<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت پاکستان کے ساتھ آبی معاہدے کی پاسداری کرے، ثالثی عدالت کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290670/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مستقل ثالثی عدالت نے کہا ہے کہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک پن بجلی منصوبے پر کام محدود اور پاکستان کے ساتھ آبی تقسیم کے معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی، جسے اس نے پڑوسی ملک کے ساتھ کشیدگی کے باعث معطل کردیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیگ میں قائم عدالت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے، کیونکہ بھارت کے پاس اس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر جولائی 2027 تک فیصلہ کرے گا کہ ہمالیائی خطے میں پن بجلی منصوبوں کی تعمیر معاہدے کی شرائط کے مطابق ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے پاکستان کے ساتھ آبی معاہدے سے متعلق عدالت کا فیصلہ مسترد کردیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے مستقل ثالثی عدالت کے اس حکم کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا، جس میں اسے پاکستان کے ساتھ آبی تقسیم کے معاہدے کی پاسداری کرنے کا کہا گیا تھا۔ نئی دہلی نے پڑوسی ملک کے ساتھ سفارتی کشیدگی کے باعث یہ معاہدہ معطل کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ نے ہیگ میں قائم عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو 2025 میں معطل رکھنے کا بھارت کا فیصلہ بدستور نافذالعمل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مستقل ثالثی عدالت نے کہا ہے کہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک پن بجلی منصوبے پر کام محدود اور پاکستان کے ساتھ آبی تقسیم کے معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی، جسے اس نے پڑوسی ملک کے ساتھ کشیدگی کے باعث معطل کردیا تھا۔</strong></p>
<p>ہیگ میں قائم عدالت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے، کیونکہ بھارت کے پاس اس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر جولائی 2027 تک فیصلہ کرے گا کہ ہمالیائی خطے میں پن بجلی منصوبوں کی تعمیر معاہدے کی شرائط کے مطابق ہے یا نہیں۔</p>
<p><strong>بھارت نے پاکستان کے ساتھ آبی معاہدے سے متعلق عدالت کا فیصلہ مسترد کردیا</strong></p>
<p>بھارت نے مستقل ثالثی عدالت کے اس حکم کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا، جس میں اسے پاکستان کے ساتھ آبی تقسیم کے معاہدے کی پاسداری کرنے کا کہا گیا تھا۔ نئی دہلی نے پڑوسی ملک کے ساتھ سفارتی کشیدگی کے باعث یہ معاہدہ معطل کردیا تھا۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ نے ہیگ میں قائم عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو 2025 میں معطل رکھنے کا بھارت کا فیصلہ بدستور نافذالعمل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290670</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Sep 2026 09:55:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/31165705a48ed2c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/31165705a48ed2c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
