<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور ڈویژن نے نیٹ میٹرنگ کے 11,695 زیرِ التوا کیسز نمٹا دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290873/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن  نے ہفتے کو اعلان کیا کہ نیٹ میٹرنگ کے 11,695 زیرِ التوا کیسز نمٹا دیے گئے ہیں اور متاثرہ صارفین سے براہِ راست رابطے کا عمل باضابطہ شروع کردیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق یہ کیسز وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی خصوصی ہدایات پر حل کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر اہل صارف کو قواعد و ضوابط کے مطابق اس کا جائز حق ملے اور اسے اپنی درخواست مکمل کرانے کے لیے کسی تیسرے فریق، ایجنٹ یا ثالث پر انحصار نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ نظام میں منتقلی کے مرحلے کے دوران مجموعی طور پر 16,654 درخواستیں زیرِ التوا تھیں جس کے بعد تمام کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے جامع تصدیق اور جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) نے صارفین سے براہِ راست رابطہ شروع کردیا تاکہ انہیں ان کی درخواستوں کی تصدیق اور آئندہ کے مراحل سے متعلق بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جاسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی ٹی سی متعلقہ صارفین سے براہِ راست ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رابطہ کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ درخواستوں کی فوری یا مزید کارروائی کے لیے کسی بھی فرد کو کوئی فیس یا رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں پاور ڈویژن نے بتایا کہ باقی 4,959 درخواستوں کی تصدیق اور جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح جائز عوامی شکایات کو غیر ضروری تاخیر یا مداخلت کے بغیر حل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ باقی زیرِ التوا درخواستوں کی جانچ پڑتال کا عمل تیز کیا جائے اور ہر صارف کو اس کے کیس سے متعلق واضح اور شفاف معلومات فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن  نے ہفتے کو اعلان کیا کہ نیٹ میٹرنگ کے 11,695 زیرِ التوا کیسز نمٹا دیے گئے ہیں اور متاثرہ صارفین سے براہِ راست رابطے کا عمل باضابطہ شروع کردیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق یہ کیسز وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی خصوصی ہدایات پر حل کیے گئے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر اہل صارف کو قواعد و ضوابط کے مطابق اس کا جائز حق ملے اور اسے اپنی درخواست مکمل کرانے کے لیے کسی تیسرے فریق، ایجنٹ یا ثالث پر انحصار نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ نظام میں منتقلی کے مرحلے کے دوران مجموعی طور پر 16,654 درخواستیں زیرِ التوا تھیں جس کے بعد تمام کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے جامع تصدیق اور جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا گیا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) نے صارفین سے براہِ راست رابطہ شروع کردیا تاکہ انہیں ان کی درخواستوں کی تصدیق اور آئندہ کے مراحل سے متعلق بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جاسکیں۔</p>
<p>پی آئی ٹی سی متعلقہ صارفین سے براہِ راست ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رابطہ کررہی ہے۔</p>
<p>صارفین کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ درخواستوں کی فوری یا مزید کارروائی کے لیے کسی بھی فرد کو کوئی فیس یا رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>مزید برآں پاور ڈویژن نے بتایا کہ باقی 4,959 درخواستوں کی تصدیق اور جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔</p>
<p>اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح جائز عوامی شکایات کو غیر ضروری تاخیر یا مداخلت کے بغیر حل کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ باقی زیرِ التوا درخواستوں کی جانچ پڑتال کا عمل تیز کیا جائے اور ہر صارف کو اس کے کیس سے متعلق واضح اور شفاف معلومات فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290873</guid>
      <pubDate>Sat, 05 Sep 2026 14:12:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/051354313ea33eb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/051354313ea33eb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
