<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف جائزہ: پاکستان تمام اہداف پورے کرنے میں کامیاب رہے گا، عارف حبیب لمیٹڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290584/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عارف حبیب لمیٹڈ نے ہفتے کو کہا ہے کہ پاکستان رواں ماہ کے آخر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے متوقع جائزے سے قبل اپنے جاری پروگرام کے تحت طے کیے گئے سات مقداری کارکردگی کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس نے اپنی رپورٹ بعنوان پاکستان کا معاشی منظرنامہ میں کہا کہ دستیاب اعدادوشمار کی بنیاد پر ہمارا ماننا ہے کہ پاکستان ساتوں مقداری کارکردگی کے تقریباً تمام اہداف پورے کرنے کی راہ پر گامزن ہے تاہم ایک اعدادوشمار ابھی جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ مقداری کارکردگی کے اہداف پروگرام کے سخت معیارات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے ان کی تکمیل جائزے کے کامیاب انعقاد کی راہ ہموار کرے گی اور اہداف میں نرمی یا کسی بڑی رکاوٹ کے امکانات محدود ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا اسٹاف مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا جہاں ای ایف ایف پروگرام کے تحت چوتھے جائزے اور آر ایس ایف کے تحت دوسرے جائزے پر بات چیت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے مئی میں گزشتہ جائزے کا مرحلہ مکمل کرتے ہوئے ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1.1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 220 ملین ڈالر جاری کیے جس کے بعد دونوں پروگرامز کے تحت مجموعی طور پر جاری کی جانے والی رقم تقریباً 4.8 ارب ڈالر ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایچ ایل کے مطابق اس جائزے کو اہم بنانے والی بات مالی رقم نہیں بلکہ اس کا وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہماری رائے میں آئندہ جائزہ نئی یقین دہانیاں حاصل کرنے سے زیادہ اصلاحات اور اقدامات پر مسلسل عمل درآمد کا مظاہرہ کرنے سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ موڈیز اور ایس اینڈ پی کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری اور پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کے بعد یہ پہلا مکمل جائزہ بھی ہے۔ کامیاب اور بغیر کسی رکاوٹ کے جائزہ اس تاثر کو مزید مضبوط کرے گا کہ پاکستان کی بہتر کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی مالی منڈیوں تک رسائی محض بنیادی معاشی عوامل سے آگے بڑھنے کے بجائے اصلاحات میں حقیقی پیش رفت کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اہداف پورے کرنا ہمیشہ پاکستان کی مضبوطی نہیں رہی۔ ایف بی آر نے مالی سال 2026 میں محصولات کی وصولی کا ہدف 1.1 ٹریلین روپے کم حاصل کیا جبکہ ابتدائی ہدف 14.1 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایچ ایل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ محصولات کی وصولی میں دوبارہ کمی مالی سال 2027 کے مالی حساب کتاب پر دباؤ ڈالے گی۔ یہ پس منظر اس لیے اہم ہے کہ بروکریج ہاؤس کی پیش گوئی کے مطابق مالی سال 2027 میں مالی خسارہ بڑھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمیں توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں مالی خسارہ مالی سال 2026 کے 2.6 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر جی ڈی پی کا 3.9 فیصد ہوجائے گا جبکہ بنیادی مالی سرپلس جی ڈی پی کے 2.0 فیصد پر مثبت رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ آئی ایم ایف کا مشن اپنے آئندہ دورے کے دوران جنوری تا جون  پاکستان کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا اور ای ایف ایف کے ساتھ ساتھ آر ایس ایف کے تحت اگلی قسط کے اجرا کے لیے مذاکرات شروع کرے گا۔ مشن ٹیکس وصولیوں، توانائی شعبے میں اصلاحات اور نجکاری پروگرام پر پیش رفت کا بھی جائزہ لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے بعد آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان عملے کی سطح پر معاہدے پر پہنچنے کی توقع ہے، یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر اورآر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عارف حبیب لمیٹڈ نے ہفتے کو کہا ہے کہ پاکستان رواں ماہ کے آخر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے متوقع جائزے سے قبل اپنے جاری پروگرام کے تحت طے کیے گئے سات مقداری کارکردگی کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا ۔</strong></p>
<p>بروکریج ہاؤس نے اپنی رپورٹ بعنوان پاکستان کا معاشی منظرنامہ میں کہا کہ دستیاب اعدادوشمار کی بنیاد پر ہمارا ماننا ہے کہ پاکستان ساتوں مقداری کارکردگی کے تقریباً تمام اہداف پورے کرنے کی راہ پر گامزن ہے تاہم ایک اعدادوشمار ابھی جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ مقداری کارکردگی کے اہداف پروگرام کے سخت معیارات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے ان کی تکمیل جائزے کے کامیاب انعقاد کی راہ ہموار کرے گی اور اہداف میں نرمی یا کسی بڑی رکاوٹ کے امکانات محدود ہوجائیں گے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا اسٹاف مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا جہاں ای ایف ایف پروگرام کے تحت چوتھے جائزے اور آر ایس ایف کے تحت دوسرے جائزے پر بات چیت کی جائے گی۔</p>
<p>فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے مئی میں گزشتہ جائزے کا مرحلہ مکمل کرتے ہوئے ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1.1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 220 ملین ڈالر جاری کیے جس کے بعد دونوں پروگرامز کے تحت مجموعی طور پر جاری کی جانے والی رقم تقریباً 4.8 ارب ڈالر ہوگئی۔</p>
<p>اے ایچ ایل کے مطابق اس جائزے کو اہم بنانے والی بات مالی رقم نہیں بلکہ اس کا وقت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہماری رائے میں آئندہ جائزہ نئی یقین دہانیاں حاصل کرنے سے زیادہ اصلاحات اور اقدامات پر مسلسل عمل درآمد کا مظاہرہ کرنے سے متعلق ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ موڈیز اور ایس اینڈ پی کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری اور پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کے بعد یہ پہلا مکمل جائزہ بھی ہے۔ کامیاب اور بغیر کسی رکاوٹ کے جائزہ اس تاثر کو مزید مضبوط کرے گا کہ پاکستان کی بہتر کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی مالی منڈیوں تک رسائی محض بنیادی معاشی عوامل سے آگے بڑھنے کے بجائے اصلاحات میں حقیقی پیش رفت کی عکاس ہے۔</p>
<p>تاہم اہداف پورے کرنا ہمیشہ پاکستان کی مضبوطی نہیں رہی۔ ایف بی آر نے مالی سال 2026 میں محصولات کی وصولی کا ہدف 1.1 ٹریلین روپے کم حاصل کیا جبکہ ابتدائی ہدف 14.1 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>اے ایچ ایل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ محصولات کی وصولی میں دوبارہ کمی مالی سال 2027 کے مالی حساب کتاب پر دباؤ ڈالے گی۔ یہ پس منظر اس لیے اہم ہے کہ بروکریج ہاؤس کی پیش گوئی کے مطابق مالی سال 2027 میں مالی خسارہ بڑھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمیں توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں مالی خسارہ مالی سال 2026 کے 2.6 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر جی ڈی پی کا 3.9 فیصد ہوجائے گا جبکہ بنیادی مالی سرپلس جی ڈی پی کے 2.0 فیصد پر مثبت رہے گا۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ آئی ایم ایف کا مشن اپنے آئندہ دورے کے دوران جنوری تا جون  پاکستان کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا اور ای ایف ایف کے ساتھ ساتھ آر ایس ایف کے تحت اگلی قسط کے اجرا کے لیے مذاکرات شروع کرے گا۔ مشن ٹیکس وصولیوں، توانائی شعبے میں اصلاحات اور نجکاری پروگرام پر پیش رفت کا بھی جائزہ لے گا۔</p>
<p>دورے کے بعد آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان عملے کی سطح پر معاہدے پر پہنچنے کی توقع ہے، یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔</p>
<p>منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر اورآر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290584</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Aug 2026 14:28:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/291258266157cbf.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/291258266157cbf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
