<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی کی طویل لوڈ مینجمنٹ، پٹرولیم ڈویژن کو بالواسطہ ذمہ دار قرار دے دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290610/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن نے ہفتے کو ملک بھر میں طویل دورانیے کی بجلی کی بندش کی ذمہ داری بالواسطہ طور پر پٹرولیم ڈویژن پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں آر ایل این جی پر چلنے والے 3 بجلی گھروں کو درکار ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قلت کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کو قطر سے معاہدہ شدہ گیس کی فراہمی فورس میجر کی صورتحال کے باعث معطل ہونے کے بعد اسپاٹ مارکیٹ سے آر ایل این جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آر ایل این جی کارگو کی آمد میں تاخیر نے ایندھن کی قلت کو مزید سنگین کردیا، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 6 سے 16 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔ صورتحال اس وجہ سے بھی پیچیدہ ہوگئی ہے کہ جنوبی علاقوں میں دستیاب بجلی کو محدود ترسیلی صلاحیت کے باعث مکمل طور پر شمالی علاقوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاور ڈویژن نے کہا کہ آر ایل این جی کی عدم دستیابی اور ایک کارگو کی تاخیر سے آمد کے باعث رات کے اوقات میں طلب کے عروج کے دوران تقریباً 1.5 سے 3 گھنٹے کی عارضی لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق آر ایل این جی کی عدم دستیابی سے بجلی کی پیداوار میں تقریباً 3,600 میگاواٹ کمی ہوئی، جبکہ منگلا ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیداوار بھی تقریباً 195 میگاواٹ کم ہوگئی۔ پیداوار میں مجموعی کمی نے بجلی کی طلب اور رسد میں فرق مزید بڑھا دیا، جس کے باعث رات کے اوقات میں عارضی لوڈ مینجمنٹ ضروری ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شارٹ فال کو جزوی طور پر پورا کرنے کے لیے فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھر بھی طلب کے عروج کے اوقات میں فعال کیے گئے، تاہم متبادل ذرائع سے حاصل ہونے والی پیداوار آر ایل این جی پر چلنے والے بجلی گھروں کی کمی کو مکمل طور پر پورا نہ کرسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے کہا کہ آر ایل این جی کارگو پہنچنے اور بجلی کی پیداوار بہتر ہونے کے ساتھ ہی عارضی لوڈ مینجمنٹ کم کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ آر ایل این جی سے متعلق پیداوار میں کمی کے باعث دن کے اوقات میں کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی۔ تاہم زیادہ ترسیلی نقصانات والے علاقوں میں مقررہ شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے رات کے اوقات میں عارضی لوڈ مینجمنٹ پر صارفین سے معذرت کرتے ہوئے انہیں بجلی کے استعمال میں بالخصوص زیادہ طلب کے اوقات میں احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق بجلی کی فراہمی میں بہتری کا انحصار آر ایل این جی کارگو کی بروقت آمد اور متاثرہ بجلی گھروں میں پیداوار کی بحالی پر ہے۔ یہ صورتحال ایک بار پھر پاکستان کے بجلی پیدا کرنے کے نظام میں ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں اور موجودہ ترسیلی نظام کی محدود صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن نے ہفتے کو ملک بھر میں طویل دورانیے کی بجلی کی بندش کی ذمہ داری بالواسطہ طور پر پٹرولیم ڈویژن پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں آر ایل این جی پر چلنے والے 3 بجلی گھروں کو درکار ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قلت کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔</strong></p>
<p>باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کو قطر سے معاہدہ شدہ گیس کی فراہمی فورس میجر کی صورتحال کے باعث معطل ہونے کے بعد اسپاٹ مارکیٹ سے آر ایل این جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آر ایل این جی کارگو کی آمد میں تاخیر نے ایندھن کی قلت کو مزید سنگین کردیا، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 6 سے 16 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔ صورتحال اس وجہ سے بھی پیچیدہ ہوگئی ہے کہ جنوبی علاقوں میں دستیاب بجلی کو محدود ترسیلی صلاحیت کے باعث مکمل طور پر شمالی علاقوں تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>تاہم پاور ڈویژن نے کہا کہ آر ایل این جی کی عدم دستیابی اور ایک کارگو کی تاخیر سے آمد کے باعث رات کے اوقات میں طلب کے عروج کے دوران تقریباً 1.5 سے 3 گھنٹے کی عارضی لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق آر ایل این جی کی عدم دستیابی سے بجلی کی پیداوار میں تقریباً 3,600 میگاواٹ کمی ہوئی، جبکہ منگلا ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیداوار بھی تقریباً 195 میگاواٹ کم ہوگئی۔ پیداوار میں مجموعی کمی نے بجلی کی طلب اور رسد میں فرق مزید بڑھا دیا، جس کے باعث رات کے اوقات میں عارضی لوڈ مینجمنٹ ضروری ہوگئی۔</p>
<p>شارٹ فال کو جزوی طور پر پورا کرنے کے لیے فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھر بھی طلب کے عروج کے اوقات میں فعال کیے گئے، تاہم متبادل ذرائع سے حاصل ہونے والی پیداوار آر ایل این جی پر چلنے والے بجلی گھروں کی کمی کو مکمل طور پر پورا نہ کرسکی۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے کہا کہ آر ایل این جی کارگو پہنچنے اور بجلی کی پیداوار بہتر ہونے کے ساتھ ہی عارضی لوڈ مینجمنٹ کم کردی جائے گی۔</p>
<p>ترجمان پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ آر ایل این جی سے متعلق پیداوار میں کمی کے باعث دن کے اوقات میں کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی۔ تاہم زیادہ ترسیلی نقصانات والے علاقوں میں مقررہ شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کی جارہی ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے رات کے اوقات میں عارضی لوڈ مینجمنٹ پر صارفین سے معذرت کرتے ہوئے انہیں بجلی کے استعمال میں بالخصوص زیادہ طلب کے اوقات میں احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق بجلی کی فراہمی میں بہتری کا انحصار آر ایل این جی کارگو کی بروقت آمد اور متاثرہ بجلی گھروں میں پیداوار کی بحالی پر ہے۔ یہ صورتحال ایک بار پھر پاکستان کے بجلی پیدا کرنے کے نظام میں ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں اور موجودہ ترسیلی نظام کی محدود صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290610</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Aug 2026 11:30:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/30112841fef0f4b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/30112841fef0f4b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
