<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 13:07:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 13:07:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی روپے میں ڈالر سیٹلڈ بانڈ جاری کرنے کا منصوبہ ہے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290843/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کو کہا ہے کہ  دو قسطوں پر مشتمل یورو بانڈ کی فروخت کے ذریعے کامیابی سے 3 ارب ڈالر حاصل کرنے کے بعد حکومت قرض لینے کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور ملکی بینکاری نظام پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے تحت روپے میں مالیت اور ڈالر میں ادائیگی والے بانڈ کے اجرا کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے زیرِ اہتمام موبلائزنگ پرائیویٹ کیپیٹل: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور نجکاری پر قومی اسٹریٹجک ڈائیلاگ‘ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ ہم ان اداروں کو پہلے ہی ذمہ داری سونپ چکے ہیں جو اس معاملے میں ہمارے ساتھ کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزیر خزانہ نے مجوزہ بانڈ کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جن میں اس کا حجم، مدتِ میعاد یا متوقع اجرا کا وقت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان نے حال ہی میں 7.5 فیصد کی کوپن شرح پر ساڑھے 5 سالہ بانڈ کے ذریعے 1.75 ارب ڈالر جبکہ 7.9 فیصد کی شرح پر 10 سالہ بانڈ کے ذریعے 1.25 ارب ڈالر حاصل کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اس لین دین کے لیے تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے جو جاری کیے گئے بانڈز کی مالیت سے تقریباً دوگنا تھے جبکہ عالمی مارکیٹوں اور مختلف براعظموں سے تعلق رکھنے والے وسیع اور متنوع ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی قرض لینے کی ضروریات کے حوالے سے بینکاری نظام پر حد سے زیادہ انحصار پائیدار نہیں، اس لیے ملک کی کیپٹل مارکیٹ کو مزید وسعت دینے اور سرمایہ کاروں کے دائرہ کار میں تنوع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیٹ کیپیٹل مارکیٹ کو مضبوط بنانے اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈیٹ کیپیٹل مارکیٹ پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے دائرہ کار میں مزید تنوع لایا جاسکے، خواہ وہ انشورنس کمپنیاں ہوں یا غیر بینکاری مالیاتی ادارے (این بی ایف آئیز) اور بینکاری نظام پر انحصار کم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے حکومتی سیکیورٹیز تک ریٹیل سرمایہ کاروں کی رسائی بڑھانے کے لیے حالیہ اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وزارتِ خزانہ نے جاز کیش کے ساتھ تعاون کیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک ایسی ایپلی کیشن متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے افراد براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مالی معاونت کے نئے طریقہ کار کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہانگ کانگ کے تجربے کی روشنی میں پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرض کے ایک حصے کو ٹوکنائز کرنے کی کوشش کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہانگ کانگ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے ہم نے اپنے موجودہ &lt;em&gt;یورو&lt;/em&gt; بانڈ قرض کے ایک حصے کو ٹوکنائز کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 30 جون تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے جبکہ حکومت نے رواں مالی سال کے اختتام تک انہیں 21 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری جغرافیائی سیاسی صورتحال کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو بغور دیکھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا  کہ ہم ہمت نہیں ہار رہے، کیونکہ یہ صرف پاکستان یا خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کو کہا ہے کہ  دو قسطوں پر مشتمل یورو بانڈ کی فروخت کے ذریعے کامیابی سے 3 ارب ڈالر حاصل کرنے کے بعد حکومت قرض لینے کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور ملکی بینکاری نظام پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے تحت روپے میں مالیت اور ڈالر میں ادائیگی والے بانڈ کے اجرا کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔</strong></p>
<p>محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے زیرِ اہتمام موبلائزنگ پرائیویٹ کیپیٹل: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور نجکاری پر قومی اسٹریٹجک ڈائیلاگ‘ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ ہم ان اداروں کو پہلے ہی ذمہ داری سونپ چکے ہیں جو اس معاملے میں ہمارے ساتھ کام کریں گے۔</p>
<p>تاہم وزیر خزانہ نے مجوزہ بانڈ کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جن میں اس کا حجم، مدتِ میعاد یا متوقع اجرا کا وقت شامل ہے۔</p>
<p>ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان نے حال ہی میں 7.5 فیصد کی کوپن شرح پر ساڑھے 5 سالہ بانڈ کے ذریعے 1.75 ارب ڈالر جبکہ 7.9 فیصد کی شرح پر 10 سالہ بانڈ کے ذریعے 1.25 ارب ڈالر حاصل کیے ہیں۔</p>
<p>وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اس لین دین کے لیے تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے جو جاری کیے گئے بانڈز کی مالیت سے تقریباً دوگنا تھے جبکہ عالمی مارکیٹوں اور مختلف براعظموں سے تعلق رکھنے والے وسیع اور متنوع ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی۔</p>
<p>اپنے خطاب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی قرض لینے کی ضروریات کے حوالے سے بینکاری نظام پر حد سے زیادہ انحصار پائیدار نہیں، اس لیے ملک کی کیپٹل مارکیٹ کو مزید وسعت دینے اور سرمایہ کاروں کے دائرہ کار میں تنوع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیٹ کیپیٹل مارکیٹ کو مضبوط بنانے اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈیٹ کیپیٹل مارکیٹ پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے دائرہ کار میں مزید تنوع لایا جاسکے، خواہ وہ انشورنس کمپنیاں ہوں یا غیر بینکاری مالیاتی ادارے (این بی ایف آئیز) اور بینکاری نظام پر انحصار کم کیا جاسکے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے حکومتی سیکیورٹیز تک ریٹیل سرمایہ کاروں کی رسائی بڑھانے کے لیے حالیہ اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وزارتِ خزانہ نے جاز کیش کے ساتھ تعاون کیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک ایسی ایپلی کیشن متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے افراد براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مالی معاونت کے نئے طریقہ کار کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہانگ کانگ کے تجربے کی روشنی میں پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرض کے ایک حصے کو ٹوکنائز کرنے کی کوشش کررہا ہے۔</p>
<p>’ہانگ کانگ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے ہم نے اپنے موجودہ <em>یورو</em> بانڈ قرض کے ایک حصے کو ٹوکنائز کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 30 جون تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے جبکہ حکومت نے رواں مالی سال کے اختتام تک انہیں 21 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔</p>
<p>جاری جغرافیائی سیاسی صورتحال کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو بغور دیکھ رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا  کہ ہم ہمت نہیں ہار رہے، کیونکہ یہ صرف پاکستان یا خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290843</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Sep 2026 14:27:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/xSsBw2CT-xE/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/xSsBw2CT-xE/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=xSsBw2CT-xE"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
