<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:57:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:57:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لسٹڈ بینکوں کا دوسری سہ ماہی میں 168 ارب روپے منافع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290588/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے لسٹڈ بینکوں نے رواں کیلنڈر سال کی دوسری سہ ماہی میں 168 ارب روپے کا منافع رپورٹ کیا جو سالانہ بنیاد پر مستحکم رہا، تاہم سہ ماہی بنیاد پر 4 فیصد کم ہے۔ اس کے نتیجے میں رواں سال کی پہلی ششماہی کی مجموعی آمدن 342 ارب روپے ہوگئی جو سالانہ بنیاد پر مستحکم رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سہ ماہی بنیاد پر منافع میں کمی کی وجہ نان انٹرسٹ اخراجات میں 7 فیصد اضافے کے ساتھ 361 ارب روپے ہونا اور خالص سودی آمدن میں 2 فیصد کمی کے بعد 527 ارب روپے رہنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمی کا جزوی ازالہ نان انٹرسٹ آمدن میں سہ ماہی بنیاد پر 4 فیصد اضافے سے ہوا جو بڑھ کر 177 ارب روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خالص سودی آمدن میں سالانہ اور سہ ماہی دونوں بنیادوں پر 2 فیصد کمی ہوئی جبکہ 2026ء کی پہلی ششماہی میں یہ سالانہ بنیاد پر 1 فیصد کم رہی۔ اس کمی کی وجہ اپریل 2026ء میں شرحِ سود میں اضافے کے اثرات کا تاخیر سے ظاہر ہونا ہے تاہم بینکوں کی کرنٹ اکاؤنٹ ڈپازٹس پر توجہ اور حجم میں اضافے نے اس کمی کو کسی حد تک کم کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن بینکوں نے سالانہ بنیاد پر خالص سودی آمدن  میں نسبتاً زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا، ان میں جے ایس بینک ، بینک آف پنجاب، بینک الفلاح اور عسکری بینک  شامل ہیں جن کی NII میں 6 سے 24 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ دوسری جانب سمبا بینک ، ایس این بی ایل، نیشنل بینک اور حبیب میٹروپولیٹن بینک کی خالص سودی آمدن میں سالانہ بنیاد پر 16 سے 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نان انٹرسٹ آمدن سالانہ بنیاد پر 23 فیصد اور سہ ماہی بنیاد پر 4 فیصد بڑھ کر 177 ارب روپے ہوگئی جس کی بنیادی وجہ زرمبادلہ  سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ ہے۔ عسکری بینک ، یونائیٹڈ بینک، بینک الحبیب اور ایم سی بی بینک کی نان انٹرسٹ آمدن میں بالترتیب 128 فیصد، 87 فیصد، 49 فیصد اور 29 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نان انٹرسٹ اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 15 فیصد اور سہ ماہی بنیاد پر 7 فیصد اضافہ ہوا۔ شعبے کا کاسٹ ٹو انکم تناسب 51.3 فیصد رہا جو گزشتہ سہ ماہی میں 48.0 فیصد اور 2025ء کی دوسری سہ ماہی میں 45.9 فیصد تھا۔ عسکری بینک، یونائیٹڈ بینک ، میزان بینک اور بینک الحبیب کے اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 20 سے 41 فیصد کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجوہات برانچ نیٹ ورک میں توسیع اور مہنگائی کے باعث عملے کے اخراجات میں اضافہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری شعبے نے 2026ء کی دوسری سہ ماہی (2Q2026) میں 6.2 ارب روپے کی پروویژن ریورسل ریکارڈ کی جبکہ 2025ء کی دوسری سہ ماہی میں 8 ارب روپے اور 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں 1.8 ارب روپے کی پروویژن ریورسل ہوئی تھی۔ یہ بنیادی طور پر یونائیٹڈ بینک  کی جانب سے 3.8 ارب روپے کی پروویژن ریورسل کے باعث ہے۔ اسے نکال دیا جائے تو شعبے کی پروویژن ریورسل 2.4 ارب روپے بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026ء کی دوسری سہ ماہی میں مؤثر ٹیکس کی شرح 52.5 فیصد رہی، جبکہ 2025ء کی دوسری سہ ماہی  میں یہ 55.8 فیصد اور 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں 52.4 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں کے لحاظ سے یونائیٹڈ بینک  نے 2026ء کی دوسری سہ ماہی میں 37.5 ارب روپے کی آمدن کے ساتھ شعبے میں سبقت حاصل کی، اس کے بعد میزان بینک  26.2 ارب روپے، حبیب بینک 18.4 ارب روپے، نیشنل بینک آف پاکستان  16.6 ارب روپے اور ایم سی بی بینک  15.0 ارب روپے کی آمدن کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آمدن میں اضافے کے لحاظ سے جے ایس بینک  نے سالانہ بنیاد پر 704 فیصد کے اضافے کے ساتھ سب سے زیادہ نمو ریکارڈ کی جس کی بنیادی وجہ کم تقابلی بنیاد  تھی۔ اس کے بعد عسکری بینک  91 فیصد، یونائیٹڈ بینک  31 فیصد اور بینک الفلاح  27 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بینک آف خیبر ، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک ، حبیب میٹروپولیٹن بینک اور نیشنل بینک آف پاکستان  کی آمدن میں سالانہ بنیاد پر 21 سے 74 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بینک مکرمہ  نے 3.9 ارب روپے کا خسارہ رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے لسٹڈ بینکوں نے رواں کیلنڈر سال کی دوسری سہ ماہی میں 168 ارب روپے کا منافع رپورٹ کیا جو سالانہ بنیاد پر مستحکم رہا، تاہم سہ ماہی بنیاد پر 4 فیصد کم ہے۔ اس کے نتیجے میں رواں سال کی پہلی ششماہی کی مجموعی آمدن 342 ارب روپے ہوگئی جو سالانہ بنیاد پر مستحکم رہی۔</strong></p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سہ ماہی بنیاد پر منافع میں کمی کی وجہ نان انٹرسٹ اخراجات میں 7 فیصد اضافے کے ساتھ 361 ارب روپے ہونا اور خالص سودی آمدن میں 2 فیصد کمی کے بعد 527 ارب روپے رہنا ہے۔</p>
<p>اس کمی کا جزوی ازالہ نان انٹرسٹ آمدن میں سہ ماہی بنیاد پر 4 فیصد اضافے سے ہوا جو بڑھ کر 177 ارب روپے ہوگئی۔</p>
<p>خالص سودی آمدن میں سالانہ اور سہ ماہی دونوں بنیادوں پر 2 فیصد کمی ہوئی جبکہ 2026ء کی پہلی ششماہی میں یہ سالانہ بنیاد پر 1 فیصد کم رہی۔ اس کمی کی وجہ اپریل 2026ء میں شرحِ سود میں اضافے کے اثرات کا تاخیر سے ظاہر ہونا ہے تاہم بینکوں کی کرنٹ اکاؤنٹ ڈپازٹس پر توجہ اور حجم میں اضافے نے اس کمی کو کسی حد تک کم کردیا۔</p>
<p>جن بینکوں نے سالانہ بنیاد پر خالص سودی آمدن  میں نسبتاً زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا، ان میں جے ایس بینک ، بینک آف پنجاب، بینک الفلاح اور عسکری بینک  شامل ہیں جن کی NII میں 6 سے 24 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ دوسری جانب سمبا بینک ، ایس این بی ایل، نیشنل بینک اور حبیب میٹروپولیٹن بینک کی خالص سودی آمدن میں سالانہ بنیاد پر 16 سے 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>نان انٹرسٹ آمدن سالانہ بنیاد پر 23 فیصد اور سہ ماہی بنیاد پر 4 فیصد بڑھ کر 177 ارب روپے ہوگئی جس کی بنیادی وجہ زرمبادلہ  سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ ہے۔ عسکری بینک ، یونائیٹڈ بینک، بینک الحبیب اور ایم سی بی بینک کی نان انٹرسٹ آمدن میں بالترتیب 128 فیصد، 87 فیصد، 49 فیصد اور 29 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>نان انٹرسٹ اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 15 فیصد اور سہ ماہی بنیاد پر 7 فیصد اضافہ ہوا۔ شعبے کا کاسٹ ٹو انکم تناسب 51.3 فیصد رہا جو گزشتہ سہ ماہی میں 48.0 فیصد اور 2025ء کی دوسری سہ ماہی میں 45.9 فیصد تھا۔ عسکری بینک، یونائیٹڈ بینک ، میزان بینک اور بینک الحبیب کے اخراجات میں سالانہ بنیاد پر 20 سے 41 فیصد کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجوہات برانچ نیٹ ورک میں توسیع اور مہنگائی کے باعث عملے کے اخراجات میں اضافہ ہیں۔</p>
<p>بینکاری شعبے نے 2026ء کی دوسری سہ ماہی (2Q2026) میں 6.2 ارب روپے کی پروویژن ریورسل ریکارڈ کی جبکہ 2025ء کی دوسری سہ ماہی میں 8 ارب روپے اور 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں 1.8 ارب روپے کی پروویژن ریورسل ہوئی تھی۔ یہ بنیادی طور پر یونائیٹڈ بینک  کی جانب سے 3.8 ارب روپے کی پروویژن ریورسل کے باعث ہے۔ اسے نکال دیا جائے تو شعبے کی پروویژن ریورسل 2.4 ارب روپے بنتی ہے۔</p>
<p>2026ء کی دوسری سہ ماہی میں مؤثر ٹیکس کی شرح 52.5 فیصد رہی، جبکہ 2025ء کی دوسری سہ ماہی  میں یہ 55.8 فیصد اور 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں 52.4 فیصد تھی۔</p>
<p>بینکوں کے لحاظ سے یونائیٹڈ بینک  نے 2026ء کی دوسری سہ ماہی میں 37.5 ارب روپے کی آمدن کے ساتھ شعبے میں سبقت حاصل کی، اس کے بعد میزان بینک  26.2 ارب روپے، حبیب بینک 18.4 ارب روپے، نیشنل بینک آف پاکستان  16.6 ارب روپے اور ایم سی بی بینک  15.0 ارب روپے کی آمدن کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>آمدن میں اضافے کے لحاظ سے جے ایس بینک  نے سالانہ بنیاد پر 704 فیصد کے اضافے کے ساتھ سب سے زیادہ نمو ریکارڈ کی جس کی بنیادی وجہ کم تقابلی بنیاد  تھی۔ اس کے بعد عسکری بینک  91 فیصد، یونائیٹڈ بینک  31 فیصد اور بینک الفلاح  27 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>دوسری جانب بینک آف خیبر ، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک ، حبیب میٹروپولیٹن بینک اور نیشنل بینک آف پاکستان  کی آمدن میں سالانہ بنیاد پر 21 سے 74 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بینک مکرمہ  نے 3.9 ارب روپے کا خسارہ رپورٹ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290588</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Aug 2026 15:27:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2915255229b08a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2915255229b08a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
