٹ کی قیمت بڑھ کر 99.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 94.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 8 جون کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا، ’’قیمتوں میں یہ ردوبدل حقیقی رسدی قلت اور واضح جغرافیائی سیاسی خطرے کے پریمیم، دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی آمدورفت معمول کی سطح سے کہیں کم ہے۔ اس وقت قیمتوں میں اضافے میں خطرے کا پریمیم نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’رواں سال کے باقی عرصے میں بھی تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے، جب تک آبنائے ہرمز میں آمدورفت کا تنازع برقرار رہتا ہے اور سفارتی پیش رفت نازک حالت میں ہے۔‘‘</p>
<p>دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب میں بعض توانائی تنصیبات پر آپریشنز منگل کو معطل کردیے گئے، جس کے بعد حکام نے اسے خطرناک کشیدگی قرار دیا۔ یہ کارروائی یمن کے حوثیوں کے حملوں کے بعد کی گئی، جن میں 73 افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>دریں اثنا، ایران نے امریکا کو ’’معاشی جنگ‘‘ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر جدید میزائل داغا ہے، جس سے جنگ میں مزید کشیدگی کے خطرات نمایاں ہوگئے ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان چند ہی روز قبل ایک بار پھر حملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ہفتے کے روز امریکی فورسز نے ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک ٹینکر ایران کے مرکزی تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب تھا۔ یہ حملے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر حملوں کے بعد کیے گئے۔</p>
<p>ایران کی جانب سے پیر کو کسی بھی نئے امریکی حملے کا جواب دینے کی دھمکی کے بعد رواں ہفتے کے آغاز میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت بھی سست پڑ گئی۔</p>
<h3><a id="بینکوں-نے-قیمتوں-کے-تخمینے-بڑھا-دیے-ایندھن-کی-منڈیوں-میں-رسد-بدستور-محدود" href="#بینکوں-نے-قیمتوں-کے-تخمینے-بڑھا-دیے-ایندھن-کی-منڈیوں-میں-رسد-بدستور-محدود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بینکوں نے قیمتوں کے تخمینے بڑھا دیے، ایندھن کی منڈیوں میں رسد بدستور محدود</strong></h3>
<p>گولڈمین سیکس نے دسمبر 2026 کے لیے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کے تخمینے میں 5 ڈالر کا اضافہ کرتے ہوئے بالترتیب 85 اور 80 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جبکہ 2027 کے لیے یہ تخمینے بالترتیب 80 اور 75 ڈالر فی بیرل مقرر کیے گئے ہیں۔ بینک نے یہ تبدیلی اس نئے مفروضے کی بنیاد پر کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بحری نقل و حمل میں خلل 2027 تک جاری رہے گا۔</p>
<p>ایچ ایس بی سی نے بھی 2026 کے لیے برینٹ کی قیمت کا تخمینہ 80 ڈالر سے بڑھا کر 90 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جس میں 2026 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے 95 ڈالر فی بیرل کا تخمینہ بھی شامل ہے۔ بینک نے 2027 کے لیے بھی اپنا تخمینہ 65 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے کے سینئر حکام نے منگل کو بتایا کہ اضافی ریفائننگ گنجائش کی کمی، روس کی جانب سے برآمدات پر پابندی اور موسمِ سرما میں ایندھن کی طلب کے عروج کے قریب پہنچنے کے باعث عالمی سطح پر ڈیزل کی رسد بدستور محدود رہے گی۔</p>
<p>لیبر ڈے کی تعطیلات کے اختتامِ ہفتہ کے دوران امریکی شہریوں کو پٹرول کی ریکارڈ بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ریفائنریوں کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں اور نئی دھمکیوں کے باعث عالمی رسد محدود رہی، جس سے ایندھن کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہا، جبکہ گزشتہ ہفتے امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں بھی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں۔</p>
<p>بینک پرو کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو بروکارڈو نے کہا، ’’اگر ریفائنریوں کی گنجائش اور رسد و ترسیل کا نظام طویل عرصے تک محدود رہا تو ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی منڈیاں خام تیل کی منڈی کے مقابلے میں مزید سخت رسدی حالات کا شکار رہ سکتی ہیں۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290966</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Sep 2026 18:55:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/080846166b6c483.webp" type="image/webp" medium="image" height="314" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/080846166b6c483.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
