<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:46:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 20:46:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا کی نجی سرمایہ کاری کی تجویز: اہم کردار ادا کرنے والے کشنر کو طریقۂ کار پر افسوس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290727/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ارب پتی اور سرمایہ کار جوش کشنر نے کہا ہے کہ اگر ان کی کمپنی تھرو کو معلوم ہوتا کہ معاملات کس رخ پر جائیں گے تو وہ فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کی اس تجویز میں شامل نہ ہوتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی جوش کشنر نے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کی ناکام فیفا فارورڈ انٹرپرائز (ایف ایف ای) تجویز کے بنیادی تصور کا دفاع کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ تھرو کو فٹ بال کی سیاست کی پوری سمجھ نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفینٹینو نے یورپی فٹ بال کی نگران تنظیم یوئیفا اور کھیل سے وابستہ دیگر حلقوں کی شدید مخالفت کے بعد جولائی کے اواخر میں یہ تجویز واپس لے لی تھی۔ اس منصوبے کے تحت ورلڈ کپ اور فیفا کے دیگر ٹورنامنٹس کے کمرشل حقوق کی مالیت 20 ارب ڈالر لگائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ارب پتی نے پیر کو جاری بیان میں کہا، ’’ہم ایف ایف ای کے مقاصد کی حمایت کرتے ہیں، تاہم عالمی فٹ بال کی سیاسی حرکیات اور بعض حلقوں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے طرزِعمل کا اندازہ لگانے میں ہم سے غلطی ہوئی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’تھرو کا تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ شراکت داری کا طویل ریکارڈ ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ معاملہ اس حد تک بگڑ جائے گا تو ہم اس میں شامل ہی نہ ہوتے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویز کے مطابق، جو رائٹرز نے دیکھی ہے، یوئیفا نے گزشتہ ہفتے امریکی وفاقی عدالت سے فلوریڈا میں موجود فیفا کے اداروں سے بیانات اور دستاویزات حاصل کرنے کی اجازت مانگی تھی، تاکہ انہیں سوئٹزرلینڈ میں انفینٹینو کے خلاف دائر کی جانے والی مجوزہ فوجداری شکایت میں استعمال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں ایف ایف ای تجویز کے حوالے سے فیفا، تھرو، دیگر سرمایہ کاروں اور مشیروں کے درمیان ہونے والی تمام خط و کتابت اور رابطوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے فیفا سے رابطہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی کے اواخر میں فیفا کے 211 رکن ممالک کو لکھے گئے خط میں انفینٹینو نے تھرو کیپیٹل کو اس منصوبے کا &lt;strong&gt;’’بنیادی سرمایہ کار‘‘&lt;/strong&gt; قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ انفینٹینو نے بعد ازاں اس ناکام منصوبے میں ہونے والی ’’غلطیوں‘‘ پر معذرت کی، تاہم انہوں نے ایف ایف ای کے بنیادی تصور کا دفاع جاری رکھا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے کم وسائل رکھنے والی قومی فٹ بال فیڈریشنز کو زیادہ مالی وسائل فراہم کیے جا سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشنر نے بھی اپنے بیان میں اسی موقف کی تائید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’فٹ بال میں مالی وسائل تاریخی طور پر چند ممالک تک محدود رہے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’ایف ایف ای کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ 211 رکن ممالک کے درمیان سرمایہ اور حصص کی سرمایہ کاری زیادہ مساوی انداز میں تقسیم کی جائے، جس سے ترقی پذیر ممالک کو مقامی ٹیلنٹ کی تربیت، گراس روٹس فٹ بال کی سرپرستی، شائقین کے تجربے کو بہتر بنانے اور بالآخر دنیا بھر میں فٹ بال کو فروغ دینے کے لیے کہیں زیادہ سرمایہ میسر آتا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ’’یہ ایک ایسی تجویز تھی جس پر ہر رکن فٹ بال ایسوسی ایشن کو ووٹ دینا تھا، یہ کوئی لازمی فیصلہ یا مسلط کردہ اقدام نہیں تھا۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ارب پتی اور سرمایہ کار جوش کشنر نے کہا ہے کہ اگر ان کی کمپنی تھرو کو معلوم ہوتا کہ معاملات کس رخ پر جائیں گے تو وہ فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کی اس تجویز میں شامل نہ ہوتی۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی جوش کشنر نے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کی ناکام فیفا فارورڈ انٹرپرائز (ایف ایف ای) تجویز کے بنیادی تصور کا دفاع کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ تھرو کو فٹ بال کی سیاست کی پوری سمجھ نہیں تھی۔</p>
<p>انفینٹینو نے یورپی فٹ بال کی نگران تنظیم یوئیفا اور کھیل سے وابستہ دیگر حلقوں کی شدید مخالفت کے بعد جولائی کے اواخر میں یہ تجویز واپس لے لی تھی۔ اس منصوبے کے تحت ورلڈ کپ اور فیفا کے دیگر ٹورنامنٹس کے کمرشل حقوق کی مالیت 20 ارب ڈالر لگائی گئی تھی۔</p>
<p>امریکی ارب پتی نے پیر کو جاری بیان میں کہا، ’’ہم ایف ایف ای کے مقاصد کی حمایت کرتے ہیں، تاہم عالمی فٹ بال کی سیاسی حرکیات اور بعض حلقوں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے طرزِعمل کا اندازہ لگانے میں ہم سے غلطی ہوئی۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’تھرو کا تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ شراکت داری کا طویل ریکارڈ ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ معاملہ اس حد تک بگڑ جائے گا تو ہم اس میں شامل ہی نہ ہوتے۔‘‘</p>
<p>عدالتی دستاویز کے مطابق، جو رائٹرز نے دیکھی ہے، یوئیفا نے گزشتہ ہفتے امریکی وفاقی عدالت سے فلوریڈا میں موجود فیفا کے اداروں سے بیانات اور دستاویزات حاصل کرنے کی اجازت مانگی تھی، تاکہ انہیں سوئٹزرلینڈ میں انفینٹینو کے خلاف دائر کی جانے والی مجوزہ فوجداری شکایت میں استعمال کیا جا سکے۔</p>
<p>درخواست میں ایف ایف ای تجویز کے حوالے سے فیفا، تھرو، دیگر سرمایہ کاروں اور مشیروں کے درمیان ہونے والی تمام خط و کتابت اور رابطوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔</p>
<p>رائٹرز نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے فیفا سے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p>جولائی کے اواخر میں فیفا کے 211 رکن ممالک کو لکھے گئے خط میں انفینٹینو نے تھرو کیپیٹل کو اس منصوبے کا <strong>’’بنیادی سرمایہ کار‘‘</strong> قرار دیا تھا۔</p>
<p>اگرچہ انفینٹینو نے بعد ازاں اس ناکام منصوبے میں ہونے والی ’’غلطیوں‘‘ پر معذرت کی، تاہم انہوں نے ایف ایف ای کے بنیادی تصور کا دفاع جاری رکھا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے کم وسائل رکھنے والی قومی فٹ بال فیڈریشنز کو زیادہ مالی وسائل فراہم کیے جا سکتے تھے۔</p>
<p>کشنر نے بھی اپنے بیان میں اسی موقف کی تائید کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’فٹ بال میں مالی وسائل تاریخی طور پر چند ممالک تک محدود رہے ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’ایف ایف ای کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ 211 رکن ممالک کے درمیان سرمایہ اور حصص کی سرمایہ کاری زیادہ مساوی انداز میں تقسیم کی جائے، جس سے ترقی پذیر ممالک کو مقامی ٹیلنٹ کی تربیت، گراس روٹس فٹ بال کی سرپرستی، شائقین کے تجربے کو بہتر بنانے اور بالآخر دنیا بھر میں فٹ بال کو فروغ دینے کے لیے کہیں زیادہ سرمایہ میسر آتا۔‘‘</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ’’یہ ایک ایسی تجویز تھی جس پر ہر رکن فٹ بال ایسوسی ایشن کو ووٹ دینا تھا، یہ کوئی لازمی فیصلہ یا مسلط کردہ اقدام نہیں تھا۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290727</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Sep 2026 20:27:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/01201822c856504.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/01201822c856504.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
