<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 19:55:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 19:55:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کی نئی امریکی اقتصادی پابندیوں کی شدید مذمت، ریاستی دہشت گردی قرار دے دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290576/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے جمعہ کو امریکا کی جانب سے عائد کی گئی نئی اقتصادی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ریاستی دہشت گردی قرار دیا جبکہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات پر پابندی عائد کر رہے ہیں جو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ مزید مالی مشکلات ملک میں بے چینی کو جنم دے سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کو اب چھ ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، ایسے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو مالی طور پر مفلوج کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں جسے اس نے اقتصادی ڈی ڈے کا نام دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پابندیوں کی مہم ایرانی معیشت پر جنگ کے اثرات کو مزید سنگین کررہی ہے جہاں گزشتہ ماہ سالانہ افراطِ زر کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی بدستور تنازع کا سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے۔ واشنگٹن نے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کردیں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے فی الحال عملی طور پر کوئی جرمانہ یا پابندی عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ تہران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کریں۔ وزارت نے مزید کہا کہ ان پابندیوں میں شرکت کا مطلب ایک ریاست کی غیر قانونی مرضی کو آزاد ریاستوں پر مسلط کرنے میں معاونت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے امریکا کے نئے اقدامات کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کی صحت اور روزگار کو سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ دیگر ممالک اور اقوام متحدہ کے اداروں سے قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعہ کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ انہوں نے حکام کو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام سے روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے حوصلہ شکن بیانات سے گریز کریں جو قومی اور عوامی جذبے کو کمزور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا کہ وہ معاشی اور عوام کے روزمرہ اخراجات سے متعلق مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ مصر کے بینک مسر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں پر تہران کے ساتھ کاروبار کرنے کے باعث پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ عہدیدار کے مطابق اگر مجوزہ ضابطے کو حتمی شکل دے دی گئی تو بینک مسر یو اے ای کی امریکی مالیاتی اداروں کے ذریعے لین دین کی سہولت حاصل کرنے کی صلاحیت ختم کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے جمعہ کو امریکا کی جانب سے عائد کی گئی نئی اقتصادی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ریاستی دہشت گردی قرار دیا جبکہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات پر پابندی عائد کر رہے ہیں جو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ مزید مالی مشکلات ملک میں بے چینی کو جنم دے سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>جنگ کو اب چھ ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، ایسے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو مالی طور پر مفلوج کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں جسے اس نے اقتصادی ڈی ڈے کا نام دیا ہے۔</p>
<p>پابندیوں کی مہم ایرانی معیشت پر جنگ کے اثرات کو مزید سنگین کررہی ہے جہاں گزشتہ ماہ سالانہ افراطِ زر کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
<p>آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی بدستور تنازع کا سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے۔ واشنگٹن نے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کردیں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے فی الحال عملی طور پر کوئی جرمانہ یا پابندی عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔</p>
<p>ایران کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ تہران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کریں۔ وزارت نے مزید کہا کہ ان پابندیوں میں شرکت کا مطلب ایک ریاست کی غیر قانونی مرضی کو آزاد ریاستوں پر مسلط کرنے میں معاونت کرنا ہے۔</p>
<p>ایران نے امریکا کے نئے اقدامات کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کی صحت اور روزگار کو سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ دیگر ممالک اور اقوام متحدہ کے اداروں سے قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>اسپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعہ کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ انہوں نے حکام کو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام سے روک دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے حوصلہ شکن بیانات سے گریز کریں جو قومی اور عوامی جذبے کو کمزور کرتے ہیں۔</p>
<p>خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا کہ وہ معاشی اور عوام کے روزمرہ اخراجات سے متعلق مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے۔</p>
<p>جمعہ کو بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ مصر کے بینک مسر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں پر تہران کے ساتھ کاروبار کرنے کے باعث پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ عہدیدار کے مطابق اگر مجوزہ ضابطے کو حتمی شکل دے دی گئی تو بینک مسر یو اے ای کی امریکی مالیاتی اداروں کے ذریعے لین دین کی سہولت حاصل کرنے کی صلاحیت ختم کردی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290576</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Aug 2026 11:36:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/29112350351e352.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/29112350351e352.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
