<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 15:18:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 15:18:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا ناپید برآمدی انجن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290884/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں بار بار جنم لینے والے ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کو عموماً ڈالر کی قلت قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ تشخیص مرض کے بجائے اس کی علامت کو مسئلہ سمجھنے کے مترادف ہے۔ ملک کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ صنعتی ترقی کے منصوبوں، محصولات کے ذریعے تحفظ، سبسڈی پر مبنی قرضوں، برآمدی پیکیجز اور بارہا کرنسی کی قدر میں کمی کے چھ دہائیوں سے زائد عرصے کے باوجود پاکستان اب بھی اتنی اشیا اور خدمات پیدا نہیں کر پاتا جنہیں دنیا خریدنا چاہتی ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1960 میں موجودہ پاکستان کی حدود سے اشیا اور خدمات کی برآمدات مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 7.2 فیصد کے برابر تھیں۔ یہ تناسب 1970 میں 7.6 فیصد، 2000 میں 9.6 فیصد اور 2010 میں 12.6 فیصد تک پہنچا، تاہم 2024 میں دوبارہ کم ہو کر تقریباً 10.4 فیصد رہ گیا۔ پاکستان کی معیشت کا حجم برائے نام اعتبار سے کئی گنا بڑھ گیا، لیکن عالمی معیشت کے ساتھ اس کا تعلق حیرت انگیز حد تک کم تبدیل ہوا۔ 1960 کی دہائی کے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود برآمدات اب بھی قومی پیداوار کے صرف تقریباً دسویں حصے کے برابر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کے کامیاب برآمد کنندگان سے تقابل انتہائی واضح فرق سامنے لاتا ہے۔ 2024 میں پاکستان نے تقریباً 38 ارب ڈالر کی اشیا اور خدمات برآمد کیں، جبکہ بنگلہ دیش کی برآمدات 47 ارب ڈالر، ملائیشیا کی 301 ارب ڈالر اور ویتنام کی 429 ارب ڈالر رہیں۔ ملائیشیا کی برآمدات اس کی جی ڈی پی کے 71 فیصد اور ویتنام کی 90 فیصد کے برابر تھیں، جبکہ پاکستان میں یہ تناسب صرف 10 فیصد رہا۔ بنگلہ دیش میں بھی یہ تناسب کم ہو کر تقریباً 10 فیصد رہ گیا تھا، جو اس کی حالیہ معاشی اور بیرونی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے، تاہم وہاں فی کس برآمدات تقریباً 271 ڈالر تھیں، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 154 ڈالر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ممالک نے ترقی کے لیے کوئی ایک فارمولا اختیار نہیں کیا۔ ملائیشیا نے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بروئے کار لاتے ہوئے پینانگ اور دیگر صنعتی مراکز میں الیکٹرانکس اور برقی آلات کی صنعتی کلسٹرز قائم کیے۔ ویتنام نے ڈوئی موئی اصلاحات، عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی رکنیت، وسیع تجارتی معاہدوں اور کثیر القومی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو یکجا کرکے خود کو عالمی صنعتی پیداوار میں ضم کرلیا۔ بنگلہ دیش نے ریڈی میڈ گارمنٹس پر بھرپور توجہ مرکوز کی اور بانڈڈ گوداموں، ڈیوٹی فری درآمدی خام مال، بیک ٹو بیک لیٹرز آف کریڈٹ اور خواتین کی بڑی افرادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے مغربی منڈیوں کا ایک بڑا سپلائر بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ان میں سے کسی بھی حکمت عملی کو مستقل مزاجی سے اختیار نہیں کیا۔ اس نے برآمدات کے فروغ کی کوشش تو کی، لیکن ساتھ ہی ایسا معاشی نظام برقرار رکھا جو ملکی منڈی کو تحفظ فراہم کرنے کے گرد تشکیل دیا گیا تھا۔ نتیجتاً برآمدات پر مبنی معیشت وجود میں نہیں آئی بلکہ ایک ایسی محفوظ معیشت قائم رہی جو اپنے گرد موجود نظام کی رکاوٹوں کے باوجود جو کچھ عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل رہ گیا، وہ برآمد کرتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگی توانائی، ضرورت سے زیادہ قدر والی کرنسی، ناکافی سبسڈی اور عالمی طلب میں کمی کو برآمدات کی کمزوری کی عام وجوہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ عوامل غلط نہیں، لیکن تصویر مکمل نہیں کرتے۔ پاکستان میں برآمدات کا جمود بنیادی طور پر سیاسی معیشت کا مسئلہ ہے۔ ایک کاروبار ٹیکنالوجی، معیار، کارکنوں کی تربیت اور عالمی سطح پر تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے، یا پھر وہ ملکی سطح پر ٹیرف، ٹیکس مراعات، سبسڈی پر مبنی فنانسنگ اور ضابطہ جاتی تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ پہلی حکمت عملی مشکل، غیر یقینی اور وقت طلب ہے، جبکہ دوسری اکثر زیادہ محفوظ اور تیز تر منافع فراہم کرتی ہے۔ کاروباری ادارے عموماً انہی مراعات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں جو انہیں میسر ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحفظی پالیسی صرف مسابقت کو کمزور نہیں کرتی بلکہ برآمد کنندگان کے زیر استعمال درآمدی مشینری، پرزہ جات، کیمیکلز اور ٹیکنالوجی کی لاگت بھی بڑھا دیتی ہے۔ جدید برآمدات کسی نہ کسی حد تک درآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔ ویتنام الیکٹرانکس کی اسمبلنگ کے لیے پرزہ جات درآمد کرتا ہے، بنگلہ دیش مشینری اور ٹیکسٹائل کا خام مال درآمد کرتا ہے، جبکہ ملائیشیا کی کمپنیاں سرحد پار سپلائی چینز کا حصہ بن کر کام کرتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان زرِمبادلہ کی قلت کا جواب بار بار درآمدات محدود کرکے، لیٹرز آف کریڈٹ میں تاخیر کرکے اور اضافی ڈیوٹیز عائد کرکے دیتا ہے۔ یہ اقدامات عارضی طور پر طلب کو تو محدود کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ان کاروباری اداروں کی سپلائی لائنیں بھی بند کردیتے ہیں جن سے ڈالر کمانے کی توقع کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے اس صورت حال کو برآمدات مخالف تعصب قرار دیا ہے۔ پاکستان میں محصولات کا تہہ در تہہ نظام اور تیار شدہ اشیا کو تحفظ دینے کی پالیسی ملکی فروخت کو نسبتاً زیادہ منافع بخش بناتی ہے، غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان کو برآمدی مرکز کے طور پر استعمال کرنے سے روکتی ہے اور برآمدات کو ٹیکسٹائل، چاول اور چند روایتی مصنوعات تک محدود رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکرو اکنامک عدم استحکام اس تعصب کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ حکومتیں وقتاً فوقتاً مصنوعی طور پر مضبوط روپے کی حمایت کرتی رہی ہیں تاکہ درآمدات سستی ہوں اور مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔ نتیجتاً درآمدات بڑھتی ہیں، برآمدات مسابقت کھوتی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں۔ بالآخر ہونے والی اصلاح اچانک قدر میں کمی، بلند شرح سود اور درآمدی پابندیوں کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ برآمد کنندگان کو سستی کرنسی تو مل جاتی ہے، لیکن انہیں خام مال، توانائی اور ورکنگ کیپیٹل تک قابلِ پیش گوئی رسائی حاصل نہیں رہتی۔ کرنسی کی قدر میں کمی سے روپے میں آمدن عارضی طور پر بڑھ سکتی ہے، تاہم اس سے عالمی سطح پر مسابقت کے قابل کاروباری ادارے پیدا نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سرمایہ کاری بھی بہت کم کرتا ہے۔ 2024 میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً جی ڈی پی کے 13 فیصد کے برابر رہی، جبکہ ملائیشیا میں یہ شرح 22 فیصد اور ویتنام اور بنگلہ دیش دونوں میں 30 فیصد سے زیادہ تھی۔ گویا پاکستان ویتنام کی سرمایہ کاری کی شرح کے نصف سے بھی کم سرمایہ کاری کے ساتھ مشرقی ایشیا جیسی برآمدی ترقی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فیکٹریاں، آلات، بندرگاہیں، ٹیسٹنگ لیبارٹریاں، ہنرمندی اور سپلائرز کے نیٹ ورک مسلسل سرمایہ جمع کیے بغیر وجود میں نہیں آسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان برآمدات پر مبنی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بھی خاطر خواہ مقدار میں حاصل نہیں کر سکا۔ 2024 میں خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے صرف تقریباً 0.7 فیصد کے برابر رہی، جبکہ ملائیشیا میں یہ شرح 3.7 فیصد اور ویتنام میں 4.2 فیصد تھی۔ پاکستان میں آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ ملکی منڈی، یقینی منافع والی بنیادی سہولتوں یا قدرتی وسائل کے منصوبوں سے متعلق رہا ہے۔ اس کے برعکس ویتنام نے عالمی مینوفیکچررز کو راغب کیا اور ان کے سپلائر نیٹ ورکس کو اپنی برآمدی مشین کا حصہ بنا دیا۔ اب ویتنام کی برآمدات میں غیر ملکی ملکیت رکھنے والی کمپنیوں کا حصہ تقریباً 73 فیصد ہے۔ اس کے تجارتی معاہدے ایسی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتے ہیں جو عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 90 فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی امداد نے بھی اصلاحات کے لیے دباؤ کم کر دیا۔ جغرافیائی سیاسی مفادات کے تحت ملنے والی امداد، ترسیلاتِ زر، قرضے، دوست ممالک کے ڈپازٹس اور آئی ایم ایف کے بار بار آنے والے پروگراموں نے اس وقت زرِمبادلہ فراہم کیا جب برآمدی ماڈل ناکام رہا۔ یہ رقوم اکثر ناگزیر تھیں، تاہم ان کی بدولت پاکستان اپنی معیشت میں بنیادی تبدیلی لائے بغیر اسے وقتی طور پر مستحکم کرتا رہا۔ ویتنام کو ترقی کے لیے درکار مالی وسائل برآمدات کے ذریعے حاصل کرنا پڑے۔ بنگلہ دیش نے روزگار اور زرِمبادلہ کمانے کے لیے گارمنٹس کے شعبے کو معیشت کا مرکزی ستون بنا دیا، جبکہ پاکستان نے بارہا اگلے بحران تک اصلاحات مؤخر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان کی برآمدی معیشت کا ایک شعبہ اس جال سے نکلنا شروع ہوگیا ہے۔ ریکارڈ شدہ آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات مالی سال 2021 میں تقریباً 2.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2024 میں 3.2 ارب ڈالر، مالی سال 2025 میں 3.8 ارب ڈالر اور مالی سال 2026 میں ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پانچ سال میں اس شعبے کا حجم دوگنے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے اور اس دوران اس کی مرکب سالانہ شرحِ نمو تقریباً 17 فیصد رہی۔ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، فری لانسنگ، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ، کلاؤڈ سروسز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور بیرونِ ملک صارفین کو فاصلاتی بنیادوں پر پیش کی جانے والی پیشہ ورانہ خدمات اب پاکستان کے لیے خدمات کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی کو جزوی طور پر اس لیے کامیابی ملی ہے کہ یہ حقیقی معیشت کی ناکامیوں کو بڑی حد تک نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ سکتی ہے۔ لاہور میں بیٹھے ایک سافٹ ویئر ڈویلپر کو دبئی، لندن یا نیویارک کے کسی صارف کو خدمات فراہم کرنے کے لیے بندرگاہ، صنعتی اسٹیٹ یا درآمد شدہ پیداواری لائن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈیجیٹل برآمدات کے لیے نسبتاً کم طبعی سرمایہ درکار ہوتا ہے اور ان میں ملکی سطح پر قدر میں اضافے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال اس موقع کو مزید وسیع کررہا ہے۔ پاکستانی کمپنیاں خود فرنٹیئر اے آئی ماڈلز کی تیاری کے لیے بھاری سرمایہ کاری کیے بغیر موجودہ عالمی ماڈلز استعمال کرتے ہوئے اے آئی سے لیس بینکاری، صحت، سائبر سکیورٹی، لاجسٹکس اور کاروباری خدمات کے لیے ایپلی کیشنز تیار کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کم طبعی سرمائے کی ضرورت کا مطلب یہ نہیں کہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہی نہیں۔ یہاں درکار سرمائے نے اپنی شکل تبدیل کرلی ہے۔ اس میں جدید مہارتیں، قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام، سائبر سکیورٹی، دانشورانہ ملکیت، انتظامی صلاحیت اور صارفین کے ساتھ مضبوط تعلقات شامل ہیں۔ پاکستان کی آئی ٹی صنعت اب بھی بڑی حد تک فری لانسنگ اور کم سے درمیانی قدر کی آؤٹ سورسنگ تک محدود ہے۔ جنریٹو اے آئی پہلے ہی معمول کے کوڈنگ کے کام، مواد کی تیاری، کال سینٹر کی خدمات اور ڈیٹا انٹری کو خودکار بنا رہی ہے۔ اگر پاکستان سستی افرادی قوت سے آگے بڑھ کر خصوصی مہارت، اے آئی سے تقویت یافتہ خدمات اور اپنی ملکیت کی مصنوعات کی طرف منتقل نہ ہوا تو ٹیکنالوجی اس برتری کے ایک حصے کو متاثر کرسکتی ہے جو اس شعبے نے خود پیدا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر برآمدات کو تیز رفتار ترقی کی راہ پر کیسے ڈالا جائے؟ پاکستان کو پانچ عملی تبدیلیاں درکار ہیں، اور انہیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ پیکیج کے طور پر اعلان کرنے کے بجائے بیک وقت نافذ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، برآمدات مخالف تعصب ختم کرنا ہوگا۔ حقیقی برآمد کنندگان کو تصدیق شدہ درآمدی خام مال ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس پیشگی ادا کیے بغیر منگوانے کی سہولت ہونی چاہیے۔ ٹیکس ریفنڈز سات کاروباری دن کے اندر خودکار طور پر ادا کیے جائیں، جبکہ محفوظ تیار شدہ اشیا پر عائد ٹیرف کو پہلے سے شائع کردہ پانچ سالہ شیڈول کے مطابق بتدریج کم کیا جائے۔ ہر سبسڈی، رعایت اور تحفظی ٹیرف اس وقت تک برقرار نہ رہے جب تک اس سے مستفید ہونے والا ادارہ اضافی برآمدات، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری یا ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بہتری ثابت نہ کرے۔ سرکاری معاونت کا مقصد مستقل مراعات نہیں بلکہ کارکردگی کا حصول ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، پاکستان کو برآمدی مسابقت کے لیے ایک قابلِ اعتبار دس سالہ فریم ورک درکار ہے جس میں شرحِ مبادلہ، ٹیکسوں، توانائی، درآمدات تک رسائی اور زرِمبادلہ کے قواعد شامل ہوں۔ روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے مطابق ہونا چاہیے۔ تصدیق شدہ برآمد کنندگان کو کبھی بھی ملکی سطح پر عائد درآمدی پابندیوں کے باعث پیداواری خام مال سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ ٹیکس اور زرِمبادلہ کے انتظامات ہر بجٹ کے ساتھ تبدیل نہیں ہونے چاہئیں۔ برآمد کنندگان اسی وقت سرمایہ کاری کرتے ہیں جب انہیں پالیسی اور قواعد کے تسلسل کا یقین ہو، نہ کہ اس وقت جب انہیں ایک اور عارضی رعایت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، پاکستان کو ہر قسم کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو یکساں طور پر خوش آئند قرار دینے کے بجائے برآمدات پر مبنی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو ہدف بنانا ہوگا۔ ایک پیشہ ور ٹیم کو الیکٹرانکس، انجینئرنگ، ادویہ سازی، طبی ٹیکنالوجی، زرعی کاروبار اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں تقریباً 100 منتخب عالمی کمپنیوں سے براہِ راست رابطہ کرنا چاہیے۔ سرمایہ کاروں کی آمد سے پہلے برآمدی زونز میں بجلی، پانی، کسٹمز، لیبارٹریاں، ڈیجیٹل رابطہ اور قابلِ نفاذ معاہدوں کا نظام موجود ہونا چاہیے۔ مراعات کا تعلق محض اعلان کردہ سرمایہ کاری سے نہیں بلکہ برآمدات، تربیت، مقامی سپلائرز اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے مشروط ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چہارم، ملک کو ان شعبوں کے گرد محدود تعداد میں برآمدی مشنز منظم کرنے چاہئیں جن میں برآمدی صلاحیت پہلے ہی ثابت ہوچکی ہے۔ ابتدا میں ان میں ویلیو ایڈڈ اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، آئی ٹی، اے آئی اور کاروباری خدمات، پراسیسڈ فوڈ اور زرعی کاروبار، انجینئرنگ مصنوعات، ادویہ اور طبی مصنوعات، جبکہ پاکستان کے روایتی سرجیکل اور کھیلوں کے سامان کے صنعتی کلسٹرز شامل ہوسکتے ہیں۔ ہر مشن کو ہنرمندی اور معیار سے لے کر فنانسنگ، توانائی اور عالمی منڈی تک رسائی سمیت تمام رکاوٹوں کا جامع حل پیش کرنا چاہیے، جبکہ ان کمپنیوں کے لیے معاونت ختم کردی جائے جو مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔ کامیاب فری لانسرز کو کمپنیاں قائم کرنے، ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تخصص اختیار کرنے اور خصوصی شعبوں کی کمپنیوں کو عالمی سطح پر قابلِ توسیع مصنوعات تیار کرنے میں مدد دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجم، پاکستان کو مستقل نیشنل ایکسپورٹ ڈلیوری سسٹم قائم کرنا ہوگا۔ اس وقت ذمہ داریاں وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت، محصولات کے اداروں، اسٹیٹ بینک، توانائی کے اداروں، ریگولیٹرز اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بٹی ہوئی ہیں۔ ایک پیشہ ور ڈلیوری یونٹ کو ایک ہی ایکسپورٹر پورٹل برقرار رکھنا چاہیے، ہر زیرِ التوا معاملہ کسی نامزد افسر کے سپرد کرنا چاہیے، سہ ماہی کارکردگی ڈیش بورڈ شائع کرنا چاہیے اور تنازعات کو نیشنل ایکسپورٹ کونسل تک پہنچانا چاہیے۔ اسے صرف مجموعی برآمدات ہی نہیں بلکہ برآمدات پر مبنی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، نئی مصنوعات اور نئی منڈیوں، فی کارکن برآمدی قدر، سالانہ 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کرنے والی کمپنیوں کی تعداد اور ریفنڈز و منظوریوں میں لگنے والے وقت کو بھی کارکردگی کا پیمانہ بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اشیا اور خدمات کی برآمدات کو موجودہ تقریباً 10 فیصد جی ڈی پی سے بڑھا کر پانچ سال میں کم از کم 20 فیصد اور ایک دہائی میں 30 فیصد تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے ایک ایسا سیاسی معاہدہ ضروری ہے جس کے تحت درآمدی خام مال تک رسائی، مارکیٹ کے مطابق شرحِ مبادلہ، کارکردگی سے منسلک صنعتی پالیسی اور برآمدات کے بنیادی اہداف حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود برقرار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ہر کاروباری شخص کے سامنے موجود حساب کتاب ہی بدلنا ہوگا کہ آیا برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانا زیادہ منافع بخش ہے یا تحفظ، جائیداد اور اثر و رسوخ حاصل کرنا۔ ملائیشیا، ویتنام اور بنگلہ دیش نے اپنے حالات کے مطابق برآمدی انجن تیار کیے۔ پاکستان نے مستقل حوصلہ شکنیوں کے حصار میں عارضی اور وقفے وقفے سے ملنے والی معاونت کا ایک نظام قائم کیا۔ لہٰذا پاکستان کی آئندہ برآمدی حکمت عملی کو ایک ہی سوال کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے: کیا یہ کمپنیوں کو عالمی منڈی میں مسابقت کے ساتھ اپنی مصنوعات فروخت کرنے کا صلہ دیتی ہے یا انہیں ملکی تحفظ کے حصار میں رہنے کا معاوضہ؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک اس سوال کا جواب نہیں بدلتا، پاکستان ڈالر کمانے والی مشین بنانے کے بجائے ڈالر کی قلت کو ہی سنبھالتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں بار بار جنم لینے والے ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کو عموماً ڈالر کی قلت قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ تشخیص مرض کے بجائے اس کی علامت کو مسئلہ سمجھنے کے مترادف ہے۔ ملک کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ صنعتی ترقی کے منصوبوں، محصولات کے ذریعے تحفظ، سبسڈی پر مبنی قرضوں، برآمدی پیکیجز اور بارہا کرنسی کی قدر میں کمی کے چھ دہائیوں سے زائد عرصے کے باوجود پاکستان اب بھی اتنی اشیا اور خدمات پیدا نہیں کر پاتا جنہیں دنیا خریدنا چاہتی ہو۔</strong></p>
<p>1960 میں موجودہ پاکستان کی حدود سے اشیا اور خدمات کی برآمدات مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 7.2 فیصد کے برابر تھیں۔ یہ تناسب 1970 میں 7.6 فیصد، 2000 میں 9.6 فیصد اور 2010 میں 12.6 فیصد تک پہنچا، تاہم 2024 میں دوبارہ کم ہو کر تقریباً 10.4 فیصد رہ گیا۔ پاکستان کی معیشت کا حجم برائے نام اعتبار سے کئی گنا بڑھ گیا، لیکن عالمی معیشت کے ساتھ اس کا تعلق حیرت انگیز حد تک کم تبدیل ہوا۔ 1960 کی دہائی کے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود برآمدات اب بھی قومی پیداوار کے صرف تقریباً دسویں حصے کے برابر ہیں۔</p>
<p>ایشیا کے کامیاب برآمد کنندگان سے تقابل انتہائی واضح فرق سامنے لاتا ہے۔ 2024 میں پاکستان نے تقریباً 38 ارب ڈالر کی اشیا اور خدمات برآمد کیں، جبکہ بنگلہ دیش کی برآمدات 47 ارب ڈالر، ملائیشیا کی 301 ارب ڈالر اور ویتنام کی 429 ارب ڈالر رہیں۔ ملائیشیا کی برآمدات اس کی جی ڈی پی کے 71 فیصد اور ویتنام کی 90 فیصد کے برابر تھیں، جبکہ پاکستان میں یہ تناسب صرف 10 فیصد رہا۔ بنگلہ دیش میں بھی یہ تناسب کم ہو کر تقریباً 10 فیصد رہ گیا تھا، جو اس کی حالیہ معاشی اور بیرونی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے، تاہم وہاں فی کس برآمدات تقریباً 271 ڈالر تھیں، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 154 ڈالر رہیں۔</p>
<p>ان ممالک نے ترقی کے لیے کوئی ایک فارمولا اختیار نہیں کیا۔ ملائیشیا نے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بروئے کار لاتے ہوئے پینانگ اور دیگر صنعتی مراکز میں الیکٹرانکس اور برقی آلات کی صنعتی کلسٹرز قائم کیے۔ ویتنام نے ڈوئی موئی اصلاحات، عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی رکنیت، وسیع تجارتی معاہدوں اور کثیر القومی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو یکجا کرکے خود کو عالمی صنعتی پیداوار میں ضم کرلیا۔ بنگلہ دیش نے ریڈی میڈ گارمنٹس پر بھرپور توجہ مرکوز کی اور بانڈڈ گوداموں، ڈیوٹی فری درآمدی خام مال، بیک ٹو بیک لیٹرز آف کریڈٹ اور خواتین کی بڑی افرادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے مغربی منڈیوں کا ایک بڑا سپلائر بن گیا۔</p>
<p>پاکستان نے ان میں سے کسی بھی حکمت عملی کو مستقل مزاجی سے اختیار نہیں کیا۔ اس نے برآمدات کے فروغ کی کوشش تو کی، لیکن ساتھ ہی ایسا معاشی نظام برقرار رکھا جو ملکی منڈی کو تحفظ فراہم کرنے کے گرد تشکیل دیا گیا تھا۔ نتیجتاً برآمدات پر مبنی معیشت وجود میں نہیں آئی بلکہ ایک ایسی محفوظ معیشت قائم رہی جو اپنے گرد موجود نظام کی رکاوٹوں کے باوجود جو کچھ عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل رہ گیا، وہ برآمد کرتی رہی۔</p>
<p>مہنگی توانائی، ضرورت سے زیادہ قدر والی کرنسی، ناکافی سبسڈی اور عالمی طلب میں کمی کو برآمدات کی کمزوری کی عام وجوہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ عوامل غلط نہیں، لیکن تصویر مکمل نہیں کرتے۔ پاکستان میں برآمدات کا جمود بنیادی طور پر سیاسی معیشت کا مسئلہ ہے۔ ایک کاروبار ٹیکنالوجی، معیار، کارکنوں کی تربیت اور عالمی سطح پر تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے، یا پھر وہ ملکی سطح پر ٹیرف، ٹیکس مراعات، سبسڈی پر مبنی فنانسنگ اور ضابطہ جاتی تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ پہلی حکمت عملی مشکل، غیر یقینی اور وقت طلب ہے، جبکہ دوسری اکثر زیادہ محفوظ اور تیز تر منافع فراہم کرتی ہے۔ کاروباری ادارے عموماً انہی مراعات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں جو انہیں میسر ہوں۔</p>
<p>تحفظی پالیسی صرف مسابقت کو کمزور نہیں کرتی بلکہ برآمد کنندگان کے زیر استعمال درآمدی مشینری، پرزہ جات، کیمیکلز اور ٹیکنالوجی کی لاگت بھی بڑھا دیتی ہے۔ جدید برآمدات کسی نہ کسی حد تک درآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔ ویتنام الیکٹرانکس کی اسمبلنگ کے لیے پرزہ جات درآمد کرتا ہے، بنگلہ دیش مشینری اور ٹیکسٹائل کا خام مال درآمد کرتا ہے، جبکہ ملائیشیا کی کمپنیاں سرحد پار سپلائی چینز کا حصہ بن کر کام کرتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان زرِمبادلہ کی قلت کا جواب بار بار درآمدات محدود کرکے، لیٹرز آف کریڈٹ میں تاخیر کرکے اور اضافی ڈیوٹیز عائد کرکے دیتا ہے۔ یہ اقدامات عارضی طور پر طلب کو تو محدود کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ان کاروباری اداروں کی سپلائی لائنیں بھی بند کردیتے ہیں جن سے ڈالر کمانے کی توقع کی جاتی ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے اس صورت حال کو برآمدات مخالف تعصب قرار دیا ہے۔ پاکستان میں محصولات کا تہہ در تہہ نظام اور تیار شدہ اشیا کو تحفظ دینے کی پالیسی ملکی فروخت کو نسبتاً زیادہ منافع بخش بناتی ہے، غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان کو برآمدی مرکز کے طور پر استعمال کرنے سے روکتی ہے اور برآمدات کو ٹیکسٹائل، چاول اور چند روایتی مصنوعات تک محدود رکھتی ہے۔</p>
<p>میکرو اکنامک عدم استحکام اس تعصب کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ حکومتیں وقتاً فوقتاً مصنوعی طور پر مضبوط روپے کی حمایت کرتی رہی ہیں تاکہ درآمدات سستی ہوں اور مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔ نتیجتاً درآمدات بڑھتی ہیں، برآمدات مسابقت کھوتی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں۔ بالآخر ہونے والی اصلاح اچانک قدر میں کمی، بلند شرح سود اور درآمدی پابندیوں کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ برآمد کنندگان کو سستی کرنسی تو مل جاتی ہے، لیکن انہیں خام مال، توانائی اور ورکنگ کیپیٹل تک قابلِ پیش گوئی رسائی حاصل نہیں رہتی۔ کرنسی کی قدر میں کمی سے روپے میں آمدن عارضی طور پر بڑھ سکتی ہے، تاہم اس سے عالمی سطح پر مسابقت کے قابل کاروباری ادارے پیدا نہیں ہوتے۔</p>
<p>پاکستان سرمایہ کاری بھی بہت کم کرتا ہے۔ 2024 میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً جی ڈی پی کے 13 فیصد کے برابر رہی، جبکہ ملائیشیا میں یہ شرح 22 فیصد اور ویتنام اور بنگلہ دیش دونوں میں 30 فیصد سے زیادہ تھی۔ گویا پاکستان ویتنام کی سرمایہ کاری کی شرح کے نصف سے بھی کم سرمایہ کاری کے ساتھ مشرقی ایشیا جیسی برآمدی ترقی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فیکٹریاں، آلات، بندرگاہیں، ٹیسٹنگ لیبارٹریاں، ہنرمندی اور سپلائرز کے نیٹ ورک مسلسل سرمایہ جمع کیے بغیر وجود میں نہیں آسکتے۔</p>
<p>پاکستان برآمدات پر مبنی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بھی خاطر خواہ مقدار میں حاصل نہیں کر سکا۔ 2024 میں خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے صرف تقریباً 0.7 فیصد کے برابر رہی، جبکہ ملائیشیا میں یہ شرح 3.7 فیصد اور ویتنام میں 4.2 فیصد تھی۔ پاکستان میں آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ ملکی منڈی، یقینی منافع والی بنیادی سہولتوں یا قدرتی وسائل کے منصوبوں سے متعلق رہا ہے۔ اس کے برعکس ویتنام نے عالمی مینوفیکچررز کو راغب کیا اور ان کے سپلائر نیٹ ورکس کو اپنی برآمدی مشین کا حصہ بنا دیا۔ اب ویتنام کی برآمدات میں غیر ملکی ملکیت رکھنے والی کمپنیوں کا حصہ تقریباً 73 فیصد ہے۔ اس کے تجارتی معاہدے ایسی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتے ہیں جو عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 90 فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں۔</p>
<p>بیرونی امداد نے بھی اصلاحات کے لیے دباؤ کم کر دیا۔ جغرافیائی سیاسی مفادات کے تحت ملنے والی امداد، ترسیلاتِ زر، قرضے، دوست ممالک کے ڈپازٹس اور آئی ایم ایف کے بار بار آنے والے پروگراموں نے اس وقت زرِمبادلہ فراہم کیا جب برآمدی ماڈل ناکام رہا۔ یہ رقوم اکثر ناگزیر تھیں، تاہم ان کی بدولت پاکستان اپنی معیشت میں بنیادی تبدیلی لائے بغیر اسے وقتی طور پر مستحکم کرتا رہا۔ ویتنام کو ترقی کے لیے درکار مالی وسائل برآمدات کے ذریعے حاصل کرنا پڑے۔ بنگلہ دیش نے روزگار اور زرِمبادلہ کمانے کے لیے گارمنٹس کے شعبے کو معیشت کا مرکزی ستون بنا دیا، جبکہ پاکستان نے بارہا اگلے بحران تک اصلاحات مؤخر کیں۔</p>
<p>تاہم پاکستان کی برآمدی معیشت کا ایک شعبہ اس جال سے نکلنا شروع ہوگیا ہے۔ ریکارڈ شدہ آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات مالی سال 2021 میں تقریباً 2.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2024 میں 3.2 ارب ڈالر، مالی سال 2025 میں 3.8 ارب ڈالر اور مالی سال 2026 میں ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پانچ سال میں اس شعبے کا حجم دوگنے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے اور اس دوران اس کی مرکب سالانہ شرحِ نمو تقریباً 17 فیصد رہی۔ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، فری لانسنگ، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ، کلاؤڈ سروسز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور بیرونِ ملک صارفین کو فاصلاتی بنیادوں پر پیش کی جانے والی پیشہ ورانہ خدمات اب پاکستان کے لیے خدمات کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں۔</p>
<p>آئی ٹی کو جزوی طور پر اس لیے کامیابی ملی ہے کہ یہ حقیقی معیشت کی ناکامیوں کو بڑی حد تک نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ سکتی ہے۔ لاہور میں بیٹھے ایک سافٹ ویئر ڈویلپر کو دبئی، لندن یا نیویارک کے کسی صارف کو خدمات فراہم کرنے کے لیے بندرگاہ، صنعتی اسٹیٹ یا درآمد شدہ پیداواری لائن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈیجیٹل برآمدات کے لیے نسبتاً کم طبعی سرمایہ درکار ہوتا ہے اور ان میں ملکی سطح پر قدر میں اضافے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال اس موقع کو مزید وسیع کررہا ہے۔ پاکستانی کمپنیاں خود فرنٹیئر اے آئی ماڈلز کی تیاری کے لیے بھاری سرمایہ کاری کیے بغیر موجودہ عالمی ماڈلز استعمال کرتے ہوئے اے آئی سے لیس بینکاری، صحت، سائبر سکیورٹی، لاجسٹکس اور کاروباری خدمات کے لیے ایپلی کیشنز تیار کرسکتی ہیں۔</p>
<p>لیکن کم طبعی سرمائے کی ضرورت کا مطلب یہ نہیں کہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہی نہیں۔ یہاں درکار سرمائے نے اپنی شکل تبدیل کرلی ہے۔ اس میں جدید مہارتیں، قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام، سائبر سکیورٹی، دانشورانہ ملکیت، انتظامی صلاحیت اور صارفین کے ساتھ مضبوط تعلقات شامل ہیں۔ پاکستان کی آئی ٹی صنعت اب بھی بڑی حد تک فری لانسنگ اور کم سے درمیانی قدر کی آؤٹ سورسنگ تک محدود ہے۔ جنریٹو اے آئی پہلے ہی معمول کے کوڈنگ کے کام، مواد کی تیاری، کال سینٹر کی خدمات اور ڈیٹا انٹری کو خودکار بنا رہی ہے۔ اگر پاکستان سستی افرادی قوت سے آگے بڑھ کر خصوصی مہارت، اے آئی سے تقویت یافتہ خدمات اور اپنی ملکیت کی مصنوعات کی طرف منتقل نہ ہوا تو ٹیکنالوجی اس برتری کے ایک حصے کو متاثر کرسکتی ہے جو اس شعبے نے خود پیدا کی ہے۔</p>
<p>تو پھر برآمدات کو تیز رفتار ترقی کی راہ پر کیسے ڈالا جائے؟ پاکستان کو پانچ عملی تبدیلیاں درکار ہیں، اور انہیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ پیکیج کے طور پر اعلان کرنے کے بجائے بیک وقت نافذ کرنا ہوگا۔</p>
<p>اول، برآمدات مخالف تعصب ختم کرنا ہوگا۔ حقیقی برآمد کنندگان کو تصدیق شدہ درآمدی خام مال ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس پیشگی ادا کیے بغیر منگوانے کی سہولت ہونی چاہیے۔ ٹیکس ریفنڈز سات کاروباری دن کے اندر خودکار طور پر ادا کیے جائیں، جبکہ محفوظ تیار شدہ اشیا پر عائد ٹیرف کو پہلے سے شائع کردہ پانچ سالہ شیڈول کے مطابق بتدریج کم کیا جائے۔ ہر سبسڈی، رعایت اور تحفظی ٹیرف اس وقت تک برقرار نہ رہے جب تک اس سے مستفید ہونے والا ادارہ اضافی برآمدات، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری یا ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بہتری ثابت نہ کرے۔ سرکاری معاونت کا مقصد مستقل مراعات نہیں بلکہ کارکردگی کا حصول ہونا چاہیے۔</p>
<p>دوم، پاکستان کو برآمدی مسابقت کے لیے ایک قابلِ اعتبار دس سالہ فریم ورک درکار ہے جس میں شرحِ مبادلہ، ٹیکسوں، توانائی، درآمدات تک رسائی اور زرِمبادلہ کے قواعد شامل ہوں۔ روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے مطابق ہونا چاہیے۔ تصدیق شدہ برآمد کنندگان کو کبھی بھی ملکی سطح پر عائد درآمدی پابندیوں کے باعث پیداواری خام مال سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ ٹیکس اور زرِمبادلہ کے انتظامات ہر بجٹ کے ساتھ تبدیل نہیں ہونے چاہئیں۔ برآمد کنندگان اسی وقت سرمایہ کاری کرتے ہیں جب انہیں پالیسی اور قواعد کے تسلسل کا یقین ہو، نہ کہ اس وقت جب انہیں ایک اور عارضی رعایت دی جائے۔</p>
<p>سوم، پاکستان کو ہر قسم کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو یکساں طور پر خوش آئند قرار دینے کے بجائے برآمدات پر مبنی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو ہدف بنانا ہوگا۔ ایک پیشہ ور ٹیم کو الیکٹرانکس، انجینئرنگ، ادویہ سازی، طبی ٹیکنالوجی، زرعی کاروبار اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں تقریباً 100 منتخب عالمی کمپنیوں سے براہِ راست رابطہ کرنا چاہیے۔ سرمایہ کاروں کی آمد سے پہلے برآمدی زونز میں بجلی، پانی، کسٹمز، لیبارٹریاں، ڈیجیٹل رابطہ اور قابلِ نفاذ معاہدوں کا نظام موجود ہونا چاہیے۔ مراعات کا تعلق محض اعلان کردہ سرمایہ کاری سے نہیں بلکہ برآمدات، تربیت، مقامی سپلائرز اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے مشروط ہونا چاہیے۔</p>
<p>چہارم، ملک کو ان شعبوں کے گرد محدود تعداد میں برآمدی مشنز منظم کرنے چاہئیں جن میں برآمدی صلاحیت پہلے ہی ثابت ہوچکی ہے۔ ابتدا میں ان میں ویلیو ایڈڈ اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، آئی ٹی، اے آئی اور کاروباری خدمات، پراسیسڈ فوڈ اور زرعی کاروبار، انجینئرنگ مصنوعات، ادویہ اور طبی مصنوعات، جبکہ پاکستان کے روایتی سرجیکل اور کھیلوں کے سامان کے صنعتی کلسٹرز شامل ہوسکتے ہیں۔ ہر مشن کو ہنرمندی اور معیار سے لے کر فنانسنگ، توانائی اور عالمی منڈی تک رسائی سمیت تمام رکاوٹوں کا جامع حل پیش کرنا چاہیے، جبکہ ان کمپنیوں کے لیے معاونت ختم کردی جائے جو مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔ کامیاب فری لانسرز کو کمپنیاں قائم کرنے، ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تخصص اختیار کرنے اور خصوصی شعبوں کی کمپنیوں کو عالمی سطح پر قابلِ توسیع مصنوعات تیار کرنے میں مدد دی جانی چاہیے۔</p>
<p>پنجم، پاکستان کو مستقل نیشنل ایکسپورٹ ڈلیوری سسٹم قائم کرنا ہوگا۔ اس وقت ذمہ داریاں وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت، محصولات کے اداروں، اسٹیٹ بینک، توانائی کے اداروں، ریگولیٹرز اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بٹی ہوئی ہیں۔ ایک پیشہ ور ڈلیوری یونٹ کو ایک ہی ایکسپورٹر پورٹل برقرار رکھنا چاہیے، ہر زیرِ التوا معاملہ کسی نامزد افسر کے سپرد کرنا چاہیے، سہ ماہی کارکردگی ڈیش بورڈ شائع کرنا چاہیے اور تنازعات کو نیشنل ایکسپورٹ کونسل تک پہنچانا چاہیے۔ اسے صرف مجموعی برآمدات ہی نہیں بلکہ برآمدات پر مبنی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، نئی مصنوعات اور نئی منڈیوں، فی کارکن برآمدی قدر، سالانہ 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کرنے والی کمپنیوں کی تعداد اور ریفنڈز و منظوریوں میں لگنے والے وقت کو بھی کارکردگی کا پیمانہ بنانا چاہیے۔</p>
<p>ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اشیا اور خدمات کی برآمدات کو موجودہ تقریباً 10 فیصد جی ڈی پی سے بڑھا کر پانچ سال میں کم از کم 20 فیصد اور ایک دہائی میں 30 فیصد تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے ایک ایسا سیاسی معاہدہ ضروری ہے جس کے تحت درآمدی خام مال تک رسائی، مارکیٹ کے مطابق شرحِ مبادلہ، کارکردگی سے منسلک صنعتی پالیسی اور برآمدات کے بنیادی اہداف حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود برقرار رہیں۔</p>
<p>پاکستان کو ہر کاروباری شخص کے سامنے موجود حساب کتاب ہی بدلنا ہوگا کہ آیا برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانا زیادہ منافع بخش ہے یا تحفظ، جائیداد اور اثر و رسوخ حاصل کرنا۔ ملائیشیا، ویتنام اور بنگلہ دیش نے اپنے حالات کے مطابق برآمدی انجن تیار کیے۔ پاکستان نے مستقل حوصلہ شکنیوں کے حصار میں عارضی اور وقفے وقفے سے ملنے والی معاونت کا ایک نظام قائم کیا۔ لہٰذا پاکستان کی آئندہ برآمدی حکمت عملی کو ایک ہی سوال کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے: کیا یہ کمپنیوں کو عالمی منڈی میں مسابقت کے ساتھ اپنی مصنوعات فروخت کرنے کا صلہ دیتی ہے یا انہیں ملکی تحفظ کے حصار میں رہنے کا معاوضہ؟</p>
<p>جب تک اس سوال کا جواب نہیں بدلتا، پاکستان ڈالر کمانے والی مشین بنانے کے بجائے ڈالر کی قلت کو ہی سنبھالتا رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290884</guid>
      <pubDate>Sat, 05 Sep 2026 16:33:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اظہر عزیز ڈوگر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/05162639bdb6ac0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/05162639bdb6ac0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
