<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:53:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:53:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پابندیوں اور بحری ناکہ بندی سے ایرانی تجارت 35 فیصد سکڑ گئی، صدر مسعود پزشکیان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290583/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی قیادت نے امریکا کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرے جبکہ صدر نے بتایا ہے کہ امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے باعث ایران کی بیرونی تجارت میں 35 فیصد کمی ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتباہات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے دیگر رہنما امریکا کو فوجی جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اعلان کررہے ہیں کہ ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے جو ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت کے باعث ایران کو دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کو چھ ماہ مکمل ہوچکے اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، ایسے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو مالی طور پر سزا دینے کی کوششیں تیز کردی ہیں جسے اس نے اقتصادی ڈی ڈے قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن نے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط ختم کریں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے چین اور بھارت جیسے ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا ہے کیونکہ اس اقدام کے امریکا اور عالمی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خزانہ نے تہران کے ساتھ کاروباری لین دین کرنے پر مصر کے بینک  پر پابندیاں عائد کردیں اور ایک ضابطہ تجویز کیا جس کے تحت متحدہ عرب امارات میں بینک کی شاخوں کو ڈالر میں لین دین سے محروم کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ وہ اور وزارت خارجہ اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں جبکہ اس نے واضح کیا کہ یہ اقدام صرف بینک مصر یو اے ای کے نمائندہ بینکوں کے ساتھ امریکی ڈالر میں ہونے والے لین دین تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خزانہ کے حکام نے الگ سے ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے بینک ملی سے منسلک ایک شخص کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری نوٹس کے مطابق یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پابندیوں کی اس مہم نے ایران کی معیشت پر جنگ کے اثرات کو مزید سنگین کردیا ہے جہاں گزشتہ ماہ سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا کہ وہ معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری بیان میں کہا گیا کہ مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں کے نظم و نسق اور اشیا و خدمات کی منڈی جیسے معاشی اور روزمرہ زندگی سے متعلق چیلنجز کے سلسلے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات اور درآمدات میں تقریباً 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے کہا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مختصر مدتی مفاہمتی معاہدے کے دوران جب واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی، ایران تقریباً 90 ملین بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی جانب سے اپنی معاشی دباؤ کی مہم پر توجہ مرکوز کیے جانے کے دوران دیگر فریقوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی قیادت نے امریکا کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرے جبکہ صدر نے بتایا ہے کہ امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے باعث ایران کی بیرونی تجارت میں 35 فیصد کمی ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>یہ انتباہات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے دیگر رہنما امریکا کو فوجی جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اعلان کررہے ہیں کہ ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے جو ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت کے باعث ایران کو دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>جنگ کو چھ ماہ مکمل ہوچکے اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، ایسے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو مالی طور پر سزا دینے کی کوششیں تیز کردی ہیں جسے اس نے اقتصادی ڈی ڈے قرار دیا ہے۔</p>
<p>واشنگٹن نے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط ختم کریں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے چین اور بھارت جیسے ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا ہے کیونکہ اس اقدام کے امریکا اور عالمی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے تھے۔</p>
<p>امریکی محکمہ خزانہ نے تہران کے ساتھ کاروباری لین دین کرنے پر مصر کے بینک  پر پابندیاں عائد کردیں اور ایک ضابطہ تجویز کیا جس کے تحت متحدہ عرب امارات میں بینک کی شاخوں کو ڈالر میں لین دین سے محروم کردیا جائے گا۔</p>
<p>مصر کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ وہ اور وزارت خارجہ اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں جبکہ اس نے واضح کیا کہ یہ اقدام صرف بینک مصر یو اے ای کے نمائندہ بینکوں کے ساتھ امریکی ڈالر میں ہونے والے لین دین تک محدود ہے۔</p>
<p>امریکی محکمہ خزانہ کے حکام نے الگ سے ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے بینک ملی سے منسلک ایک شخص کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری نوٹس کے مطابق یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔</p>
<p>پابندیوں کی اس مہم نے ایران کی معیشت پر جنگ کے اثرات کو مزید سنگین کردیا ہے جہاں گزشتہ ماہ سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
<p>سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا کہ وہ معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے۔</p>
<p>خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری بیان میں کہا گیا کہ مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں کے نظم و نسق اور اشیا و خدمات کی منڈی جیسے معاشی اور روزمرہ زندگی سے متعلق چیلنجز کے سلسلے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات اور درآمدات میں تقریباً 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے کہا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مختصر مدتی مفاہمتی معاہدے کے دوران جب واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی، ایران تقریباً 90 ملین بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔</p>
<p>امریکا کی جانب سے اپنی معاشی دباؤ کی مہم پر توجہ مرکوز کیے جانے کے دوران دیگر فریقوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290583</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Aug 2026 14:18:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2914061816e8889.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2914061816e8889.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
