<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں 6 ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290923/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتیں چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں اور 100 ڈالر فی بیرل کی جانب بڑھتی دکھائی دیں۔ آبنائے ہرمز اور دیگر علاقوں میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے سلسلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل محدود رہی، جس سے قیمتوں کو تقویت ملی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے ستمبر کے سودوں کی قیمت 1214 جی ایم ٹی تک 1.19 ڈالر یا 1.2 فیصد اضافے سے 97.47 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس سے قبل قیمت 97.93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی حالیہ چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب 92.26 ڈالر فی بیرل رہی، جو 78 سینٹ کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب میں سعودی آرامکو کی جازان آئل ریفائنری کو پیر کو حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ نقصان کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے معاملے سے باخبر دو افراد کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کی جانب سے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے بعد ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ہفتے کو ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک خَرج جزیرے کے قریب موجود تھا، جو ایران کا اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کو کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں کے علاوہ دیگر علاقوں میں امریکا سے منسلک تین بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندری امور سے متعلق انٹیلی جنس فرم میری ساکس نے ہفتے کے حملوں کو ’’بڑی کشیدگی‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرم نے مزید کہا، ’’اب تجارتی آئل ٹینکروں کو باہمی اقتصادی دباؤ کے ذرائع کے طور پر دانستہ طور پر استعمال کیا جارہا ہے، جس سے فوجی محاذ آرائی اور تجارتی بحری جہازوں کے درمیان پہلے موجود واضح فرق نمایاں طور پر کمزور ہوگیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہفتہ قبل ایران نے سعودی ملکیت والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا، جس پر سعودی عرب نے کہا تھا کہ حملے میں دو بحری کارکن جاں بحق ہوئے۔ عمان نے پیر کو بتایا کہ اس نے ٹینکر کے عملے کے 16 ارکان کو بحفاظت نکال لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیاتی فرم کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران اوسطاً روزانہ 10 تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو مئی کے بعد کی کم ترین تعداد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپ نووا میں مارکیٹ انسائٹس کی سربراہ پریانکا سچدیو نے کہا، ’’اگر آئل ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آنا شروع ہوگئی تو مارکیٹ میں رسد کو لگنے والے کہیں بڑے دھچکے کے خدشات کی بنیاد پر قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اور پہلے ہی ایسے آثار نظر آرہے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس نے کہا ہے کہ اگر بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا تو تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون کا اعلان کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گروپ اوپیک پلس نے اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اکتوبر کے لیے اپنی تیل پیداوار سے متعلق پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ پیداوار کے حوالے سے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے سے قبل اسے نئے پیداواری کوٹے پر اتفاق کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتیں چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں اور 100 ڈالر فی بیرل کی جانب بڑھتی دکھائی دیں۔ آبنائے ہرمز اور دیگر علاقوں میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے سلسلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل محدود رہی، جس سے قیمتوں کو تقویت ملی۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے ستمبر کے سودوں کی قیمت 1214 جی ایم ٹی تک 1.19 ڈالر یا 1.2 فیصد اضافے سے 97.47 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس سے قبل قیمت 97.93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی حالیہ چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب 92.26 ڈالر فی بیرل رہی، جو 78 سینٹ کا اضافہ ہے۔</p>
<p>سعودی عرب میں سعودی آرامکو کی جازان آئل ریفائنری کو پیر کو حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ نقصان کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے معاملے سے باخبر دو افراد کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔</p>
<p>پیر کو تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کی جانب سے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے بعد ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ہفتے کو ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک خَرج جزیرے کے قریب موجود تھا، جو ایران کا اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔</p>
<p>ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کو کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں کے علاوہ دیگر علاقوں میں امریکا سے منسلک تین بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔</p>
<p>سمندری امور سے متعلق انٹیلی جنس فرم میری ساکس نے ہفتے کے حملوں کو ’’بڑی کشیدگی‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>فرم نے مزید کہا، ’’اب تجارتی آئل ٹینکروں کو باہمی اقتصادی دباؤ کے ذرائع کے طور پر دانستہ طور پر استعمال کیا جارہا ہے، جس سے فوجی محاذ آرائی اور تجارتی بحری جہازوں کے درمیان پہلے موجود واضح فرق نمایاں طور پر کمزور ہوگیا ہے۔‘‘</p>
<p>ایک ہفتہ قبل ایران نے سعودی ملکیت والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا، جس پر سعودی عرب نے کہا تھا کہ حملے میں دو بحری کارکن جاں بحق ہوئے۔ عمان نے پیر کو بتایا کہ اس نے ٹینکر کے عملے کے 16 ارکان کو بحفاظت نکال لیا ہے۔</p>
<p>تجزیاتی فرم کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران اوسطاً روزانہ 10 تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو مئی کے بعد کی کم ترین تعداد ہے۔</p>
<p>فلپ نووا میں مارکیٹ انسائٹس کی سربراہ پریانکا سچدیو نے کہا، ’’اگر آئل ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آنا شروع ہوگئی تو مارکیٹ میں رسد کو لگنے والے کہیں بڑے دھچکے کے خدشات کی بنیاد پر قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اور پہلے ہی ایسے آثار نظر آرہے ہیں۔‘‘</p>
<p>گولڈمین سیکس نے کہا ہے کہ اگر بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا تو تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون کا اعلان کیا جائے گا۔</p>
<p>تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گروپ اوپیک پلس نے اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اکتوبر کے لیے اپنی تیل پیداوار سے متعلق پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ پیداوار کے حوالے سے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے سے قبل اسے نئے پیداواری کوٹے پر اتفاق کرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290923</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Sep 2026 18:51:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/07085917c58dee4.webp" type="image/webp" medium="image" height="302" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/07085917c58dee4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
