<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا متنازع ٹیلی کام بل واپس لینے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290533/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے متنازع پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل، 2026 واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ مجوزہ ترامیم مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں، بالخصوص ٹیلی کام سیکٹر کو درپیش طویل عرصے سے حل طلب رائٹ آف وے کے مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل واپس لینے کا فیصلہ جمعہ (آج) سینیٹ میں باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا، جہاں وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ رول 115 کے تحت ایوان سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل، 2026 واپس لینے کی اجازت طلب کریں گی۔ یہ بل 15 جون 2026 کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ ترامیم کے تحت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ، 1996 میں رائٹ آف وے کے فریم ورک میں نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں، جن میں انڈیپنڈنٹ پرائیویٹ پراپرٹی، کامن ڈیولپمنٹ پراپرٹی اور پبلک پراپرٹی کے لیے الگ الگ طریقہ کار وضع کرنا شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک اہم متنازع شق کے تحت آزاد نجی ملکیت پر رائٹ آف وے حاصل کرنے والے ٹیلی کام لائسنس یافتگان کے لیے جائیداد کے مالک کی پیشگی تحریری رضامندی حاصل کرنا اور شرائط و ضوابط پر مشتمل تحریری معاہدہ کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فریقین کے درمیان معاہدہ نہ ہو پاتا تو لائسنس یافتہ کو ایسی جائیداد پر رائٹ آف وے استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامن ڈیولپمنٹ پراپرٹی، جس میں نجی رہائشی منصوبوں کی سڑکیں، گلیاں، یوٹیلیٹی کوریڈورز، پارکس اور دیگر مشترکہ جگہیں شامل ہیں، کے لیے مسودے میں وقت مقرر کرنے کا طریقہ کار تجویز کیا گیا تھا۔ اگر پراپرٹی مینیجر 30 دن کے اندر جواب نہ دیتا تو معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جاسکتا تھا، جو فریقین کو سننے کے بعد 45 دن میں فیصلہ کرنے کی پابند ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پبلک پراپرٹی کے لیے ٹیلی کام لائسنس یافتگان متعلقہ سرکاری ادارے سے منظوری حاصل کرتے۔ 30 دن کے اندر جواب نہ ملنے کی صورت میں معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جاسکتا تھا، جو 45 دن میں فیصلہ کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسودے میں کامن ڈیولپمنٹ اور پبلک پراپرٹی پر زیر زمین رائٹ آف وے کو کسی فیس یا چارج سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔ عارضی اوور گراؤنڈ تنصیبات کو بھی چارجز سے مستثنیٰ قرار دینے جبکہ پولز، اسمال سیلز اور ٹیلی کام لائنز جیسی مخصوص تنصیبات کو وفاقی حکومت کے قواعد کے تحت فیس سے استثنیٰ دینے کی تجویز تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم تجویز قانونی طور پر رائٹ آف وے ملنے کے بعد بلاجواز مداخلت سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ جائیداد کے مالکان، کامن ڈیولپمنٹ پراپرٹی مینیجرز اور سرکاری اداروں کو رائٹ آف وے کے استعمال میں بلاجواز رکاوٹ ڈالنے یا مداخلت کرنے سے روکا جانا تھا۔ دوسری جانب لائسنس یافتگان کو اپنے کام کے باعث ہونے والے نقصان کی فوری مرمت اور متاثرہ جگہوں کو بحال کرنا لازم قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسودے میں مزید تجویز کیا گیا تھا کہ مستقل عمارتوں کو ٹیلی کام کاموں کے لیے عمارت کے مالک یا مجاز شخص کی پیشگی تحریری رضامندی کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکے گا، خواہ رائٹ آف وے پہلے ہی منظور ہوچکا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قوانین پر عمل درآمد مؤثر بنانے کے لیے مجوزہ قانون میں ایسے افراد کے لیے جرمانے کی تجویز دی گئی تھی جو جان بوجھ کر کسی لائسنس یافتہ کو قانونی طور پر رائٹ آف وے استعمال کرنے سے روکتے ہیں۔ تنازعات نامزد ڈسٹرکٹ افسر کو بھیجے جانے تھے، جو 45 دن کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا، جبکہ فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر ٹریبونل میں اپیل کی جاسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حکومت نے بعد ازاں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ شکل میں بل مطلوبہ پالیسی اور ریگولیٹری نتائج فراہم نہیں کر رہا، جس کے باعث اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کی واپسی ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے اہم پیش رفت ہے، کیونکہ رائٹ آف وے اب بھی فائبر، موبائل انفرااسٹرکچر، اسمال سیلز اور دیگر ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی نیٹ ورکس کی تیز رفتار تنصیب میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز طویل عرصے سے واضح، یکساں اور سہولت فراہم کرنے والے رائٹ آف وے نظام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاکہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی تنصیب میں تاخیر، اخراجات اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے اس فیصلے سے رائٹ آف وے سے متعلق مسائل کے حل اور ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی تنصیب کے لیے قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے کے حوالے سے ایک نئے طریقہ کار کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے متنازع پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل، 2026 واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ مجوزہ ترامیم مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں، بالخصوص ٹیلی کام سیکٹر کو درپیش طویل عرصے سے حل طلب رائٹ آف وے کے مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔</strong></p>
<p>بل واپس لینے کا فیصلہ جمعہ (آج) سینیٹ میں باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا، جہاں وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ رول 115 کے تحت ایوان سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل، 2026 واپس لینے کی اجازت طلب کریں گی۔ یہ بل 15 جون 2026 کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>مجوزہ ترامیم کے تحت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ، 1996 میں رائٹ آف وے کے فریم ورک میں نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں، جن میں انڈیپنڈنٹ پرائیویٹ پراپرٹی، کامن ڈیولپمنٹ پراپرٹی اور پبلک پراپرٹی کے لیے الگ الگ طریقہ کار وضع کرنا شامل تھا۔</p>
<p>تاہم ایک اہم متنازع شق کے تحت آزاد نجی ملکیت پر رائٹ آف وے حاصل کرنے والے ٹیلی کام لائسنس یافتگان کے لیے جائیداد کے مالک کی پیشگی تحریری رضامندی حاصل کرنا اور شرائط و ضوابط پر مشتمل تحریری معاہدہ کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>اگر فریقین کے درمیان معاہدہ نہ ہو پاتا تو لائسنس یافتہ کو ایسی جائیداد پر رائٹ آف وے استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔</p>
<p>کامن ڈیولپمنٹ پراپرٹی، جس میں نجی رہائشی منصوبوں کی سڑکیں، گلیاں، یوٹیلیٹی کوریڈورز، پارکس اور دیگر مشترکہ جگہیں شامل ہیں، کے لیے مسودے میں وقت مقرر کرنے کا طریقہ کار تجویز کیا گیا تھا۔ اگر پراپرٹی مینیجر 30 دن کے اندر جواب نہ دیتا تو معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جاسکتا تھا، جو فریقین کو سننے کے بعد 45 دن میں فیصلہ کرنے کی پابند ہوتی۔</p>
<p>اسی طرح پبلک پراپرٹی کے لیے ٹیلی کام لائسنس یافتگان متعلقہ سرکاری ادارے سے منظوری حاصل کرتے۔ 30 دن کے اندر جواب نہ ملنے کی صورت میں معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جاسکتا تھا، جو 45 دن میں فیصلہ کرتی۔</p>
<p>مسودے میں کامن ڈیولپمنٹ اور پبلک پراپرٹی پر زیر زمین رائٹ آف وے کو کسی فیس یا چارج سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔ عارضی اوور گراؤنڈ تنصیبات کو بھی چارجز سے مستثنیٰ قرار دینے جبکہ پولز، اسمال سیلز اور ٹیلی کام لائنز جیسی مخصوص تنصیبات کو وفاقی حکومت کے قواعد کے تحت فیس سے استثنیٰ دینے کی تجویز تھی۔</p>
<p>ایک اور اہم تجویز قانونی طور پر رائٹ آف وے ملنے کے بعد بلاجواز مداخلت سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ جائیداد کے مالکان، کامن ڈیولپمنٹ پراپرٹی مینیجرز اور سرکاری اداروں کو رائٹ آف وے کے استعمال میں بلاجواز رکاوٹ ڈالنے یا مداخلت کرنے سے روکا جانا تھا۔ دوسری جانب لائسنس یافتگان کو اپنے کام کے باعث ہونے والے نقصان کی فوری مرمت اور متاثرہ جگہوں کو بحال کرنا لازم قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>مسودے میں مزید تجویز کیا گیا تھا کہ مستقل عمارتوں کو ٹیلی کام کاموں کے لیے عمارت کے مالک یا مجاز شخص کی پیشگی تحریری رضامندی کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکے گا، خواہ رائٹ آف وے پہلے ہی منظور ہوچکا ہو۔</p>
<p>قوانین پر عمل درآمد مؤثر بنانے کے لیے مجوزہ قانون میں ایسے افراد کے لیے جرمانے کی تجویز دی گئی تھی جو جان بوجھ کر کسی لائسنس یافتہ کو قانونی طور پر رائٹ آف وے استعمال کرنے سے روکتے ہیں۔ تنازعات نامزد ڈسٹرکٹ افسر کو بھیجے جانے تھے، جو 45 دن کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا، جبکہ فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر ٹریبونل میں اپیل کی جاسکتی تھی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق حکومت نے بعد ازاں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ شکل میں بل مطلوبہ پالیسی اور ریگولیٹری نتائج فراہم نہیں کر رہا، جس کے باعث اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>بل کی واپسی ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے اہم پیش رفت ہے، کیونکہ رائٹ آف وے اب بھی فائبر، موبائل انفرااسٹرکچر، اسمال سیلز اور دیگر ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی نیٹ ورکس کی تیز رفتار تنصیب میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز طویل عرصے سے واضح، یکساں اور سہولت فراہم کرنے والے رائٹ آف وے نظام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاکہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی تنصیب میں تاخیر، اخراجات اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کیا جاسکے۔</p>
<p>حکومت کے اس فیصلے سے رائٹ آف وے سے متعلق مسائل کے حل اور ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی تنصیب کے لیے قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے کے حوالے سے ایک نئے طریقہ کار کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290533</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Aug 2026 09:37:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/28093615b46f949.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/28093615b46f949.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
