<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایسا حادثہ جو روکا جاسکتا تھا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290691/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پمزآتشزدگی میں 14 نومولود بچوں کی اموات اتنا سنگین سانحہ ہے کہ اسے ایک اور بدقسمت واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جس کے بعد حسبِ معمول تعزیت، تحقیقات اور پھر سفارشات کو بھلا دینے کا سلسلہ شروع ہوجائے۔ ان بچوں کی اموات ریاست پر ایک گہری اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری عائد کرتی ہیں کہ وہ صرف یہ معلوم نہ کرے کہ آگ کیسے لگی بلکہ یہ بھی طے کرے کہ اتنی زیادہ جانیں کیوں نہ بچائی جاسکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک نرسری میں آگ انتہائی تیزی سے پھیلی، جہاں متعدد نومولود بچے آکسیجن پر انحصار کررہے تھے۔ حکام کے مطابق بجلی کا اسپارک یا ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں خرابی آگ لگنے کی وجہ ہوسکتی ہے، جبکہ آکسیجن کی موجودگی نے آگ کے تیزی سے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا۔ یہ حالات آگ کی شدت کی وضاحت تو کرسکتے ہیں، لیکن جانی نقصان کی اس قدر بڑی تعداد کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تشویشناک سوالات اسپتال کی تیاری اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت سے متعلق ہیں۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ وارڈ کے دروازے بند تھے، آگ سے بچاؤ کے انتظامات ناکافی تھے اور امدادی اہلکار بہت دیر سے پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپتال اور ایمرجنسی حکام نے ان دعوؤں کے بعض حصوں کو مسترد کیا ہے، جن میں امدادی ٹیموں کے پہنچنے میں لگنے والا مبینہ وقت بھی شامل ہے۔ ان متضاد دعوؤں کے باعث ایک آزاد اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومولود بچوں کی نگہداشت کرنے والا اسپتال ہنگامی اخراج کے راستوں، الارم، آگ بجھانے والے آلات، انخلا کے راستوں یا عملے کی تربیت کے حوالے سے کسی ابہام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ نوزائیدہ بچوں کے وارڈز کو خاص نوعیت کے خطرات لاحق ہوتے ہیں کیونکہ مریضوں کو مدد کے بغیر منتقل نہیں کیا جاسکتا اور ان میں سے بہت سے بچوں کو آکسیجن، انکیوبیٹرز اور دیگر لائف سپورٹ آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے وارڈز میں فائر ڈرلز اور فعال حفاظتی نظام محض دفتری یا انتظامی تقاضے نہیں بلکہ طبی نگہداشت کے بنیادی اور ضروری اجزا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے حقائق معلوم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کردیا ہے۔ تاہم ذمہ داری کا تعین محض انتظامی علامتی اقدامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان افراد تک بھی پہنچنا چاہیے جو اسپتال کے روزمرہ انتظام اور حفاظتی امور کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر تحقیقات اداروں یا افراد کو تحفظ فراہم کرنے کی مشق بن گئیں تو انتظامی کارروائی بے معنی ہوگی۔ تحقیقات میں واقعات کی ایک ایک لمحے کی درست ترتیب طے کی جانی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ دیکھ بھال اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات سے لے کر الارم بجنے، مریضوں کے انخلا اور ہنگامی خدمات کے پہنچنے تک ہر مرحلے پر کہاں کہاں ناکامی ہوئی۔ اس امر کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ آیا عمارت میں جاری تزئین و آرائش یا دیگر تعمیراتی کاموں نے حفاظتی انتظامات کو متاثر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کی شفافیت اور آزادی کے حوالے سے بھی ایک جائز سوال موجود ہے۔ جہاں ایسے حکام یا محکمے، جن کی کارکردگی خود تحقیقات کے دائرے میں آسکتی ہے، تحقیقات کے عمل سے منسلک ہوں تو عوام کا اعتماد باآسانی متاثر ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا عدالتی تحقیقات اور پمز کے فائر سیفٹی انفراسٹرکچر کے آزادانہ آڈٹ کا مطالبہ نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پمز میں پیش آنے والا واقعہ ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہونا چاہیے۔ ہر سرکاری اسپتال، خصوصاً وہ اسپتال جہاں نوزائیدہ بچوں اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس قائم ہیں، کا فوری طور پر آزادانہ حفاظتی آڈٹ کرایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنگامی اخراج کے راستے ہر وقت قابلِ رسائی ہونے چاہئیں، جبکہ الارم اور آگ بجھانے والے آلات کی باقاعدگی سے جانچ کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 خاندانوں کو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ کوئی معاوضہ، معطلی یا سرکاری بیان ان کے بچوں کو واپس نہیں لاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست ان خاندانوں کی کم از کم اتنی مقروض ضرور ہے کہ انہیں سچ فراہم کرے۔ اس معاملے میں انصاف کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ کتنے سرکاری اہلکاروں کو سزا دی جاتی ہے۔ انصاف اس بات سے ثابت ہوگا کہ آیا حکومت میں اتنی جرأت ہے کہ وہ ہر ناکامی کو بے نقاب کرے، ذمہ داروں کا احتساب کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ پمز میں پیش آنے والے سانحے سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمارے اسپتال محفوظ بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی اور والدین کو اسپتال کے باہر کھڑے ہوکر یہ تباہ کن سوال نہیں پوچھنا چاہیے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’میرے بچے کو کیوں نہیں بچایا گیا؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پمزآتشزدگی میں 14 نومولود بچوں کی اموات اتنا سنگین سانحہ ہے کہ اسے ایک اور بدقسمت واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جس کے بعد حسبِ معمول تعزیت، تحقیقات اور پھر سفارشات کو بھلا دینے کا سلسلہ شروع ہوجائے۔ ان بچوں کی اموات ریاست پر ایک گہری اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری عائد کرتی ہیں کہ وہ صرف یہ معلوم نہ کرے کہ آگ کیسے لگی بلکہ یہ بھی طے کرے کہ اتنی زیادہ جانیں کیوں نہ بچائی جاسکیں۔</strong></p>
<p>ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک نرسری میں آگ انتہائی تیزی سے پھیلی، جہاں متعدد نومولود بچے آکسیجن پر انحصار کررہے تھے۔ حکام کے مطابق بجلی کا اسپارک یا ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں خرابی آگ لگنے کی وجہ ہوسکتی ہے، جبکہ آکسیجن کی موجودگی نے آگ کے تیزی سے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا۔ یہ حالات آگ کی شدت کی وضاحت تو کرسکتے ہیں، لیکن جانی نقصان کی اس قدر بڑی تعداد کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔</p>
<p>زیادہ تشویشناک سوالات اسپتال کی تیاری اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت سے متعلق ہیں۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ وارڈ کے دروازے بند تھے، آگ سے بچاؤ کے انتظامات ناکافی تھے اور امدادی اہلکار بہت دیر سے پہنچے۔</p>
<p>اسپتال اور ایمرجنسی حکام نے ان دعوؤں کے بعض حصوں کو مسترد کیا ہے، جن میں امدادی ٹیموں کے پہنچنے میں لگنے والا مبینہ وقت بھی شامل ہے۔ ان متضاد دعوؤں کے باعث ایک آزاد اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>نومولود بچوں کی نگہداشت کرنے والا اسپتال ہنگامی اخراج کے راستوں، الارم، آگ بجھانے والے آلات، انخلا کے راستوں یا عملے کی تربیت کے حوالے سے کسی ابہام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ نوزائیدہ بچوں کے وارڈز کو خاص نوعیت کے خطرات لاحق ہوتے ہیں کیونکہ مریضوں کو مدد کے بغیر منتقل نہیں کیا جاسکتا اور ان میں سے بہت سے بچوں کو آکسیجن، انکیوبیٹرز اور دیگر لائف سپورٹ آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>ایسے وارڈز میں فائر ڈرلز اور فعال حفاظتی نظام محض دفتری یا انتظامی تقاضے نہیں بلکہ طبی نگہداشت کے بنیادی اور ضروری اجزا ہیں۔</p>
<p>حکومت نے حقائق معلوم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کردیا ہے۔ تاہم ذمہ داری کا تعین محض انتظامی علامتی اقدامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان افراد تک بھی پہنچنا چاہیے جو اسپتال کے روزمرہ انتظام اور حفاظتی امور کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>اگر تحقیقات اداروں یا افراد کو تحفظ فراہم کرنے کی مشق بن گئیں تو انتظامی کارروائی بے معنی ہوگی۔ تحقیقات میں واقعات کی ایک ایک لمحے کی درست ترتیب طے کی جانی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ دیکھ بھال اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات سے لے کر الارم بجنے، مریضوں کے انخلا اور ہنگامی خدمات کے پہنچنے تک ہر مرحلے پر کہاں کہاں ناکامی ہوئی۔ اس امر کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ آیا عمارت میں جاری تزئین و آرائش یا دیگر تعمیراتی کاموں نے حفاظتی انتظامات کو متاثر کیا تھا۔</p>
<p>تحقیقات کی شفافیت اور آزادی کے حوالے سے بھی ایک جائز سوال موجود ہے۔ جہاں ایسے حکام یا محکمے، جن کی کارکردگی خود تحقیقات کے دائرے میں آسکتی ہے، تحقیقات کے عمل سے منسلک ہوں تو عوام کا اعتماد باآسانی متاثر ہوسکتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا عدالتی تحقیقات اور پمز کے فائر سیفٹی انفراسٹرکچر کے آزادانہ آڈٹ کا مطالبہ نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>پمز میں پیش آنے والا واقعہ ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہونا چاہیے۔ ہر سرکاری اسپتال، خصوصاً وہ اسپتال جہاں نوزائیدہ بچوں اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس قائم ہیں، کا فوری طور پر آزادانہ حفاظتی آڈٹ کرایا جانا چاہیے۔</p>
<p>ہنگامی اخراج کے راستے ہر وقت قابلِ رسائی ہونے چاہئیں، جبکہ الارم اور آگ بجھانے والے آلات کی باقاعدگی سے جانچ کی جانی چاہیے۔</p>
<p>14 خاندانوں کو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ کوئی معاوضہ، معطلی یا سرکاری بیان ان کے بچوں کو واپس نہیں لاسکتا۔</p>
<p>ریاست ان خاندانوں کی کم از کم اتنی مقروض ضرور ہے کہ انہیں سچ فراہم کرے۔ اس معاملے میں انصاف کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ کتنے سرکاری اہلکاروں کو سزا دی جاتی ہے۔ انصاف اس بات سے ثابت ہوگا کہ آیا حکومت میں اتنی جرأت ہے کہ وہ ہر ناکامی کو بے نقاب کرے، ذمہ داروں کا احتساب کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ پمز میں پیش آنے والے سانحے سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمارے اسپتال محفوظ بنیں۔</p>
<p>کسی اور والدین کو اسپتال کے باہر کھڑے ہوکر یہ تباہ کن سوال نہیں پوچھنا چاہیے:</p>
<p>’’میرے بچے کو کیوں نہیں بچایا گیا؟‘‘</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290691</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Sep 2026 10:06:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/01100426ed391e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/01100426ed391e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
