<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی پی پیز اور نجکاری کے ذریعے نجی سرمایہ متحرک کرنے کے عزم کا اعادہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290849/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے جمعہ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) اور نجکاری کے ذریعے ملکی معیشت میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور دونوں کو اقتصادی ترقی اور معاشی تبدیلی کے اہم ذرائع قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عزم کا اعادہ اسلام آباد میں منعقدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور نجکاری پر قومی اسٹریٹجک ڈائیلاگ اور پی پی پی مانیٹر کی رونمائی کی تقریب کے دوران کیا گیا جس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، اے ڈی بی کے نائب صدر ینگ منگ یانگ، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام، ترقیاتی شراکت داروں، مالی اداروں اور نجی شعبے و سرمایہ کاری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی توجہ ایسا ماحول پیدا کرنے پر مرکوز ہے جو نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے، کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے اور معاشی ترقی میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو ممکن بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے اگلے مرحلے کی قیادت نجی شعبے کو کرنی چاہیے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) اور نجکاری سرمایہ کاری لانے، کارکردگی بہتر بنانے اور نجی شعبے کی شمولیت کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہماری توجہ سرمایہ کاری کے قابل مواقع کی مضبوط فہرست تیار کرنے اور ان مواقع کو حقیقی سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ پاکستان کی مستقبل کی انفرااسٹرکچر اور ترقیاتی ضروریات صرف سرکاری اخراجات سے پوری نہیں کی جاسکتیں، اس لیے انفرااسٹرکچر اور معاشی اثاثوں کی مالی معاونت، تعمیر اور انتظام میں نجی شعبے کو کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) اور نجکاری ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ معاون حکمتِ عملیاں ہیں۔ پی پی پیز کے ذریعے انفرااسٹرکچر اور عوامی خدمات کے شعبوں میں نجی سرمایہ اور مہارت لائی جاسکتی ہے جبکہ نجکاری کے ذریعے ایسے تجارتی اداروں میں نجی ملکیت یا انتظام متعارف کرایا جاسکتا ہے جہاں اس سے کارکردگی، سرمایہ کاری اور خدمات کی فراہمی بہتر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیر نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز)، نجکاری اور اثاثوں سے مالی فوائد حاصل کرنے کے عمل کو مختلف ذرائع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ ان شعبوں میں نجی سرمایہ، انتظامی صلاحیت، ٹیکنالوجی اور جوابدہی لائی جاسکے جہاں سرکاری شعبہ تنہا تمام ذمہ داریاں انجام نہیں دے سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں  نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی معاشی ترقی کی باگ ڈور نجی شعبے کے حوالے کرنا شروع کردی ہے۔ ہمیں اسی راستے پر آگے بڑھتے ہوئے نجکاری کے ایجنڈے کو مکمل کرنا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) کے منصوبوں میں نمایاں اضافہ کرنا اور منصوبوں کی تکمیل شروع کرنا ہوگی تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ حکومت اپنے عزم پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے لیے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے نجی شعبے کی شمولیت مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور بڑے پیمانے پر نجی شعبے کی شرکت کے فروغ کے لیے دیرینہ تعاون جاری رکھنے کے اے ڈی بی کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے نائب صدر نے کہا کہ نجی سرمایہ اور مہارت کو متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بہتر انداز میں تشکیل دی گئی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) محدود سرکاری وسائل کا متبادل بن سکتی ہیں، نجی شعبے کی کارکردگی سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، منصوبوں کی پوری مدت کے دوران دیکھ بھال کو یقینی بنا سکتی ہیں اور شہریوں کے لیے خدمات کو بہتر بناسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں پی پی پیز کے حوالے سے ایک مضبوط ریکارڈ موجود ہے۔ پاکستان پی پی پی مانیٹر کے مطابق 1990 کی دہائی سے اب تک ملک میں 154 پی پی پی منصوبے مالی اختتام تک پہنچ چکے ہیں جن میں تقریباً 36 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی سطح پر پی پی پی منصوبوں کی موجودہ پائپ لائن میں 38 منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی متوقع مالیت تقریباً 6.5 ارب ڈالر ہے۔ ان منصوبوں میں سڑکوں، ریلوے، ہوا بازی، صحت اور صنعتی انفرااسٹرکچر سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت 27 لین دین پر مشتمل نجکاری پروگرام پر بھی پیش رفت کررہی ہے جس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، بڑے ہوائی اڈے، انشورنس کمپنیاں اور خصوصی بینک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک، کامیاب تجربات کے مضبوط ریکارڈ اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کے ساتھ ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ توجہ ان مواقع کو کامیاب لین دین میں تبدیل کرنے، نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے پر مرکوز ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے جمعہ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) اور نجکاری کے ذریعے ملکی معیشت میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور دونوں کو اقتصادی ترقی اور معاشی تبدیلی کے اہم ذرائع قرار دیا۔</strong></p>
<p>اس عزم کا اعادہ اسلام آباد میں منعقدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور نجکاری پر قومی اسٹریٹجک ڈائیلاگ اور پی پی پی مانیٹر کی رونمائی کی تقریب کے دوران کیا گیا جس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، اے ڈی بی کے نائب صدر ینگ منگ یانگ، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام، ترقیاتی شراکت داروں، مالی اداروں اور نجی شعبے و سرمایہ کاری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔</p>
<p>تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی توجہ ایسا ماحول پیدا کرنے پر مرکوز ہے جو نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے، کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے اور معاشی ترقی میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو ممکن بنائے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے اگلے مرحلے کی قیادت نجی شعبے کو کرنی چاہیے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) اور نجکاری سرمایہ کاری لانے، کارکردگی بہتر بنانے اور نجی شعبے کی شمولیت کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہماری توجہ سرمایہ کاری کے قابل مواقع کی مضبوط فہرست تیار کرنے اور ان مواقع کو حقیقی سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔</p>
<p>اپنے خطاب میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ پاکستان کی مستقبل کی انفرااسٹرکچر اور ترقیاتی ضروریات صرف سرکاری اخراجات سے پوری نہیں کی جاسکتیں، اس لیے انفرااسٹرکچر اور معاشی اثاثوں کی مالی معاونت، تعمیر اور انتظام میں نجی شعبے کو کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) اور نجکاری ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ معاون حکمتِ عملیاں ہیں۔ پی پی پیز کے ذریعے انفرااسٹرکچر اور عوامی خدمات کے شعبوں میں نجی سرمایہ اور مہارت لائی جاسکتی ہے جبکہ نجکاری کے ذریعے ایسے تجارتی اداروں میں نجی ملکیت یا انتظام متعارف کرایا جاسکتا ہے جہاں اس سے کارکردگی، سرمایہ کاری اور خدمات کی فراہمی بہتر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>مشیر نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز)، نجکاری اور اثاثوں سے مالی فوائد حاصل کرنے کے عمل کو مختلف ذرائع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ ان شعبوں میں نجی سرمایہ، انتظامی صلاحیت، ٹیکنالوجی اور جوابدہی لائی جاسکے جہاں سرکاری شعبہ تنہا تمام ذمہ داریاں انجام نہیں دے سکتا۔</p>
<p>انہوں  نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی معاشی ترقی کی باگ ڈور نجی شعبے کے حوالے کرنا شروع کردی ہے۔ ہمیں اسی راستے پر آگے بڑھتے ہوئے نجکاری کے ایجنڈے کو مکمل کرنا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) کے منصوبوں میں نمایاں اضافہ کرنا اور منصوبوں کی تکمیل شروع کرنا ہوگی تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ حکومت اپنے عزم پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔</p>
<p>اے ڈی بی کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے لیے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے نجی شعبے کی شمولیت مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور بڑے پیمانے پر نجی شعبے کی شرکت کے فروغ کے لیے دیرینہ تعاون جاری رکھنے کے اے ڈی بی کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>اے ڈی بی کے نائب صدر نے کہا کہ نجی سرمایہ اور مہارت کو متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بہتر انداز میں تشکیل دی گئی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) محدود سرکاری وسائل کا متبادل بن سکتی ہیں، نجی شعبے کی کارکردگی سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، منصوبوں کی پوری مدت کے دوران دیکھ بھال کو یقینی بنا سکتی ہیں اور شہریوں کے لیے خدمات کو بہتر بناسکتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں پی پی پیز کے حوالے سے ایک مضبوط ریکارڈ موجود ہے۔ پاکستان پی پی پی مانیٹر کے مطابق 1990 کی دہائی سے اب تک ملک میں 154 پی پی پی منصوبے مالی اختتام تک پہنچ چکے ہیں جن میں تقریباً 36 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔</p>
<p>وفاقی سطح پر پی پی پی منصوبوں کی موجودہ پائپ لائن میں 38 منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی متوقع مالیت تقریباً 6.5 ارب ڈالر ہے۔ ان منصوبوں میں سڑکوں، ریلوے، ہوا بازی، صحت اور صنعتی انفرااسٹرکچر سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔</p>
<p>حکومت 27 لین دین پر مشتمل نجکاری پروگرام پر بھی پیش رفت کررہی ہے جس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، بڑے ہوائی اڈے، انشورنس کمپنیاں اور خصوصی بینک شامل ہیں۔</p>
<p>حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک، کامیاب تجربات کے مضبوط ریکارڈ اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کے ساتھ ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ توجہ ان مواقع کو کامیاب لین دین میں تبدیل کرنے، نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے پر مرکوز ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290849</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Sep 2026 16:03:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/04152305b8fc161.webp" type="image/webp" medium="image" height="401" width="764">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/04152305b8fc161.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
