<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس تقریباً ایک فیصد گر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290930/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پیر کو شدید دباو کا شکار رہی جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--right  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/uQhym5_jfFE'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/uQhym5_jfFE?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 175,353.67 پوائنٹس پر جاپہنچا تاہم یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور دوسرے سیشن میں فروخت کا دباؤ شدت اختیار کرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک انڈیکس کاروبار کے آخری اوقات میں 174,000 پوائنٹس کی سطح سے بھی نیچے آگیا اور گراوٹ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دورانِ سیشن 173,603.75 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر100 انڈیکس 1,692.75 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی سے 173,636.07 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے بعد کی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تجدید شدہ عالمی جغرافیائی کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بلند قیمتوں کے باعث مارکیٹ میں محتاط رجحان برقرار رہا، جس نے افراطِ زر (مہنگائی) کے دباؤ، بیرونی کھاتوں اور مجموعی میکرو اکنامک استحکام کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ریفائنری سیکٹر میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی وجہ ان خبروں کا سامنے آنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ان آئل ریفائنریز پر مالی جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو یکم اکتوبر 2026 تک وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدوں (یوایز) پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہیں گی۔ اس پیش رفت نے ریفائنری کمپنیوں پر ممکنہ مالی اثرات سے متعلق اندیشوں کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق منفی پہلو پر یو بی ایل، او جی ڈی سی، پی پی ایل، ایم سی بی  اور ایف ایف سی  انڈیکس میں کمی کے اہم ذمہ دار رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای-100  انڈیکس کو تقریباً 811 پوائنٹس نیچے دھکیلا۔ اس کے برعکس پی ایس ای ایل، اے کے بی ایل  اور اے آئی سی ایل  نے کچھ سہارا فراہم کرتے ہوئے مجموعی طور پر تقریباً 117 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے بھی اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1.3 فیصد کمی کے بعد 175,328.81 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپوں سے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال میں اضافے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی نے مہنگائی اور بیرونی کھاتے سے متعلق خدشات بڑھا دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی حصص میں تیزی دیکھی گئی، کیونکہ امریکا کے مضبوط روزگار کے اعداد و شمار کو عالمی اقتصادی نمو کے لیے مثبت قرار دیا گیا، اگرچہ اس سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی متاثر ہوئے۔ ادھر خلیج میں امریکا اور ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون کا اعلان کرے گا۔ اس سے قبل امریکی فورسز نے 3 ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا جبکہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے 2 امریکی بحری جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت 0.2 فیصد اضافے سے 96.45 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل 0.4 فیصد اضافے سے 91.85 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ برینٹ کی قیمت گزشتہ ہفتے تقریباً 10 فیصد بڑھ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی افراط زر کے اعداد و شمار رواں ہفتے مارکیٹ کے لیے اہم رہیں گے، جبکہ یورپی مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو شرح سود 2.75 فیصد تک بڑھانے کی توقع کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیوچرز مارکیٹ کے مطابق دسمبر تک شرحِ سود میں مزید 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 3.0 فیصد تک پہنچنے کے 75 فیصد امکانات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی یورپی بینک کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے بعد سخت معاشی پالیسی (ہاکش گائیڈنس) کے خدشات نے پیر کو یورپی اسٹاکس کو دباؤ میں رکھا۔ یورو اسٹوکس 50 فیوچرز  اور ڈیکس فیوچرز میں 0.1 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جبکہ ایف ٹی ایس ای  فیوچرز مستحکم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ میں امریکی تعطیل کی وجہ سے کاروبار کا حجم محدود رہا اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز کے ساتھ ساتھ نیس ڈیک فیوچرز میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں جاپان کا نکی  انڈیکس گزشتہ ہفتے اسی قدر نقصان کے بعد 2.0 فیصد سنبھل گیا، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 3.0 فیصد کا شاندار اضافہ ہوا۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک شیئرز کے ایم ایس سی آئی  کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.9 فیصد کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے کی برتری کے ساتھ 277.40 پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئرز انڈیکس پر ٹریڈنگ کا حجم پچھلے سیشن کے 87.43 کروڑ شیئرز سے کم ہو کر 67.91 کروڑ شیئرز رہ گیا۔ شیئرز کی مجموعی قدر بھی گزشتہ سیشن کے 32.42 ارب روپے سے گھٹ کر 23.69 ارب روپے پر آ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنجرگو پی کے 8.24 کروڑ شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد فرسٹ کیپیٹل سیکیورٹیز 4.14 کروڑ شیئرز اور پاکستان ریفائنری 3.99 کروڑ شیئرز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو کل 495 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 154 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 311 میں کمی جبکہ 30 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/07183348131147f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/07183348131147f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پیر کو شدید دباو کا شکار رہی جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--right  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/uQhym5_jfFE'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/uQhym5_jfFE?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 175,353.67 پوائنٹس پر جاپہنچا تاہم یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور دوسرے سیشن میں فروخت کا دباؤ شدت اختیار کرگیا۔</p>
<p>بینچ مارک انڈیکس کاروبار کے آخری اوقات میں 174,000 پوائنٹس کی سطح سے بھی نیچے آگیا اور گراوٹ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دورانِ سیشن 173,603.75 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر100 انڈیکس 1,692.75 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی سے 173,636.07 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے بعد کی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تجدید شدہ عالمی جغرافیائی کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بلند قیمتوں کے باعث مارکیٹ میں محتاط رجحان برقرار رہا، جس نے افراطِ زر (مہنگائی) کے دباؤ، بیرونی کھاتوں اور مجموعی میکرو اکنامک استحکام کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ریفائنری سیکٹر میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی وجہ ان خبروں کا سامنے آنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ان آئل ریفائنریز پر مالی جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو یکم اکتوبر 2026 تک وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدوں (یوایز) پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہیں گی۔ اس پیش رفت نے ریفائنری کمپنیوں پر ممکنہ مالی اثرات سے متعلق اندیشوں کو جنم دیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق منفی پہلو پر یو بی ایل، او جی ڈی سی، پی پی ایل، ایم سی بی  اور ایف ایف سی  انڈیکس میں کمی کے اہم ذمہ دار رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای-100  انڈیکس کو تقریباً 811 پوائنٹس نیچے دھکیلا۔ اس کے برعکس پی ایس ای ایل، اے کے بی ایل  اور اے آئی سی ایل  نے کچھ سہارا فراہم کرتے ہوئے مجموعی طور پر تقریباً 117 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے بھی اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1.3 فیصد کمی کے بعد 175,328.81 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپوں سے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال میں اضافے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی نے مہنگائی اور بیرونی کھاتے سے متعلق خدشات بڑھا دیے تھے۔</p>
<p>عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی حصص میں تیزی دیکھی گئی، کیونکہ امریکا کے مضبوط روزگار کے اعداد و شمار کو عالمی اقتصادی نمو کے لیے مثبت قرار دیا گیا، اگرچہ اس سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی متاثر ہوئے۔ ادھر خلیج میں امریکا اور ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔</p>
<p>ایران نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون کا اعلان کرے گا۔ اس سے قبل امریکی فورسز نے 3 ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا جبکہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے 2 امریکی بحری جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔</p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت 0.2 فیصد اضافے سے 96.45 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل 0.4 فیصد اضافے سے 91.85 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ برینٹ کی قیمت گزشتہ ہفتے تقریباً 10 فیصد بڑھ چکی ہے۔</p>
<p>امریکی افراط زر کے اعداد و شمار رواں ہفتے مارکیٹ کے لیے اہم رہیں گے، جبکہ یورپی مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو شرح سود 2.75 فیصد تک بڑھانے کی توقع کی جارہی ہے۔</p>
<p>فیوچرز مارکیٹ کے مطابق دسمبر تک شرحِ سود میں مزید 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 3.0 فیصد تک پہنچنے کے 75 فیصد امکانات ہیں۔</p>
<p>مرکزی یورپی بینک کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے بعد سخت معاشی پالیسی (ہاکش گائیڈنس) کے خدشات نے پیر کو یورپی اسٹاکس کو دباؤ میں رکھا۔ یورو اسٹوکس 50 فیوچرز  اور ڈیکس فیوچرز میں 0.1 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جبکہ ایف ٹی ایس ای  فیوچرز مستحکم رہے۔</p>
<p>وال اسٹریٹ میں امریکی تعطیل کی وجہ سے کاروبار کا حجم محدود رہا اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز کے ساتھ ساتھ نیس ڈیک فیوچرز میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ایشیا میں جاپان کا نکی  انڈیکس گزشتہ ہفتے اسی قدر نقصان کے بعد 2.0 فیصد سنبھل گیا، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 3.0 فیصد کا شاندار اضافہ ہوا۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک شیئرز کے ایم ایس سی آئی  کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.9 فیصد کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>دریں اثنا پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے کی برتری کے ساتھ 277.40 پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئرز انڈیکس پر ٹریڈنگ کا حجم پچھلے سیشن کے 87.43 کروڑ شیئرز سے کم ہو کر 67.91 کروڑ شیئرز رہ گیا۔ شیئرز کی مجموعی قدر بھی گزشتہ سیشن کے 32.42 ارب روپے سے گھٹ کر 23.69 ارب روپے پر آ گئی۔</p>
<p>سنجرگو پی کے 8.24 کروڑ شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد فرسٹ کیپیٹل سیکیورٹیز 4.14 کروڑ شیئرز اور پاکستان ریفائنری 3.99 کروڑ شیئرز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>پیر کو کل 495 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 154 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 311 میں کمی جبکہ 30 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/07183348131147f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/07183348131147f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290930</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Sep 2026 19:36:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/071015208d56832.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/071015208d56832.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
