<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Financial</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 15:18:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 15:18:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کشیدگی اور عالمی شرح سود کے خدشات، ڈالر دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالر پیر کو کمزور رہا، اگرچہ امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ پیدا کردیا ہے، جس کے باعث دنیا کے بڑے مرکزی بینک بھی بیک وقت شرح سود سخت کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات، امریکا کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی ڈالر کو دباؤ میں رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی ایشیائی کاروبار میں کرنسیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا، جبکہ امریکی مارکیٹ تعطیل کے باعث بند رہی۔ جمعہ کو امریکی روزگار کے توقعات سے کہیں بہتر اعداد و شمار کے بعد ڈالر میں آنے والی مختصر تیزی بھی برقرار نہ رہ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو معمولی اضافے سے 1.1618 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 1.3519 ڈالر پر آگیا۔ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس 0.07 فیصد کمی سے 99.09 پر آگیا، جو حالیہ کم ترین سطح 98.558 کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر زرعی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد مارکیٹ میں امریکی فیڈرل ریزرو کی رواں ماہ شرح سود بڑھانے کے امکان کو تقریباً 57 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والے امریکی افراط زر کے اعداد و شمار پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی ایچ کے عالمی سربراہ برائے مارکیٹس اسٹریٹیجی ایلیاس حداد کے مطابق اگر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) توقعات سے زیادہ گرم رہا تو ستمبر میں شرح سود میں اضافہ تقریباً یقینی ہوجائے گا اور ڈالر مضبوط ہوگا، جبکہ کمزور افراط زر کا ڈیٹا شرح سود برقرار رکھنے کے امکانات بڑھا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر تیل کی بلند قیمتوں سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ یورپی مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو شرح سود 2.75 فیصد کرنے کی توقع کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دسمبر تک مزید اضافے کا امکان بھی 75 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں بھی 18 ستمبر کو بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کا امکان 75 فیصد لگایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالر پیر کو کمزور رہا، اگرچہ امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ پیدا کردیا ہے، جس کے باعث دنیا کے بڑے مرکزی بینک بھی بیک وقت شرح سود سخت کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔</strong></p>
<p>جاپانی ین کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات، امریکا کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی ڈالر کو دباؤ میں رکھا۔</p>
<p>ابتدائی ایشیائی کاروبار میں کرنسیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا، جبکہ امریکی مارکیٹ تعطیل کے باعث بند رہی۔ جمعہ کو امریکی روزگار کے توقعات سے کہیں بہتر اعداد و شمار کے بعد ڈالر میں آنے والی مختصر تیزی بھی برقرار نہ رہ سکی۔</p>
<p>یورو معمولی اضافے سے 1.1618 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 1.3519 ڈالر پر آگیا۔ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس 0.07 فیصد کمی سے 99.09 پر آگیا، جو حالیہ کم ترین سطح 98.558 کے قریب ہے۔</p>
<p>غیر زرعی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد مارکیٹ میں امریکی فیڈرل ریزرو کی رواں ماہ شرح سود بڑھانے کے امکان کو تقریباً 57 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والے امریکی افراط زر کے اعداد و شمار پر ہیں۔</p>
<p>بی بی ایچ کے عالمی سربراہ برائے مارکیٹس اسٹریٹیجی ایلیاس حداد کے مطابق اگر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) توقعات سے زیادہ گرم رہا تو ستمبر میں شرح سود میں اضافہ تقریباً یقینی ہوجائے گا اور ڈالر مضبوط ہوگا، جبکہ کمزور افراط زر کا ڈیٹا شرح سود برقرار رکھنے کے امکانات بڑھا دے گا۔</p>
<p>ادھر تیل کی بلند قیمتوں سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ یورپی مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو شرح سود 2.75 فیصد کرنے کی توقع کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دسمبر تک مزید اضافے کا امکان بھی 75 فیصد ہے۔</p>
<p>جاپان میں بھی 18 ستمبر کو بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کا امکان 75 فیصد لگایا جارہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290925</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Sep 2026 09:16:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/070914587bfe9e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="299" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/070914587bfe9e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
