<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 01:30:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 01:30:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اگلے جی ایس پی پلس کا انحصار پاکستان کی جانب سے عملدرآمد پر ہوگا، کاروبلس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290899/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور جی ایس پی پلس کے تحت ترجیحی تجارتی رسائی برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی وعدوں اور گڈ گورننس پر قابلِ اعتبار اور قابلِ پیمائش پیش رفت دکھانا ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس کے اگلے مرحلے میں محض بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق یا قانون سازی کافی نہیں ہوگی بلکہ ان پر عملی عملدرآمد کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس مراعات ضمانت شدہ نہیں ہیں اور نئے نظام کے تحت پاکستان کی پوزیشن کے بارے میں فی الحال کوئی یقینی بات نہیں کہی جا سکتی۔ ان کے مطابق ضروری سیاسی فیصلے اب حکومت پاکستان کو کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اشیا کی دوطرفہ تجارت 12.2 ارب یورو رہی، جبکہ یورپی یونین کو پاکستان کے ساتھ 5.2 ارب یورو کا تجارتی خسارہ ہوا۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور پاکستان جی ایس پی پلس اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی 85 فیصد سے زائد برآمدات یورپی منڈی میں ڈیوٹی اور کوٹے سے مستثنیٰ داخل ہوتی ہیں، جبکہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تقریباً 89 فیصد درآمدات کو ترجیحی ٹیرف حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیا جی ایس پی  ضابطہ یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا اور اگلے 10 سال تک جاری رہے گا۔ اس کے تحت جی ایس پی پلس سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کی تعداد 27 سے بڑھا کر 32 کر دی گئی ہے جبکہ نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر نے کہا کہ نئے نظام میں پاکستان کو ایک قابلِ اعتبار ایکشن پلان پیش کرنا ہوگا جس میں عملی اقدامات، ٹائم لائنز اور کارکردگی کے اشاریے شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ جی ایس پی پلس مراعات ختم ہونے کی صورت میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر تقریباً 9 سے 12 فیصد ٹیرف عائد ہو سکتا ہے، جس سے پاکستانی صنعت کو مشکلات کا سامنا ہوگا اور یورپی خریدار بنگلہ دیش، مصر اور تیونس جیسے ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبلس نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے شعبے میں بعض پیش رفت ہوئی ہے، تاہم جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، آزادی اظہار، صحافیوں اور اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی تجارتی موقع ہے، تاہم ملک نے اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور برآمدات اب بھی ٹیکسٹائل و ملبوسات پر حد سے زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ انہوں نے چمڑے، زراعت اور آئی ٹی سروسز میں برآمدی استعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر کے مطابق پاکستان میں تقریباً 500 یورپی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور یورپی یونین گرین ٹیکسٹائل، زراعت، کان کنی، لاجسٹکس، آئی ٹی اور فن ٹیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور جی ایس پی پلس کے تحت ترجیحی تجارتی رسائی برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی وعدوں اور گڈ گورننس پر قابلِ اعتبار اور قابلِ پیمائش پیش رفت دکھانا ہوگی۔</strong></p>
<p>پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس کے اگلے مرحلے میں محض بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق یا قانون سازی کافی نہیں ہوگی بلکہ ان پر عملی عملدرآمد کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس مراعات ضمانت شدہ نہیں ہیں اور نئے نظام کے تحت پاکستان کی پوزیشن کے بارے میں فی الحال کوئی یقینی بات نہیں کہی جا سکتی۔ ان کے مطابق ضروری سیاسی فیصلے اب حکومت پاکستان کو کرنا ہوں گے۔</p>
<p>یورپی کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اشیا کی دوطرفہ تجارت 12.2 ارب یورو رہی، جبکہ یورپی یونین کو پاکستان کے ساتھ 5.2 ارب یورو کا تجارتی خسارہ ہوا۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور پاکستان جی ایس پی پلس اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔</p>
<p>جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی 85 فیصد سے زائد برآمدات یورپی منڈی میں ڈیوٹی اور کوٹے سے مستثنیٰ داخل ہوتی ہیں، جبکہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تقریباً 89 فیصد درآمدات کو ترجیحی ٹیرف حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>نیا جی ایس پی  ضابطہ یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا اور اگلے 10 سال تک جاری رہے گا۔ اس کے تحت جی ایس پی پلس سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کی تعداد 27 سے بڑھا کر 32 کر دی گئی ہے جبکہ نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔</p>
<p>سفیر نے کہا کہ نئے نظام میں پاکستان کو ایک قابلِ اعتبار ایکشن پلان پیش کرنا ہوگا جس میں عملی اقدامات، ٹائم لائنز اور کارکردگی کے اشاریے شامل ہوں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ جی ایس پی پلس مراعات ختم ہونے کی صورت میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر تقریباً 9 سے 12 فیصد ٹیرف عائد ہو سکتا ہے، جس سے پاکستانی صنعت کو مشکلات کا سامنا ہوگا اور یورپی خریدار بنگلہ دیش، مصر اور تیونس جیسے ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>کاروبلس نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے شعبے میں بعض پیش رفت ہوئی ہے، تاہم جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، آزادی اظہار، صحافیوں اور اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش برقرار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی تجارتی موقع ہے، تاہم ملک نے اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور برآمدات اب بھی ٹیکسٹائل و ملبوسات پر حد سے زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ انہوں نے چمڑے، زراعت اور آئی ٹی سروسز میں برآمدی استعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>سفیر کے مطابق پاکستان میں تقریباً 500 یورپی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور یورپی یونین گرین ٹیکسٹائل، زراعت، کان کنی، لاجسٹکس، آئی ٹی اور فن ٹیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہاں ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290899</guid>
      <pubDate>Sun, 06 Sep 2026 10:24:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/061022513e20565.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/061022513e20565.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
