<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:44:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:44:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ولیمز سسٹرز کی یو ایس اوپن میں واپسی پہلے ہی راؤنڈ میں شکست کے باوجود جشن بن گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290882/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چار سال قبل ایسا محسوس ہونے کے بعد کہ شاید یہ ان کی آخری بار کورٹ میں آمد تھی، سرینا اور وینس ولیمز نے جمعے کو آرتھر ایش اسٹیڈیم میں 23 ہزار پُرجوش شائقین کے سامنے یو ایس اوپن کے ڈبلز کے پہلے راؤنڈ میں شکست کو بھی ٹینس کے جشن میں بدل دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ اور تائیوان کی چان ہاؤ چنگ نے 6-3، 6-7(6)، 7-6(10-7) سے کامیابی حاصل کی، تاہم میچ کے بیشتر حصے میں اسکور ثانوی حیثیت اختیار کر گیا تھا، کیونکہ شائقین ولیمز بہنوں کے ہر کامیاب شاٹ پر جوش و خروش سے گونج اٹھتے، جبکہ درمیان کے تقریباً ہر پوائنٹ پر اسٹیڈیم پر مکمل خاموشی چھا جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;44 سالہ سرینا ولیمز چمک دار، اپنی مرضی کے مطابق تیار کردہ بمبر جیکٹ پہن کر کورٹ میں اتریں، جس پر ایسے پیچز لگے تھے جو یو ایس اوپن کے سنگلز اور ڈبلز مقابلوں میں ان کی کامیابیوں کی یاد دلاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی 46 سالہ بہن وینس ان کے پہلو میں موجود تھیں اور دونوں بہنوں کے ہاتھوں میں ایک جیسے گلابی بیگ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرینا کے مطابق یہ واپسی ان کی بیٹی کے مشورے پر ہوئی، جس نے دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کامیابیوں کی یاد تازہ کردی۔ دونوں بہنوں نے مل کر 14 گرینڈ سلیم ڈبلز ٹائٹل، دو یو ایس اوپن ٹائٹل اور تین اولمپک طلائی تمغے جیتے، جبکہ سنگلز میں دونوں کے حصے میں مجموعی طور پر مزید 30 گرینڈ سلیم ٹائٹل آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14ویں سیڈ جوڑی جوائنٹ اور چان نے میچ کے ابتدائی سیٹ میں تماشائیوں کے شدید جوش و خروش کے باوجود دباؤ برداشت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی، تاہم ولیمز بہنوں نے دوسرے سیٹ میں بھرپور جواب دیا اور شائقین کے جوش سے توانائی حاصل کرتے ہوئے مقابلہ تیسرے سیٹ تک پہنچا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی بہنوں نے ثابت کیا کہ ان کا جوش و عزم اب بھی برقرار ہے۔ انہوں نے کم عمر حریف جوڑی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جبکہ جوشیلے شائقین مسلسل ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور پوری شدت سے چاہتے تھے کہ ان کی دیرینہ پسندیدہ کھلاڑی فتح کی منزل تک پہنچیں۔ تاہم جوائنٹ اور چان نے ڈرامائی انداز میں فیصلہ کن سپر ٹائی بریک جیت کر تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے میچ میں کامیابی اپنے نام کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوائنٹ نے کورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ایسی لیجنڈ کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملنا میرے لیے بہت خاص ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جوڑی کا دوبارہ اکٹھا ہونا ایک طویل انتظار کے بعد ممکن ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرینا کے سنگلز مقابلے میں گھٹنے کی انجری کا شکار ہونے کے بعد ولیمز بہنوں کو ومبلڈن کے ڈبلز مقابلے سے دستبردار ہونا پڑا تھا، یوں نیویارک میں ہونے والا یو ایس اوپن ہی اس واپسی کا میدان بنا جس کا شائقین بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 سالہ جوائنٹ نے ومبلڈن میں سرینا کو ان کی واپسی کے دوران واحد سنگلز مقابلے میں شکست دی تھی، اور اس کے بعد آسٹریلوی کھلاڑی کے لیے فلشنگ میڈوز میں ملنے والے تجربے کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’میں اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ڈھونڈ پا رہی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’وہ میری آئیڈیل ہیں، دونوں بہنیں۔ میں مشی گن میں پلی بڑھی ہوں، اس لیے ہمیشہ انہیں اپنا آئیڈیل سمجھا۔ ان دونوں کے خلاف دو مرتبہ کھیلنے کا موقع ملنا ناقابلِ یقین ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولیمز بہنیں فلشنگ میڈوز پہنچنے سے قبل ڈبلز میں زیادہ حالیہ فارم میں نہیں تھیں۔ اس سے پہلے سنسناٹی میں انہیں مارٹا کوسٹیوک اور پیٹن اسٹیئرنز کے ہاتھوں تین سیٹوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سرینا نیویارک کو پہلے ہی اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھا چکی تھیں، جہاں انہوں نے کارلوس الکاراز کے ساتھ مکسڈ ڈبلز میں شرکت کی اور کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ واضح نہیں کہ ولیمز بہنیں دوبارہ ایک ساتھ کھیلیں گی یا نہیں، لیکن جمعے کو فلشنگ میڈوز میں شائقین کے لیے سرینا کا مکا بھینچ کر جشن منانا اور ان کے ساتھ وینس کا موجود ہونا ایک ایسی یادگار رات بن گیا جسے وہ مدتوں نہیں بھولیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چار سال قبل ایسا محسوس ہونے کے بعد کہ شاید یہ ان کی آخری بار کورٹ میں آمد تھی، سرینا اور وینس ولیمز نے جمعے کو آرتھر ایش اسٹیڈیم میں 23 ہزار پُرجوش شائقین کے سامنے یو ایس اوپن کے ڈبلز کے پہلے راؤنڈ میں شکست کو بھی ٹینس کے جشن میں بدل دیا۔</strong></p>
<p>آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ اور تائیوان کی چان ہاؤ چنگ نے 6-3، 6-7(6)، 7-6(10-7) سے کامیابی حاصل کی، تاہم میچ کے بیشتر حصے میں اسکور ثانوی حیثیت اختیار کر گیا تھا، کیونکہ شائقین ولیمز بہنوں کے ہر کامیاب شاٹ پر جوش و خروش سے گونج اٹھتے، جبکہ درمیان کے تقریباً ہر پوائنٹ پر اسٹیڈیم پر مکمل خاموشی چھا جاتی۔</p>
<p>44 سالہ سرینا ولیمز چمک دار، اپنی مرضی کے مطابق تیار کردہ بمبر جیکٹ پہن کر کورٹ میں اتریں، جس پر ایسے پیچز لگے تھے جو یو ایس اوپن کے سنگلز اور ڈبلز مقابلوں میں ان کی کامیابیوں کی یاد دلاتے تھے۔</p>
<p>ان کی 46 سالہ بہن وینس ان کے پہلو میں موجود تھیں اور دونوں بہنوں کے ہاتھوں میں ایک جیسے گلابی بیگ تھے۔</p>
<p>سرینا کے مطابق یہ واپسی ان کی بیٹی کے مشورے پر ہوئی، جس نے دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کامیابیوں کی یاد تازہ کردی۔ دونوں بہنوں نے مل کر 14 گرینڈ سلیم ڈبلز ٹائٹل، دو یو ایس اوپن ٹائٹل اور تین اولمپک طلائی تمغے جیتے، جبکہ سنگلز میں دونوں کے حصے میں مجموعی طور پر مزید 30 گرینڈ سلیم ٹائٹل آئے۔</p>
<p>14ویں سیڈ جوڑی جوائنٹ اور چان نے میچ کے ابتدائی سیٹ میں تماشائیوں کے شدید جوش و خروش کے باوجود دباؤ برداشت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی، تاہم ولیمز بہنوں نے دوسرے سیٹ میں بھرپور جواب دیا اور شائقین کے جوش سے توانائی حاصل کرتے ہوئے مقابلہ تیسرے سیٹ تک پہنچا دیا۔</p>
<p>امریکی بہنوں نے ثابت کیا کہ ان کا جوش و عزم اب بھی برقرار ہے۔ انہوں نے کم عمر حریف جوڑی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جبکہ جوشیلے شائقین مسلسل ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور پوری شدت سے چاہتے تھے کہ ان کی دیرینہ پسندیدہ کھلاڑی فتح کی منزل تک پہنچیں۔ تاہم جوائنٹ اور چان نے ڈرامائی انداز میں فیصلہ کن سپر ٹائی بریک جیت کر تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے میچ میں کامیابی اپنے نام کرلی۔</p>
<p>جوائنٹ نے کورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ایسی لیجنڈ کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملنا میرے لیے بہت خاص ہے۔‘‘</p>
<p>اس جوڑی کا دوبارہ اکٹھا ہونا ایک طویل انتظار کے بعد ممکن ہوا تھا۔</p>
<p>سرینا کے سنگلز مقابلے میں گھٹنے کی انجری کا شکار ہونے کے بعد ولیمز بہنوں کو ومبلڈن کے ڈبلز مقابلے سے دستبردار ہونا پڑا تھا، یوں نیویارک میں ہونے والا یو ایس اوپن ہی اس واپسی کا میدان بنا جس کا شائقین بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔</p>
<p>20 سالہ جوائنٹ نے ومبلڈن میں سرینا کو ان کی واپسی کے دوران واحد سنگلز مقابلے میں شکست دی تھی، اور اس کے بعد آسٹریلوی کھلاڑی کے لیے فلشنگ میڈوز میں ملنے والے تجربے کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوگیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’میں اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ڈھونڈ پا رہی۔‘‘</p>
<p>’’وہ میری آئیڈیل ہیں، دونوں بہنیں۔ میں مشی گن میں پلی بڑھی ہوں، اس لیے ہمیشہ انہیں اپنا آئیڈیل سمجھا۔ ان دونوں کے خلاف دو مرتبہ کھیلنے کا موقع ملنا ناقابلِ یقین ہے۔‘‘</p>
<p>ولیمز بہنیں فلشنگ میڈوز پہنچنے سے قبل ڈبلز میں زیادہ حالیہ فارم میں نہیں تھیں۔ اس سے پہلے سنسناٹی میں انہیں مارٹا کوسٹیوک اور پیٹن اسٹیئرنز کے ہاتھوں تین سیٹوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p>تاہم سرینا نیویارک کو پہلے ہی اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھا چکی تھیں، جہاں انہوں نے کارلوس الکاراز کے ساتھ مکسڈ ڈبلز میں شرکت کی اور کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی۔</p>
<p>اب یہ واضح نہیں کہ ولیمز بہنیں دوبارہ ایک ساتھ کھیلیں گی یا نہیں، لیکن جمعے کو فلشنگ میڈوز میں شائقین کے لیے سرینا کا مکا بھینچ کر جشن منانا اور ان کے ساتھ وینس کا موجود ہونا ایک ایسی یادگار رات بن گیا جسے وہ مدتوں نہیں بھولیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290882</guid>
      <pubDate>Sat, 05 Sep 2026 16:03:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/05155453bdb46c1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/05155453bdb46c1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
