<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، صدر مسعود پزشکیان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290675/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو کہا کہ ایران اب بھی امریکا کے ساتھ اپنے تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان جولائی کے اواخر کے بعد پہلی بار دوبارہ دشمنانہ کارروائیوں کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 3.5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پزشکیان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کیے جانے کے بعد سامنے آیا، جس کے بارے میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں ایران کے اہم تیل مرکز خارک جزیرے کو تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، ایسے کسی حملے کے شواہد سامنے نہیں آئے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے پیر کو کہا کہ امریکی فوج نے رات گئے کیے گئے حملوں میں خارک جزیرے کو نشانہ نہیں بنایا۔ ایک ایرانی عہدیدار نے ٹرمپ کی اس پوسٹ کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی فورسز نے اتوار کو ایران کے جزیرے لارک پر موجود دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔ لارک جزیرہ خارک سے تقریباً 660 کلومیٹر (410 میل) مشرق میں واقع ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس کے جواب میں ایران نے اردن میں واقع دو امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ نے مقامی گورنر کے حوالے سے پیر کو بتایا کہ لارک جزیرے پر ہونے والے حملے میں دو افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی دشمنانہ کارروائیاں ایسے کئی ہفتوں کے بعد ہوئی ہیں جن کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے تہران اور اس کے کاروباری شراکت داروں کو بھاری اقتصادی پابندیوں کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوششیں تیز کردی تھیں، جبکہ فوجی کارروائی کے آپشن سے گریز کیا جا رہا تھا۔ تاہم، سفارتی کوششیں اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرغزستان میں علاقائی سلامتی سے متعلق اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے گفتگو کرتے ہوئے پزشکیان نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ماضی میں طے پانے والے معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے پزشکیان کے حوالے سے کہا، ’’اس کے باوجود ہم اب بھی کسی معاہدے اور مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ جنگ جاری رکھنا کسی کے مفاد میں نہیں، نہ ہمارے، نہ خطے کے اور نہ ہی انسانیت کے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ مسائل کا حل مذاکرات اور تعاون میں ہے اور عدم تحفظ اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جانی چاہئیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’پرخچے اڑا دیے گئے!!!‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے ’ٹروتھ سوشل‘ پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کرکے ایران کو برہم کردیا تھا، جس کے ساتھ انہوں نے پیغام لکھا: ’’خارک جزیرے کے پرخچے اڑا دیے گئے!!! صدر ڈی جے ٹی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے مصنوعی ذہانت سے تبدیل شدہ تصاویر کا سراغ لگانے والے سافٹ ویئر کے ذریعے تصدیق کی کہ ڈرامائی دھماکوں پر مشتمل یہ ویڈیو کلپ غالباً مصنوعی طور پر تیار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع نے دفتری اوقات کے بعد رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ سے قبل ایران کی تیل برآمدات کا 90 فیصد حصہ خارک کے ذریعے منتقل ہوتا تھا۔ اس پر حملہ توانائی کی تجارت میں شدید خلل ڈالنے کے ساتھ ایرانی معیشت پر بہت زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری ملکیت کی نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو حمید بُوارد نے پیر کو کہا، ’’ٹرمپ کی ٹوئٹس مضحکہ خیز ہیں اور خارک کے حالات پُرسکون اور معمول کے مطابق ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اعلیٰ ترین سکیورٹی ادارے کے قریب سمجھے جانے والے نیم سرکاری ادارے ’نور نیوز‘ کے مطابق بُوارد نے کہا کہ تیل کی سرگرمیاں رکی نہیں ہیں، جبکہ کارکن سابقہ نقصانات کی مرمت اور تنصیبات کو جدید بنانے میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فورسز نے اتوار کو لارک جزیرے پر موجود ایرانی میزائل لانچرز کو اس وقت نشانہ بنایا جب ’’اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کو آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں داغنے کے لیے راکٹ لانچ کرنے کی تیاری کرتے دیکھا گیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لارک آبنائے ہرمز میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، جو ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس کے قریب ہے۔ آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں دنیا بھر میں خام تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے، تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ گزرگاہ عملاً بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بارودی سرنگیں بچھانے والی فورسز کے خلاف ’’محدود اور انتہائی درست‘‘ کارروائی کی، جن سے ’’فوری خطرہ‘‘ لاحق تھا۔ کمانڈ نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی فوج نے کہا کہ اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ اس نے پیر کی صبح متحدہ عرب امارات میں واقع المِنہد ایئربیس پر بھی حملہ کیا۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں اماراتی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ اس کی فضائیہ نے ایک ڈرون کو نشانہ بنایا جو ایران سے اماراتی علاقائی پانیوں کی حدود میں داخل ہوا تھا۔ وزارت نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا ڈرون کو مار گرایا گیا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی ان اڈوں کے خلاف کی گئی جو لارک پر حملے کے لیے امریکی طیاروں کی پرواز اور کارروائی میں معاونت کے لیے استعمال ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ نے پیر کو پاسدارانِ انقلاب کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ پاسداران نے فضائی دفاعی میزائلوں کے ذریعے ایک امریکی ڈرون مار گرایا، جو خلیج کے پانیوں میں جاگرا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سرکاری ٹی وی نے پاسدارانِ انقلاب کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک سپر ٹینکر دو بحری بارودی سرنگوں کی زد میں آنے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگیا اور مکمل طور پر رک گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ جنگ کے آغاز پر مقرر کیے گئے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں تاحال ناکام رہے ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا، علاقائی حریفوں پر حملہ کرنے کی اس کی صلاحیت محدود کرنا اور ایرانی عوام کے لیے اپنے مذہبی حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے حالات پیدا کرنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو رائٹرز کو بتایا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے تحت نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان غالباً ہر ہفتے کیا جائے گا، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین نے پیر کو کہا کہ وہ ایران پر معاشی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے امریکا اور دیگر فریقوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بارودی سرنگوں کی زد میں آکر آگ لگنے والا سپر ٹینکر غیر قانونی طور پر آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم جہاز یا اس کے عملے کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں دھماکے سے اڑا دی گئی ہیں یا ہٹا دی گئی ہیں اور ایران کو خبردار کیا گیا ہے کہ نئی بارودی سرنگیں بچھانے والے کسی بھی جہاز کو تباہ کردیا جائے گا۔ ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو کہا کہ ایران اب بھی امریکا کے ساتھ اپنے تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان جولائی کے اواخر کے بعد پہلی بار دوبارہ دشمنانہ کارروائیوں کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 3.5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔</strong></p>
<p>پزشکیان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کیے جانے کے بعد سامنے آیا، جس کے بارے میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں ایران کے اہم تیل مرکز خارک جزیرے کو تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، ایسے کسی حملے کے شواہد سامنے نہیں آئے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے پیر کو کہا کہ امریکی فوج نے رات گئے کیے گئے حملوں میں خارک جزیرے کو نشانہ نہیں بنایا۔ ایک ایرانی عہدیدار نے ٹرمپ کی اس پوسٹ کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔</p>
<p>ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی فورسز نے اتوار کو ایران کے جزیرے لارک پر موجود دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔ لارک جزیرہ خارک سے تقریباً 660 کلومیٹر (410 میل) مشرق میں واقع ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس کے جواب میں ایران نے اردن میں واقع دو امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔</p>
<p>ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ نے مقامی گورنر کے حوالے سے پیر کو بتایا کہ لارک جزیرے پر ہونے والے حملے میں دو افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی دشمنانہ کارروائیاں ایسے کئی ہفتوں کے بعد ہوئی ہیں جن کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے تہران اور اس کے کاروباری شراکت داروں کو بھاری اقتصادی پابندیوں کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوششیں تیز کردی تھیں، جبکہ فوجی کارروائی کے آپشن سے گریز کیا جا رہا تھا۔ تاہم، سفارتی کوششیں اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔</p>
<p>کرغزستان میں علاقائی سلامتی سے متعلق اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے گفتگو کرتے ہوئے پزشکیان نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ماضی میں طے پانے والے معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p>ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے پزشکیان کے حوالے سے کہا، ’’اس کے باوجود ہم اب بھی کسی معاہدے اور مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ جنگ جاری رکھنا کسی کے مفاد میں نہیں، نہ ہمارے، نہ خطے کے اور نہ ہی انسانیت کے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ مسائل کا حل مذاکرات اور تعاون میں ہے اور عدم تحفظ اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جانی چاہئیں۔‘‘</p>
<p><strong>’پرخچے اڑا دیے گئے!!!‘</strong></p>
<p>اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے ’ٹروتھ سوشل‘ پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کرکے ایران کو برہم کردیا تھا، جس کے ساتھ انہوں نے پیغام لکھا: ’’خارک جزیرے کے پرخچے اڑا دیے گئے!!! صدر ڈی جے ٹی۔‘‘</p>
<p>رائٹرز نے مصنوعی ذہانت سے تبدیل شدہ تصاویر کا سراغ لگانے والے سافٹ ویئر کے ذریعے تصدیق کی کہ ڈرامائی دھماکوں پر مشتمل یہ ویڈیو کلپ غالباً مصنوعی طور پر تیار کیا گیا تھا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع نے دفتری اوقات کے بعد رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ سے قبل ایران کی تیل برآمدات کا 90 فیصد حصہ خارک کے ذریعے منتقل ہوتا تھا۔ اس پر حملہ توانائی کی تجارت میں شدید خلل ڈالنے کے ساتھ ایرانی معیشت پر بہت زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>ایرانی سرکاری ملکیت کی نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو حمید بُوارد نے پیر کو کہا، ’’ٹرمپ کی ٹوئٹس مضحکہ خیز ہیں اور خارک کے حالات پُرسکون اور معمول کے مطابق ہیں۔‘‘</p>
<p>ایران کے اعلیٰ ترین سکیورٹی ادارے کے قریب سمجھے جانے والے نیم سرکاری ادارے ’نور نیوز‘ کے مطابق بُوارد نے کہا کہ تیل کی سرگرمیاں رکی نہیں ہیں، جبکہ کارکن سابقہ نقصانات کی مرمت اور تنصیبات کو جدید بنانے میں مصروف ہیں۔</p>
<p><strong>آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں</strong></p>
<p>ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فورسز نے اتوار کو لارک جزیرے پر موجود ایرانی میزائل لانچرز کو اس وقت نشانہ بنایا جب ’’اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کو آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں داغنے کے لیے راکٹ لانچ کرنے کی تیاری کرتے دیکھا گیا۔‘‘</p>
<p>لارک آبنائے ہرمز میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، جو ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس کے قریب ہے۔ آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں دنیا بھر میں خام تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے، تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ گزرگاہ عملاً بند ہے۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بارودی سرنگیں بچھانے والی فورسز کے خلاف ’’محدود اور انتہائی درست‘‘ کارروائی کی، جن سے ’’فوری خطرہ‘‘ لاحق تھا۔ کمانڈ نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔</p>
<p>ایران کی فوج نے کہا کہ اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ اس نے پیر کی صبح متحدہ عرب امارات میں واقع المِنہد ایئربیس پر بھی حملہ کیا۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔</p>
<p>بعدازاں اماراتی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ اس کی فضائیہ نے ایک ڈرون کو نشانہ بنایا جو ایران سے اماراتی علاقائی پانیوں کی حدود میں داخل ہوا تھا۔ وزارت نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا ڈرون کو مار گرایا گیا یا نہیں۔</p>
<p>ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی ان اڈوں کے خلاف کی گئی جو لارک پر حملے کے لیے امریکی طیاروں کی پرواز اور کارروائی میں معاونت کے لیے استعمال ہوئے تھے۔</p>
<p>ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ نے پیر کو پاسدارانِ انقلاب کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ پاسداران نے فضائی دفاعی میزائلوں کے ذریعے ایک امریکی ڈرون مار گرایا، جو خلیج کے پانیوں میں جاگرا۔</p>
<p>ایران کے سرکاری ٹی وی نے پاسدارانِ انقلاب کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک سپر ٹینکر دو بحری بارودی سرنگوں کی زد میں آنے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگیا اور مکمل طور پر رک گیا۔</p>
<p><strong>ایران پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ</strong></p>
<p>ٹرمپ جنگ کے آغاز پر مقرر کیے گئے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں تاحال ناکام رہے ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا، علاقائی حریفوں پر حملہ کرنے کی اس کی صلاحیت محدود کرنا اور ایرانی عوام کے لیے اپنے مذہبی حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے حالات پیدا کرنا شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو رائٹرز کو بتایا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے تحت نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان غالباً ہر ہفتے کیا جائے گا، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔</p>
<p>یورپی یونین نے پیر کو کہا کہ وہ ایران پر معاشی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے امریکا اور دیگر فریقوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔</p>
<p>سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بارودی سرنگوں کی زد میں آکر آگ لگنے والا سپر ٹینکر غیر قانونی طور پر آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم جہاز یا اس کے عملے کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں دھماکے سے اڑا دی گئی ہیں یا ہٹا دی گئی ہیں اور ایران کو خبردار کیا گیا ہے کہ نئی بارودی سرنگیں بچھانے والے کسی بھی جہاز کو تباہ کردیا جائے گا۔ ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290675</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Aug 2026 21:09:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/31210416c2dc3ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/31210416c2dc3ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
